حکومتی وزراء ہم آواز، مریم نواز مریم نواز

حکومتی وزراء ہم آواز، مریم نواز مریم نواز
حکومتی وزراء ہم آواز، مریم نواز مریم نواز

  

یوں لگتا ہے حکومت کے وفاقی و صوبائی وزراء مریم نواز کو ملک کی سب سے بڑی لیڈر بنا کر رہیں گے۔بلاول بھٹو زرداری بھی تقریباً روزانہ ہی حکومت اور وزیراعظم پر تابڑ توڑ حملے کرتے ہیں، مگر اُن کی طرف یہ وزراء توجہ ہی نہیں دیتے اور سارا زور مریم نواز کے خلاف تنقید و طنز کے نشتر برسانے میں صرف کر دیتے ہیں۔وزراء کا بس نہیں چلتا کہ مریم نواز کے بارے میں سخت زبان استعمال کرتے ہوئے تمام حدیں پار کر جائیں، تاہم اُن کا لب و لہجہ یہی بتاتا ہے کہ اب وہ صبر اور شائستگی کا دامن  بس چھوڑنا ہی چاہتے ہیں۔ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ لیڈر بنانے کی فیکٹری اسی طرح کام کرتی ہے۔ ایک زمانے میں نواز شریف کو بھی قومی سطح کا لیڈر اسی طرح بنایا گیا تھا، جب پیپلزپارٹی بے نظیر بھٹو کے مقابلے میں پنجاب کے وزیراعلیٰ نواز شریف کو اپنا حریف سمجھ بیٹھی تھی، پھر سب نے دیکھا کہ اگلے انتخابات میں نواز شریف وزیراعلیٰ سے وزیراعظم بن گئے اور مرکز کی وہ لیڈر شپ جس پر صرف بے نظیر بھٹو کا راج تھا،اُس کے دعویدار نواز شریف بھی ٹھہرے اور پھر یہ مقابلہ چلتا رہا۔ آج وفاقی و صوبائی وزراء بڑی شدو مد سے مریم نواز کو عمران خان کے مقابل لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اُن کی ہر پریس کانفرنس، ہر بیان مریم نواز سے شروع ہو کر انہی پر ختم ہو جاتا ہے۔باقی ساری اپوزیشن، ساری لیڈر شپ پس منظر میں چلی گئی ہے اور مریم نواز سامنے آ کھڑی ہوئی ہیں۔ اس میں نقصان کس کا ہے؟ کیا وفاقی وزراء کے اس یک نکاتی بیانیہ میں کوئی جان ہے کہ مریم نواز چور باپ کی بیٹی اور قومی اداروں کی دشمن ہیں۔اِس قسم کی باتوں سے پاکستان میں سیاسی لوگ مرتے نہیں، بلکہ ابھرتے ہیں۔جب حکومت دن رات مریم نواز مریم نواز کی گردن کرے گی تو مریم نواز کو خود کچھ کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔

غور کیا جائے تو مریم نواز اپنے سیاسی پتے بڑی مہارت سے کھیل رہی ہیں۔ جب سے انہوں نے اپنی خاموشی توڑی ہے اور میدان میں نکلی ہیں، ایک ہلچل سی مچی ہوئی ہے۔ یہ ہلچل کچھ زیادہ اس لئے محسوس ہو رہی ہے کہ حکومتی سطح پر مریم نواز کو ہدف بنا لیا گیا ہے۔گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسوں میں تقریریں، کراچی میں صفدر اعوان کی گرفتاری کے معاملے اور بعدازاں میڈیا پر حکومتی ترجمانوں اور مریم نواز کے جواب الجواب ”وار“ گویا ایک سیاسی ماحول بنا گئے ہیں،جس کا فائدہ سرا سر  اپوزیشن کو بالعموم اور مریم نواز کو بالخصوص ہو رہا ہے۔پھر کوئٹہ جانے سے ایک روز پہلے مریم نواز لاہور میں بلوچی طلبہ کے احتجاجی کیمپ میں پہنچ گئیں۔یہ بڑی دانشمندانہ حکمت ِ عملی تھی۔ سب حیران تھے کہ مریم نواز تمام تر سیکیورٹی خدشات کو بالائے طاق رکھ کر طلبہ کے کیمپ میں کیسے پہنچ گئیں؟ غالباً وہ جانتی تھیں کہ بلوچستان دورے کے حوالے سے اس کی کتنی زیادہ اہمیت ہے؟ انہوں نے بلوچی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے گویا بلوچستان کے عوام کو یہ پیغام دیا کہ وہ اُن کی مشکلات کو سمجھتی ہیں اور اُن کے ساتھ کھڑی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ ایک روز بعد کوئٹہ پہنچیں تو اُن کا والہانہ استقبال بھی ہوا اور اُن کے اس جذبے کی تعریف بھی  ہوئی جو انہوں نے لاہور کے کیمپ میں جا کر بلوچ طالب علموں کے لئے ظاہر کیا۔یہ باتیں درحقیقت اُس مخالفانہ پروپیگنڈے کا توڑ ہیں، جو حکومتی کیمپوں کی طرف سے کیا جا رہا ہے،مگر یہ باریک نکتہ شاید جوش ِ تنقید میں مبتلا کپتان کے وزراء کو سمجھ نہیں آ رہا۔

اتنی بار مریم نواز کا بیان ٹی وی پر نہیں چلتا جتنی بار حکومتی وزراء کی مریم نواز کے تذکرے پر مبنی پریس کانفرنسیں دکھائی جاتی ہیں۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا مریم نواز کے ہر بیان کا جواب دینا ضروری ہے؟اگر ایسا کرنا ضروری ہے تو پھر اس کا اصل میں فائدہ کسے ہو رہا ہے؟……ارے بابا یہ پاکستان ہے،یہاں الزامات اور مخالفانہ بیانات سے نہ تو  کسی کی سیاست ختم ہو سکتی ہے اور نہ عوام کو سو فیصد کسی شخصیت سے بدظن کیا جا سکتا ہے۔ مریم نواز کا استقبال بھی ہر جگہ ہو رہا ہے اور اُن کی بات بھی سنی جا رہی ہے، پھر اس پروپیگنڈے کا کیا فائدہ ہے جو صبح و شام مریم نواز کے خلاف کیا جاتا ہے؟ حکومتی وزراء تو خود ایسا ماحول بنا رہے ہیں، جیسے حکومت گرنے والی ہے اور گرا بھی مریم نواز رہی ہیں۔ اگر بلاول بھٹو کے بیانات اور تقریروں سے کوئی خطرہ نہیں تو مریم نواز کے بیانات سے کیا ہو سکتا ہے؟مگر یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ پوری حکومت مریم نواز کے خبط میں مبتلا ہو چکی ہے۔جہاں سیاسی پولرائزیشن آسمان کو چھو رہی ہو وہاں،جو جس کے ساتھ کھڑا ہے، ایک انچ پیچھے نہیں ہٹتا، چاہے، ثبوتوں کے انبار بھی لگا دیئے جائیں۔حکومتی وزراء اور ترجمان اگر یہ سمجھتے ہیں کہ اُن کی پریس کانفرنسوں اور بیانات سے مریم نواز کے حامی اُن کا ساتھ چھوڑ جائیں گے تو یہ اُن کی خام خیالی ہے، اُلٹا وہ اپنے مصالحہ دار بیانات سے مریم نواز کی مقبولیت میں اضافہ کر رہے ہیں،خاص طور پر ایک بڑے اپوزیشن لیڈر کے طور پر اُن کی ساکھ بنتی جا رہی ہے۔

اِس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف اور مریم نواز کا بیانیہ بعض حوالوں سے بہت سخت ہو جاتا ہے اور اُس کی حمایت ممکن نہیں،تاہم اس کا فیصلہ خود عوام کر سکتے ہیں،جو اتنے باشعور ضرور ہیں کہ قومی مفاد اور نقصان کی حد بندی کو سمجھ سکیں،مگر جب بات سیاسی مخالفت کے تناظر میں کی جاتی ہے تو اس کا اثر اتنا نہیں ہوتا کہ کسی لیڈر کے خلاف اُس کے حامیوں کی ذہن سازی کر سکے۔ حکومت اور اُس کے وزراء کو ٹھنڈے دِل و دماغ سے اِس بات کا تجزیہ کرنا چاہئے کہ مریم نواز کے خلاف اُن کی پروپیگنڈہ مہم جوئی سیاسی کشیدگی اور مریم نواز کی مقبولیت کو بڑھا رہی ہے یا کم کر رہی ہے؟میرے نزدیک تو سیاسی کشیدگی اور مریم نواز کی مقبولیت کا گراف اوپر ہی جا رہا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -