بچے،بچیوں سے بد اخلاقی کے واقعات کیسے روکے جا سکتے ہیں؟

بچے،بچیوں سے بد اخلاقی کے واقعات کیسے روکے جا سکتے ہیں؟

  

(کرائم ایڈیشن)

حاجی ڈاکٹر لیاقت علی

بچوں سے بداخلاقی تشدد  اور قتل کے واقعات  ملک بھر میں پیش آرہے ہیں اور ہر روز بچوں کو اغوا کرنے اور پھر انہیں جنسی بداخلاقی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرکے لاش کا غائب کردینا معمول بنتا جا رہا ہے۔ انتہائی دکھ اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس کے باوجود ہمارے  ملک میں قانون نافذ کرنے والے ادارے شاید اس لیے خاموش ہیں کہ یہ بچے شاید ان کے اپنے بچے نہیں ہیں معاشرے میں جب بھی کوئی جرم تیزی سے پنپ رہا ہوتا ہے تو اس جرم کے پھیلنے اور تیزی سے بڑھنے کے اسباب کی تلاش کرنا اور بروقت ان اسباب کا سد باب کرنا ہی ایک ترقی یافتہ قوم کا شیوہ ہوتا ہے۔ دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں جنسی ہوس کی سب سے بڑی وجہ مادر پدر آزاد معاشرہ، جنسی ویڈیوز اور غلط صحبت اور جہالت ہے، ہمارے مشاہدے میں ہے کہ اس قسم کے جرائم کا ارتکاب کرنے والے اکثر مجرمان غیر تعلیم یافتہ ہی تھے جو ننھے اور معصوم بچوں کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں، اگر والدین اپنے بچوں کی درست خطوط پر تربیت کریں اور کسی بھی فرد سے کوئی چھوٹا موٹا تحفہ یا چیز نہ لینے دیں  اپنے ارد گرد کڑی نظر رکھیں تو میرے خیال میں یہ ناممکن نہیں کہ بچے کسی بھی شخص کے بہلاوے میں آئیں۔

  بچوں کی جدید اور درست انداز میں تربیت ہی اس قسم کے جرائم کی حوصلہ شکنی کر سکتی ہے۔ بچوں کے ساتھ جنسی بد اخلاقی کی سب سے بڑی وجہ ہمارے ملک میں موبائل شاپ پہ موجود فحش مواد کے علاوہ وہ پورن ویب سائٹس ہیں جن کو بلاک کرنا پی ٹی اے کی ذمہ داری ہے۔ بہرحال فحش ویب سائٹس کو فوری طور پر بند کیا جائے کیونکہ میرے خیال میں ذہنی طہارت و پاکیزگی ہی اس جرم سے بچنے کا واحد راستہ ہے جو صرف اس صورت میں ممکن ہے جب حکومت وقت اس طرف توجہ دے تو بات بنے گی  اس وقت ایشیا میں ہر برس 10 لاکھ سے زائد بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ غیرسرکاری تنظیم کی رپورٹ کے مطابق ہمارے ملک میں ہر روز 11 بچے جنسی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ 2017 کی ایک رپورٹ کے مطابق، تناسب کے اعتبار سے زیادہ تر واقعات دیہی علاقوں میں پیش آئے۔

2016 کی ایک رپورٹ کے مطابق بچوں کے خلاف جو بڑے جرائم رپورٹ ہوئے ان میں اغواہ کے 1455 کیس، بداخلاقی کے 502 کیس، بچوں سے بد اخلاقی کے 453، گینگ کے 271 کیس، اجتماعی بد اخلاقی کے 268، جب کہ بد اخلاقی  کی کوشش کے 362 کیس سامنے آئے۔ اسی طرح اس سال کے پہلے چھ ماہ میں کل 1764 کیسز میں سے پنجاب میں 62 فیصد، سندھ میں 28 فیصد، بلوچستان میں 58 فیصد، کے پی کے میں 42 فیصد، کشمیر میں 9 فیصد رجسٹرڈ ہوئے۔ 2017 کے معلوم اعداد و شمار کے مطابق 1441 بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ 15واقعات کو فلمایا گیا، بداخلاقی کے بعد 31فیصد بچوں کو قتل کر دیا گیا۔ 66 فیصد واقعات دیہی جب کہ 34 فیصد شہری علاقوں میں پیش آئے اوراگر ایسے واقعات میں پکڑے جانے والے ملزمان کو سرعام پھانسی کے تختے پر لٹکایا جاتا تو میرا نہیں خیال کہ کوئی درندہ صفت انسان بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی کوشش کرتا

رپورٹ پر نظر پڑتے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہمارا مستقبل، ہمارے بچے کتنے بڑے خطرے سے دوچار ہیں۔ بچوں سے بد اخلاقی، تشدد، بداخلاقی کیسز میں مسلسل اضافہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ حکومت کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون بنا کر سخت ترین سزا کا اجرا کرنا ہوگا۔ زینب، اسما جیسے واقعات صرف سخت ترین سزا سے روکے جا سکتے ہیں۔ عبرتناک طریقہ سے سرِ عام پھانسی، سرِ عام قتل کرنا جس کی ایک صورت ہو سکتی ہے۔ قطع نظر اس سے کہ معاشرے پر اس کے مضر اثرات مرتب ہوں گے۔ ہاں البتہ مثبت اثرات ضرور مرتب ہوں گے۔ یہ سزا وحشیانہ اس وقت لگتی ہے جب مجرم کی نفسیات سے دیکھا جائے۔ معاشرے کے حوالے سے نہیں۔ قانون کا خوف جرم کے سدباب کا واحد ذریعہ ہے۔ جب وہ فطری، اخلاقی احساس، تعلیم و تربیت اور سماج کے دباؤ سے ماورا ہو جائے۔ ان مراحل کے بعد بھی نہ رکے، تو وہ سخت سزا کا مستحق ہے۔

یہ بات بجا ہے کہ ہمارے ہاں اس کی سزا سرِعام پھانسی دینا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب اپنے مفاد کا قانون بن سکتا ہے تو عوام کے مفاد، بچوں کی حفاظت کے اقدامات، مجرم کے لیے سخت سزا کا قانون کیوں نہیں بن سکتا؟ ساتھ ہی دیگر محرکات پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے واقعات میں وہ لوگ ملوث ہوتے ہیں جو بچپن میں جنسی تشدد کا نشانہ بنے ہوں۔ ساتھ ہی پورن ویب سائٹس دیکھنا بھی محرکات میں داخل ہے۔ والدین کا کردار یہاں بہت زیادہ اہم ہے۔ اب وقت ہے کہ والدین اپنی اولاد کی تربیت کریں۔ انہیں زیادہ وقت دیں۔ ان سے دوریاں ختم کر کے دوستی کے رشتے کو پروان چڑھائیں۔ تاکہ کوئی تیسرا اس تعلق میں نہ گھس سکے۔ ان کے ہر عمل پر آپ کی نظر ہو، ان کی اٹھک، بیٹھک نظر میں رہے۔ ان سے ملنے جلنے والوں پر نظر رکھیں۔ کسی پر بھی اندھا اعتماد نہ کریں۔ بہت سے کیسز میں قریبی رشتہ دار، محلے دار، جاننے والے ہی ملوث پائے گئے۔ بچوں کی بات پر توجہ دیں۔ وہ اگر کسی ایسی بات، یا کسی کی کسی حرکت کی آپ سے شکایت کریں تو آپ چپ رہنے یا نظر انداز کرنے یا الٹا بچے کو ڈانٹنے کی بجائے ایکشن لیں چاہے وہ کوئی بھی کیوں نہ ہو۔ یہ آپ کا حق ہے۔ اور اگر آپ ایکشن نہیں لیں گے تو آپ بھی مجرم ہوں گے۔بچوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں تا کہ وہ ایسے کسی واقعے کا نشانہ بننے سے بچ سکیں۔ انہیں ابتدائی تعلیم سے آگاہی دیں۔ انہیں حفاظتی تدابیر سے روشناس کروائیں، تاکہ وہ کسی کے بھی لالچ میں نہ آ سکیں۔ کیوں کہ اکثر واقعات میں بچے کو کسی چیز کا لالچ دے کر، گھمانے پھرانے کا لالچ دے کر پھانسا جاتا ہے۔ آج اگر ہم اپنے معالج خود نہیں بنیں گے۔ تو بعد میں بغیر پچھتاوے کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ بقایا ہم تو صرف صبر کے گھونٹ ہی بھر کر آنسو ہی بہا سکتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا میں کسی بھی قوم کا صبر ضائع نہیں جاتا۔ معلوم نہیں ہمارے ہاں صبر کے نتیجے کا وقت کب آئے گا؟ لیکن بہرحال بہتری کا خواب تو دیکھ سکتے ہیں۔ اور اللہ سے امید بھی لگا سکتے ہیں کہ وہ واحد ذات ہے جو ناممکنات کو ممکنات سے بدل سکتا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -