اپوزیشن، حکومت آمنے سامنے

اپوزیشن، حکومت آمنے سامنے
اپوزیشن، حکومت آمنے سامنے

  

حکومت مخالف گیارہ جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے حکومت کے پاؤں تلے سے زمین سرکا دی اور حکومت نے انتقام میں اپوزیشن کی تحریک دبانے کے لئے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات کے اندراج اور لیڈروں کو ان کی رہائش گاہوں کے تالے توڑ کر، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر کے گرفتار کیا، سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت کی مداخلت پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہمانوں کی عزت سے زیادہ حکومت عزیز نہیں، کراچی میں جو کچھ وفاقی حکومت نے پولیس پر دباؤ ڈال کر کروایا،اس سارے معاملے کی انکوائری ہو گی، پولیس کو مکمل تحفظ دیا جائے گا سندھ حکومت اپنی پولیس فورس کے ساتھ کھڑی ہے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے پریس کانفرنس میں مطالبہ کرنے پر چیف آف آرمی سٹاف نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کور کمانڈر کراچی سے انکوائری کر کے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے کہا جا رہا ہے کہ وفاقی وزیر علی زیدی ساری رات پولیس پر دباؤ ڈالتے رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے تا حیات قائد، سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے داماد کیپٹن(ر) صفدر اور ان کے دیگر ساتھیوں کے خلاف بانی پاکستان کے مزار پر نعرے بازی  کے الزام میں مقدمہ درج کر کے انہیں فوری طور پر ہوٹل سے گرفتار کر کے تھانہ کی حوالات میں بند کرے وزیر موصوف اس کام کے لئے متعلقہ تھانے میں بیٹھے رہے سندھ پولیس کے سربراہ کو ان کی رہائش گاہ سے زبردستی لے جایا گیا اور پریشر ڈال کر مقدمہ کا اندراج اور سندھ حکومت کے مہمان کی انتہائی ذلت آمیز گرفتاری کرائی گئی اس واقعہ میں حکومتی مداخلت کا واحد مقصد پی ڈی ایم میں شریک دو بڑی سیاسی جماعتوں میں دراڑ پیدا کر کے اتحاد کو کمزور کرنے کے سوا کچھ نہیں تھا لیکن حکومت کا منصوبہ اس کے اپنے گلے پڑتا دکھائی دیتا ہے پی ڈی ایم کے گوجرانوالہ کے جلسہ عام کا اہتمام کرنے والی انتظامیہ کے سربراہ خرم دستگیر، ایم این اے محمود بشیر ورک، سٹی صدر مسلم لیگ (ن) سلمان خالد بٹ سمیت ایک سو افراد کے خلاف جلسہ عام میں ایس او پیز کی خلاف ورزی اور سڑکیں بلاک کرنے کا مقدمہ درج ہوا ہے ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ جلسہ کی انتظامیہ نے تحریری معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹریفک پولیس کی جانب سے دیئے ہوئے روٹس کے باوجود سڑکیں بلاک کر کے شہریوں کو پریشان کیا مقدمہ کی ایف آئی آر درج کر کے سیل کر دی گئی ہے تاکہ ملزمان کو ضمانت کرانے سے پہلے گرفتار کر لیا جائے۔

اب کراچی میں اپوزیشن کے بڑے اور کامیاب جلسے کے بعد مقدمے کے اندراج اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی بھونڈے اور توہین آمیز انداز میں گرفتاری سے ظاہر ہو گیا ہے کہ حکومت بوکھلاہٹ میں وقت سے پہلے گرفتاریوں کا سیزن لے آئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے پارٹی رہنما اور کارکنوں کو تیار رہنے کا اشارہ دے دیا ہے تحریک کا تیسرا جلسہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں  ہو گیا ہے۔مقدمات کے اندراج کا سلسلہ اسی طرح رہا تو سیاسی جماعتوں کی اس تحریک کو ایندھن ملے گا تحریک، جلسے، جلوسوں میں تیزی آئے گی لوگ زیادہ سے زیادہ احتجاجی مارچ اور اسلام آباد دھرنے میں شرکت کریں گے۔ عمران خان ایک جماعت کے ساتھ جلسے اور دھرنے دے رہے تھے اور 126 دنوں کے دھرنوں کے دوران اپنی تقریروں میں امپائر کی انگلی کھڑی ہونے کا اعلان کرتے کرتے تھک ہار کر دھرنا سمیٹ کر گھر چلے گئے تھے اب عمران خان کی حکومت کے خلاف ملک کی گیارہ جماعتوں کا اتحاد بن چکا ہے جس میں چاروں صوبوں کی سیاسی جماعتیں سردھڑ کی بازی لگا رہی ہیں، مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے پاس عوامی مینڈیٹ تھا اس نے مقررہ مدت پانچ سال حکومت کی، پیپلزپارٹی کے پاس عوامی مینڈیٹ تھا، حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) نے اختلاف رائے رکھتے ہوئے پیپلزپارٹی کو پانچ سال حکومت کرنے کا موقع دیا تھا جب ملک میں انصاف نہ رہے قانون کی حیثیت نہ رہے انصاف میں بھی انتقام نظر آئے تو وہ ملک نہیں چلتا اور نہ ہی برسر اقتدار جماعت اپنے پانچ سال پورے کرتی ہے تحریک انصاف کی حکومت ملک میں آٹے، چینی، بجلی، سوئی گیس، پٹرول، کھانے پینے کی اشیاء حتٰی کہ ادویات کی قیمتوں میں ایک ماہ میں دو بار ہونے والے اضافے پر قابو نہیں پا سکی اور اپنے وعدے کے مطابق عوام کو رہائش کے لئے گھر اور ملازمتیں دینے میں ناکام رہی ہے دو سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے این آر او نہیں دوں گا اور کرپشن کے پیسے وصول کر کے خزانے میں جمع کروں گا ایک پائی کی ریکوری نہیں ہوئی بلا وجہ کروڑوں روپے کے اخراجات کئے جا رہے ہیں محکموں اور عدالتوں کا وقت ضائع کیا جا رہا ہے اس صورت حال میں عوام سڑکوں پر ہی آئیں گے اور حکومت کے خلاف مزار قائد پر نعرے بھی لگائیں گے اور قائد کو بتائیں گے بھی کہ اے قائد اعظمؒ! موجودہ حکمرانوں نے پاکستان کو تیرا پاکستان بنانے اور جھوٹے وعدے کر کے ہم سے ووٹ لئے ہیں اب مخلوق خدا ان سے تنگ آ گئی ہے ہم ان حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں ہم جیل جانے کو تیار ہیں، ہم کو یہ حکمران قبول نہیں کیا برا کہا ہے عوام اور عوام کے نمائندوں نے؟

مزید :

رائے -کالم -