کشتی میں سوراخ

کشتی میں سوراخ
کشتی میں سوراخ

  

سپریم کورٹ نے قاضی فائز عیسیٰ کیس کے تفصیلی فیصلہ میں کہا ہے کہ ان کے خلاف کیس میں ”سوراخ“ ہیں۔اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ریفرنس بھیجتے ہوئے فہم و فراست کا استعمال نہیں کیا اور ایک غیر قانونی ریفرنس بھیج دیا۔اس فیصلہ نے صدرِمملکت کی حیثیت متنازعہ کر دی ہے۔ یہ وہی ہیں جو حکومت میں آنے سے پہلے انتظار کرتے تھے کہ کہیں بارش کا پانی اکٹھا ہو تو وہ وہاں اپنی ربڑ کی کشتی لے کر پہنچ جائیں۔ دو تین سال ان کی ربڑ کی کشتی کا خوب  چرچا رہا۔ایک دوست کہنے لگے کہ جسٹس فائز عیسی کیس کے فیصلے نے عمران خان حکومت کی کشتی میں بڑا سوراخ کر دیا ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ سپریم کورٹ پر کیا گیا وار ناکام ہو گیا ہے اور اب اخلاقی طور پر صدر عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان، وزیر قانون فروغ نسیم اور ARU کے سربراہ مرزا شہزاد اکبر کو استعفیٰ دینا چاہئے۔ اگر یہ فیصلہ کسی اور ملک میں آیا ہوتا تو حکومت چوبیس گھنٹے سے پہلے خود ہی گھر چلی جاتی۔ میں نے کہا کہ میں آپ کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں، لیکن کوئی استعفیٰ نہیں آئے گا، کیونکہ ہمارے یہاں اخلاقی بنیادوں پر استعفی دینے کا رواج ہی نہیں ہے۔ ماضی میں بھی حکومتوں نے اخلاقی جواز کھوئے، لیکن وہ اس وقت تک اقتدار سے چمٹی رہیں جب تک انہیں باہر نہیں نکالا گیا۔ ہمارے ملک کی تاریخ سول اور ملٹری حکومتوں کی کھچڑی ہے، فوجی حکومتوں کا نہ تو اخلاقی جواز ہوتا ہے اور نہ آئینی یا قانونی، لیکن کئی فوجی حکمران دس دس سال  تک حکومت کرتے رہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گذرتا جب وزیراعظم عمران خان’ایک صفحہ‘ والا بیان نہ دیتے ہوں۔

یہاں تک وہ اپنی حکومت کو اعلانیہ ’ہائبرڈ‘ کہتے ہیں۔ اس کا  آسان ترجمہ ”چوں چوں کا مربہ“ ہے۔ ہمارے کچھ دوستوں کے نزدیک ’ہائبرڈ‘ کی اصطلاح غیر اعلانیہ مارشل لاء کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ بہر حال پاکستان کے آئین میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے کہ حکومتی معاملات کسی”اور“ کی مدد سے چلائے جائیں۔ ملک کا چیف ایگزیکٹو وزیر اعظم ہوتا ہے۔ اسے با اختیار ہونا چاہئے، لیکن اگر وہ اپنے اختیارات اپنے تئیں استعمال نہیں کر تا تو اس میں کسی اور کا نہیں،بلکہ اس کا اپنا قصور ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے صدر فضل الٰہی چودھری کی طرح کسی دن کوئی دل جلا وزیراعظم ہاؤس کی دیوار پر ”وزیراعظم عمران خان کو رہا کرو“ لکھ جائے۔جب متحدہ اپوزیشن کے جلسے شروع ہوئے تو شروع میں وزیراعظم نے تابڑ تابڑ توڑ حملے کرنے شروع کئے، لیکن کراچی میں سندھ کے آئی جی کے مبینہ ’اغوا‘ کے بعد جب درجنوں پولیس افسران نے رخصت پر جانے کی درخواستیں دینا شروع کر دیں تو اس کے بعد وزیراعظم کو چپ سی لگ گئی اور ہر وقت موقع بے موقع بولنے سے وقتی کنارہ کشی اختیار کر لی۔

جسٹس فائز عیسیٰ کیس کے فیصلہ نے وزیراعظم کو مزید چپ کر دیا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن اپنا دباؤ بڑھاتی جا رہی ہے اور میاں نواز شریف پی ڈی ایم کے جلسوں میں انتہائی جارحانہ تقریریں کر رہے جو ایوانوں کے در ودیوار ہلا ہلا دے رہی ہیں۔ موجودہ سیاسی طور پر بحرانی صورتِ حال نے مریم نواز شریف کو بڑے قومی لیڈروں کی صف میں شامل کر دیا ہے۔ لوگ لاکھوں کی تعداد میں انہیں سننے کے لئے جلسہ گاہوں کا رخ کر رہے ہیں۔ اگرچہ گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسوں میں شریک ہونے والوں کی تعداد بھی ہزاروں یا لاکھوں میں تھی، لیکن ٹیکنالوجی کے اس دور میں لائیو سٹریمنگ کی وجہ سے کئی ملین لوگ یہ تقریریں آن لائن دیکھ رہے ہیں۔ گوجرانوالہ میں میاں صاحب کی تقریر صرف ان کے اپنے آن لائین اکاؤنٹ سے براہِ راست سننے والوں کی تعداد 19 لاکھ سے اوپر تھی، دوسرے کئی اور اکاؤنٹ اس کے علاوہ تھے،جہاں لاکھوں لوگوں نے تقریر لائیو سنی۔ ہمارے یہاں روائتی طور پر جلسوں میں شریک ہونے والوں کی تعداد کا تخمینہ لگایا جاتا ہے، اب اس میں لائیو سٹریمنگ والوں کو بھی شامل کرنا چاہئے، کیونکہ اس ذریعہ سے پیغام گھرگھر اور لوگوں کے دلوں میں پہنچ رہا ہوتا ہے۔ 

عمران خان حکومت کی کشتی میں سوراخ صرف جسٹس فائز عیسیٰ کیس  کے فیصلہ،کراچی آئی جی کے واقعہ اور اپوزیشن کے جہازی سائز جلسوں سے ہی نہیں ہوئے،بلکہ عوام کے لئے نا قابل برداشت مہنگائی اور ہر مہینے لاکھوں لوگوں کے روزگار چھن جانے سے اس سے بھی بڑے سوراخ ہو رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ حکومت اور وزیر اعظم کے پاس مہنگائی کو کنٹرول کرنے کا نہ تو کوئی منصوبہ ہے اور نہ ہی اہلیت۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ ایک ہفتہ میں مہنگائی ختم کرکے دکھائیں گے۔ ان کی باتوں کو عوام سنجیدگی سے نہیں لیتے، کیونکہ اس طرح کے بیانات تو وہ آئے دن دیتے ہی رہتے ہیں، جن پر عمل کرنے کے لئے ان کی پاس کوئی منصوبہ نہیں ہوتا۔ ایک کروڑ نوکریوں، پچاس لاکھ گھر، بیرون ملک سے دو سو ارب ڈالروں کی واپسی‘ جیسے وعدے جھوٹے ثابت ہو چکے ہیں۔ سب کو یاد ہے کہ کرپشن کو 90 دن میں ختم کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا جو ان سوا دو سال میں کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ چکی ہے۔

اگر 90 دن میں ختم ہونا ہوتی تو خیبرپختونخوا میں تو کئی سال پہلے ہی ختم ہو چکی ہوتی جہاں ساڑھے سات سال سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ وہاں تو احتساب کمیشن ہی ختم اور اس کے سربراہ جنرل حامد خان کو فارغ کر دیا گیا تھا۔ عوام کا موجودہ حکومت پر سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے، کیونکہ مہنگائی کنٹرول کرنے لئے ٹائیگر فورس استعمال کرنے کی بات کی جاتی ہے۔ ظاہر ہے نہ تو یہ ٹائیگر فورس کے بس کا کام ہے اور نہ ہی ان کا قانونی، آئینی یا اخلاقی طور پر کوئی سٹیٹس ہے۔ مہنگائی انتظامی مشینری کو مضبوط کرنے سے ختم ہو گی، ناکہ چند دِنوں کے لئے عوام کو لالی پاپ دینے سے۔ وزیراعظم عمران خان نے فرانس کی ملکہ میری کے بارے میں پڑھ رکھا ہو گا اِس لئے انہیں سمجھنا چاہئے کہ اگر وہ مہنگائی اور بیروزگاری جیسے بڑے سوراخ بند نہیں کر پاتے تو حکومت کی کشتی کو ڈبونے کے لئے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ عوام کے پیٹ کا دوزخ ’ایک صفحہ‘ والے بیانیہ سے نہیں، بلکہ روٹی اور روزگار سے بھرے گا۔ 

مزید :

رائے -کالم -