سروں پر سوار اختیارات کے ارتکاز کی دُھن

سروں پر سوار اختیارات کے ارتکاز کی دُھن
سروں پر سوار اختیارات کے ارتکاز کی دُھن

  

قارئین کرام! زندگی بھر جو کچھ بھی لکھا ہے تھوڑا یا زیادہ اس بحث سے قطع نظر مجھے اطمینان قلب ہے کہ و اپنی سوچ اور کنوکشن کے تحت لکھا ہے۔ ایسا ہر گز نہیں ہوا کہ قلم تو میرا ہو،لیکن قرطاس پر خیالات کسی اور کے ہوں اور یہ بھی ایک جوہری حقیقت ہے کہ ہمارے قائد کے بعد پولیٹیکل کلاس کے کسی بھی اعلیٰ و ادنیٰ فرد نے متاثر نہیں کیا۔ شاید اس کی ایک بڑ ی وجہ اربابِ بست و کشاد کی حتی الامکان کوشش اور سعی تمام تر اختیارات کا ارتکاز اپنی اپنی ذات میں کرنے کی دھن کا سر پر سوار ہونا ہے۔ نہ صرف یہ، بلکہ قومی خزانے پر اپنا حق تصرف بھی شیرِ مادر سمجھا ہے اور قوم کی اس عظیم امانت (خزانے) کو بھی خوانِ  نعمت ہی تصور کیا ہے۔ میں نے اوپر پولیٹیکل کلاس سے کبھی متاثر نہ ہونے کا جو ذکر کیا ہے۔ اس کی وجوہات سے انکارکی گنجائش نہیں۔  ملک غلام محمد  ایک بیوروکریٹ تھے۔ ہر چیز پر غلبہ  ان کی بنیادی تربیت تھا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان آئے تو انہوں نے EBDO لگا کر پوری پولیٹیکل کلاس کو گھروں میں بھیج دیا ان کے عہد اقتدار میں صنعت وحرفت کو فروغ ضرور حاصل ہوا،مگر بد قسمتی سے بنیادی انسانی حقوق معطل ہونے کے باعث ملکی و قومی ترقی کا عمل معکوس ہو گیا۔ صدر یحییٰ خان کے مشاغل کی نوعیت ہی یکسر مختلف تھی۔ قائد عوام کی شکل میں سیاسی افق پر ذوالفقار علی بھٹو نمودار ہوئے تو قوم نے انہیں بلاشبہ اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہوئے عزت دی، لیکن بد قسمتی یہ ہوئی کہ بھٹو صاحب ذہین و فطین اور لائق ہونے کے باوجود اور طاقت کا سرچشمہ عوام کو گرداننے کے با وصف سیاسی لوگوں کی جاسوسی پر اپنا وقت ضائع کرنے لگے۔

وہ مخالفین تو ایک طر ف اپنی ہی پارٹی اور جماعت کے سرکردہ اور سر گرم رہنماؤں کی فائلیں بنانے میں لگ گئے مقصد محض اس کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ وہ بھٹو صاحب پر ہی انحصار کریں کسی اور طرف نہ دیکھ سکیں اور انہی کے زیر نگیں رہیں۔ وہ قوم کے منتخب کردہ نمائندوں کی بجائے خفیہ اداروں پر انحصار کر بیٹھے،بلکہ اداروں کے بالمقابل فیڈرل سیکیورٹی فورس کا ادارہ ایک بیوروکریٹ مسعود محمود کی نگرانی میں تشکیل دے دیا۔ سینئر ترین جرنیلوں کے مقابلے پر جنرل ضیاء الحق جیسے جونیئر موسٹ جرنیل کوپاک فوج کی کمان سونپنا ما سوائے اس کے کچھ نہیں تھا کہ جنرل ضیاء الحق ان کے ممنون احسان رہیں گے اور بھٹو صاحب کے اختیار کردہ کسی بھی طرز عمل سے صرف نظر کرتے رہیں گے اور یوں بھٹو صاحب کے اختیارات و اقتدار کا سورج بھی گہنائے گا نہیں۔ بھٹو صاحب اپنے اختیار کردہ بر خود غلط رویوں کے باعث نہ صرف 90 ہزار قیدیوں کی با عزت واپسی کا کریڈٹ ضائع کر بیٹھے، بلکہ اسلامی سمٹ کا انعقاد بھی اور اسی طرح ایٹم بم جیسے عظیم کارنامے کا خراج بھی پوری طرح وصو ل نہ کرسکے، لیکن ضیاء الحق موقع کی تلاش میں تھے اور جونہی(پانچ جولائی 1977 کو) انہیں بساط سیاست لپیٹنے کا  موقع مل گیا، انہوں نے ملک کے ڈیمو کریڈٹ رو ٹس کو جڑوں سمیت اکھاڑڈالا۔ کسی بھی سیاستدان اور حکمران کے مقابلے پر ان کے سر پر بھی اختیارات کے ارتکاز کی دھن بہت زیادہ سوار تھی۔ انہوں نے سیاسی کلاس کی نارسائیوں اور نا اہلیوں کے باعث ساڑھے گیارہ سال تک انتہائی سکون اور اطمینان سے گزارلئے۔

آخری سالوں میں تووہ امیر المومنین بننے کے خبط میں مبتلا ہو گئے۔ محترمہ بینظیر بھٹو منصہ شہود پر آئیں تو انہوں نے پاک فوج کے ادارے کے ساتھ تعلقات بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش تو کی، وقت کے آرمی چیف کو تمغہئ جمہوریت بھی پیش کیا، لیکن ذوالفقار علی بھٹو کی ایک آرمی چیف کے ہاتھوں موت ان کے لئے سوہانِ روح بنی رہی لیکن اس کے پہلو بہ پہلو ان کے قلب و ذہن میں بھی ہر شے پراپنی گرفت کو مضبوط سے مضبوط تر اور ہر چیز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی دھن ہمیشہ سوار رہی۔ وہ کبھی صحافیوں کو دو ٹکے کا صحافی کہتی رہیں اور کبھی ملک کے تمام اخبارات بند کرنے کی دھمکی دیتی رہیں اور کبھی اپوزیشن کے ساتھ ان کی محاذ آرائی پورے عروج پر رہی۔ میاں محمد نواز شریف کا تو خیر اللہ ہی حافظ رہا۔ اپنی ذات میں اختیارات کے ارتکاز کا یہ عالم تھا کہ موصوف بات بات پر استعفیٰ طلب کرنے کے خوگر ہو گئے اور عدالتی عمل مکمل ہونے کی پرواہ کئے بغیر موقع پر افسران کو ہتھکڑیاں لگوانا ان کا معمول بن گیا۔ محض ایک تقریر پر جنرل جہانگیر کرامت کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا گیا، حالانکہ وہ ایک لائق نستعلیق اور بڑے مدبر فوجی افسرتھے۔ یہاں سابق صدر آصف علی زرداری کو یہ کریڈٹ بہر حال دیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے صدر کی ذات کی بجائے پارلیمنٹ کو با اختیار بنایا،لیکن ان کی بعض کمزوریوں سے بھی صرف نظرنہیں کیا جا سکتا۔ تین مرتبہ میاں محمد نواز شریف اور تین ہی مرتبہ پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار کے سنگھاسن پر متمکن ہونے کے باوجود ملک و قوم کے دِل میں گھر بنا جانے والی کوئی بات اور تاثر چھوڑ کرنہیں گئیں اور بالآخر 25 جولائی 2018ء کے قومی انتخابات کے دوران تبدیلی کا دکھایا جانے والا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا بلکہ سراب ہی ثابت ہوا۔

وزیراعظم عمران میں سپورٹس مین سپرٹ بلاشبہ موجود ہے، لیکن بد قسمتی سے ان میں سٹیٹس مین شپ بہر حال دکھائی نہیں دیتی۔ انہیں اپنے قریب منتخب نمائندوں اور حلیف سمجھے جانے والے اراکین اسمبلی کے مقابلے پر غیر منتخب لوگوں پر زیادہ اعتماد ہے۔ مہنگائی اوردیگر حساس نوعیت کے معاملات ان کی نظروں سے اوجھل ہیں،جبکہ غیر ثمر آور پراجیکٹس اور منصوبوں پر ان کا وقت ضرور ضائع ہو رہاہے۔ انہیں اپنے وزراء پر ہی اعتماد نہیں۔یہی وجہ ہے کہ انہیں ایک سے زائد مرتبہ کہنا پڑا ہے کہ جو وزرا کام نہیں کرتے، وہ گھر چلے جائیں نیز یہ کہ وزراء مارگلہ کی پہاڑیوں پر لطف ندوز ہونے کی بجائے دفاتر میں بیٹھ کر کام کریں اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ غیر منتخب افراد، یعنی مشیروں پر انحصار کر رہے ہیں۔

تھوک کے حساب سے ان کے مشیران کرام ہیں لیکن کارکردگی ماسوائے اپوزیشن کو رگیدنے،بلکہ اسے رگڑالگانے کے اور کچھ نہیں۔ وزیراعظم اختیارات کے ارتکاز کے اتنے ہی شوقین ہیں جتنے ان کے پیشرو حکمران تھے۔ ملکی و قومی وسائل کے غلط استعمال پر نوٹس انہیں عدالت عظمیٰ دے چکی ہے۔ سب کو جیل میں ڈالنے کی دھمکی وزیر اعظم دے چکے ہیں۔کچھ بھی ہو جائے اپوزیشن سے مفاہمت نہیں ہو گی اگر وزیر اعظم کا اعلان ہے تو موجودہ محاذ آرائی کو اقتدار کی نہیں آزادی کی لڑائی اپوزیشن بھی کہہ چکی ہے اور یہ دونوں نقطہئ ہائے نظر کسی طور ملک و قوم کے حق میں نہیں،بلکہ اس سے محض یہی ظاہر ہوتاہے کہ اقتدار کی رسہ کشی کے مقابلے میں نہ حکمران پیچھے ہیں او ر نہ ان کے حریف۔وزیراعظم کو تو شاید اس حقیقت کا بھی ادراک نہیں کہ اگر کوئی شخص کرپشن کرتابھی ہے تو اس نیت سے نہیں کرتا کہ وہ اسے واپس بھی کر دے گا۔

مزید :

رائے -کالم -