کیا واقعی ’شکم‘ سامانِ موت ہے؟

کیا واقعی ’شکم‘ سامانِ موت ہے؟
کیا واقعی ’شکم‘ سامانِ موت ہے؟

  

جس طرح فوج، بقولِ نپولین بونا پارٹ، اپنے پیٹ کے بل چلتی ہے  اسی طرح معاشرہ بھی اپنے پیٹ کے بل پر ہی چلتا ہے۔ میڈیا بھی چونکہ ریاست کا ایک اہم رکن بن چکا ہے، اس لئے وہ بھی اپنے پیٹ کا محتاج ہے۔ حضرت علامہ کی بعض باتوں سے بآسانی اختلاف کی گنجائش موجود ہے۔ ان کا یہ مصرعہ: ”دل کی آزادی شہنشاہی شکم سامانِ موت“بھی اسی ذیل میں شمار ہوتا ہے۔ کون ہے جو شکم کا محتاج نہیں؟ آج بعض طبقہ ہائے آبادی کے نزدیک اگر عمران خان کی حکومت کو کسی طرف سے کوئی خطرہ ہے تو وہ یہی شکم کی محتاجی ہے جسے عرفِ عام میں مہنگائی کہا جاتا ہے۔ اس محتاجی میں میڈیا بھی شامل ہے۔

میرے نزدیک الیکٹرانک میڈیا زیادہ زود اثر اور تیز مزاج ہے لیکن ساتھ ہی زیادہ فراموش شدنی اور سست طبع بھی ہے…… اسے عوام کے ساتھ چلنا ہوتا ہے…… اور چونکہ عوامی قلوب و اذہان، زود فراموش اور تُنک مزاج ہوتے ہیں اس لئے الیکٹرانک میڈیا وقت کا ساتھ دینے پر مجبور ہوتا ہے۔ نیوز چینلوں کے ٹاک شوز (Shows) وقت کے غلام ہیں۔ جو واقعہ آج ملک میں رونما ہوتا ہے اور اس میں سنسنی خیزی کا تاثر یا جراثیم بھی ہوتے ہیں تو وہ سارے  ’ابلاغی ماحول‘ پر چھا جاتا ہے۔ اس کا دورانیہ ’واقعہ‘ کی اہمیت اور سنسنی خیزی کے حجم کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کا خبرنامہ ہر گھنٹے کے بعد سامعین و ناظرین کے سامنے آتا ہے تو نیوز ریڈر کی قرات کے پس منظر میں جو موسیقی سنوائی جاتی ہے وہ نقّارے کی چوٹ یا ڈھول کی تھاپ ہوتی ہے۔ گویا خبریں نہیں سنائی جا رہیں، منادی ہو رہی ہوتی ہے!

اس کے مقابلے میں پرنٹ میڈیا (یا پریس میڈیا) بڑا خاموش منش ہے۔اس میں ڈھول نہیں پیٹے جاتے۔ قاری کسی اخبار کو دیکھتا ہے تو اس کی شہ سرخی، سرخی، ذیلی سرخیاں، ڈیک اور پھر خبر کی تفصیل بالترتیب پہلے قاری کے دماغ میں اترتی ہے اور پھر گویا دل میں بیٹھ جاتی ہے۔ اس کی کیفیت بالکل وہی ہوتی ہے جو اختر انصاری نے ’آبگینے‘ نام کے اپنے قطعات کے مجموعے میں، اس قطعہ میں بیان کی ہے:

محبت ہے اک خوش نما شوخ کانٹا

 جو چبھتا ہے آنکھوں کے پردوں میں پہلے

وہ پھر بیٹھ جاتا ہے دل کی رگوں میں 

خلش اول اور بعد میں درد بن کے 

پریس میڈیا کی خبریں بھی پہلے خلش بن کر آنکھوں میں سماتی یا چبھ جاتی ہیں اور پھر خاموشی سے دل کی رگوں میں اتر جاتی ہیں …… میں اسی لئے الیکٹرانک میڈیا کی خبروں پر پریس میڈیا کی خبروں کو ترجیح دیتا ہوں۔ اخبار کے چیف نیوز ایڈیٹر پر ایک بھاری ذمہ داری یہ بھی عائد ہوتی ہے کہ اس نے اخبار کی ’شہ سرخی‘ کیا لگانی ہے۔ آج  کل تو سرخیوں کی تین اقسام ہو چکی ہیں۔ سپر لیڈ، لیڈ یا  مین لیڈ…… شہ سرخی بالعموم اخبار کے مالک کی صوابدید ہوتی ہے۔

اگلے روز (23اکتوبربروز جمعہ) وزیراعظم عمران خان نے ARY کی ایک ٹیم کو ایک طویل انٹرویو دیا جو تقریباً دو گھنٹوں کے دورانئے کو محیط تھا۔ اس میں زیادہ تر داخلی سیاسی موضوعات پر ڈسکشن ہوئی۔ ڈسکشن تو نہیں کہنا چاہیے ’خودکلامی‘ زیادہ موزوں لفظ ہے۔ انٹرویو لینے والی ٹیم دو صحافیوں پر مشتمل تھی۔ عمران خان کے علاوہ میں نے کبھی کسی دوسرے وزیراعظم کو دو گھنٹے تک داخلی موضوعات پر کسی صحافی ٹیم کے سامنے بات چیت کرتے  دیکھا، نہ سنا۔ 9بجے شب، جب یہ انٹرویو ختم ہوا تو میں نے کاغذ قلم لے کر ان موضوعات کی ایک مختصر سی فہرست بنائی جو میڈیا پر اس انٹرویو کے فوراً بعد ڈسکس کئے جانے تھے۔ پریس میڈیا کو دیکھنے کے لئے البتہ اگلی صبح کا انتظار کرنا تھا لیکن الیکٹرانک میڈیا تو جھٹ منگنی پٹ بیاہ کا دعویدار ہے۔ میں 9بجے سے لے کر رات 12بجے تک تقریباً سارے نیوز چینل کھنگالتا اور اپنے درج شدہ نکات کے ساتھ ٹیلی کرتا رہا۔ آپ بھی شاید میری طرح اس صف میں شامل ہوں گے کہ کون سا چینل اپوزیشن کا دم بھرتا ہے اور کون سا حکومت کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے۔ تین گھنٹے کی اس ایکسرسائز میں، معلوم ہوا کہ میں نے ان چینلوں کی دل ہی دل میں جو گروہی تقسیم کی ہوئی ہے وہ 101%درست ہے…… چنانچہ اپنے کاندھے تھپتھپائے اور سو گیا۔

صبح بیدار ہوا تو میز پر اردو اور انگریزی اخبارات کی فائل پڑی تھی۔ واش روم سے فارغ ہو کر ان پر نگاہ ڈالی تو یقین کیجئے کہ عین مین اپنی توقعات کو صفحاتِ قرطاس پر بکھرا پایا۔ ملک میں انگریزی کے تین بڑے (یا چھوٹے) اخبارات ہیں۔ ڈان، نیوز اور ایکسپریس ٹریبون…… دی نیشن بھی چھپتا ہے لیکن میں اس کو نیٹ (Net) پر دیکھ لیتا ہوں۔ گزشتہ 25برسوں سے ان اخبارات کو دیکھ اور پڑھ رہا ہوں اور اب عالم یہ ہے کہ صرف 15منٹ کے اندر اندر ان کو ’پڑھ‘ کر فارغ ہو جاتا ہوں۔ ادارتی صفحات کے کالم بھی ایک نظر سے گزر کر اپنی تفصیل کا خود پتہ دے دیتے ہیں۔ ان اخبارات کی دوستیاں،دشمنیاں،  محبتیں، نفرتیں، کدورتیں اور ہمدردیاں کس کے ساتھ ہیں، یہ سب راز، مجھ پر آشکار ہو چکے ہیں۔ ان اخبارات کی سرخیاں اور شہ سرخیاں ہواؤں کے رخ کا پتہ دے دیتی ہیں اور یہ بھی بتاتی ہیں کہ انٹرنیشنل میڈیا کے ساتھ ان کے روابط کا اونٹ کس کروٹ بیٹھ رہا ہے اور ادارتی صفحات کے کالموں کی اونٹنی (سانڈنی) اگر نہیں بیٹھی تو اس کی وجہ کیا ہے۔

1……ایک انگریزی اخبار کی بڑی سرخی یہ تھی: ”وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈروں سے ملاقات کو غلطی قرار دیا“…… اسی خبر کو ایک اردو اخبار نے شہ سرخی بنا کر پیش کیا اور لکھا: ”جنرل باجوہ کی اپوزیشن سے ملاقاتیں غلطی!……“

2…… ایک انگریزی اخبار کی سپر لیڈ یہ تھی: ”پاکستان کو فروری تک فیٹف (FATF) کی گرے لسٹ میں رہنا ہوگا“…… اور دوسرے انگریزی اخبار نے اسی خبر کو اس طرح شائع کیا: ”پاکستان نے فیٹف سے ایک اور لائف لائن جیت لی“…… اور اردو اخبار کی سپر لیڈ تھی: ”ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ برقرار“۔

3…… انگریزی اخبار کی سرخی یہ تھی: ”سپریم کورٹ نے عیسیٰ کے خلاف مقدمے میں ”سوارخوں“ (Holes) کی نشاندہی کی“…… دوسرے انگریزی اخبار نے اسی خبر کو اس طرح پیش کیا: ”سپریم کورٹ نے عیسیٰ ریفرنس کو قانون میں بدنیتی کے ساتھ ملا ہوا (Tainted) پایا“……  اور اردو اخبار کی سرخی یہ تھی: ”صدرِ مملکت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس میں موجود نقائص کو سمجھنے میں ناکام رہے“۔

یہ تو  23اکتوبر کی بڑی بڑی خبروں کی گسترش (Layout) تھی جو میں نے آپ کی خدمت میں پیش کی…… اب ذرا اسی روز کے دو بڑے انگریزی اخباروں کے اول و آخر صفحات کی خبریں بھی دیکھ لیں۔ ایک اخبار بتاتا ہے: 

1۔ (شاہ محمود) قریشی کے مطابق انڈیا کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لئے حالات / ماحول سازگار نہیں۔

2۔ NCOC پریشان ہے کہ کووڈ۔19کے کیسوں میں بہت اضافہ ہو رہا ہے۔

3۔ سینیٹ میں CPEC اتھارٹی کا قانونی سٹیٹس ایک سوالیہ نشان  ہے۔

4۔ اپوزیشن کا قومی اسمبلی سے واک آؤٹ…… اس کا موقف ہے کہ معاملات درست طریقے سے نہیں چلائے جا رہے۔

5۔ حکومت نے PDMکو کہا ہے کہ وہ ”تھریٹ“ کے پیش نظر، احتجاجی ریلی کو موخر کر دے۔

آپ ذرا اس بات کو نوٹ کیجئے کہ ان پانچوں خبروں میں جو اول و آخر صفحات پر شائع کی گئی ہیں، پاکستان کی جگ ہنسائی کا پہلو ہویدا ہوتا ہے یا اس کی نیک نامی کا؟

اب اسی روز کے ایک دوسرے بڑے انگریزی اخبار کے صفحات اول و آخر کی بڑی بڑی خبریں بھی ملاحظہ کیجئے۔

1۔فیڈرل حکومت جزیروں (نبڈل وغیرہ) کے آرڈیننس میں ترمیم کرنے پر رضا مند۔

2۔ ترکی نے ایس۔400ائر ڈیفنس سسٹم کا تجربہ / ٹرائل شروع کر دیا۔(رجب اردگان)

3۔ اگر ضرورت ہوئی تو وزیراعظم، برطانیہ میں اپنے ہم منصب کے ساتھ نوازشریف کی واپسی کے بارے میں بات چیت کریں گے۔

4۔ اسرائیل، ایف۔35طیاروں کی امارات کو فروخت کرنے کی مخالفت نہیں کرے گا۔

قارئین گرامی! کالم کی Spaceمانع ہے وگرنہ ان انگریزی اور اردو اخباروں میں شائع ہونے والے کالموں پر بھی تبصرہ کیا جاتا اور بتایا جاتا کہ کس اخبار کی ہمدردیاں کس فریق / بلاک/ ملک/ سیاسی پارٹی کے ساتھ ہیں اور اگر کدورتیں ہیں تو کیا اس کی وجہ وہی ہے جو نپولین نے بیان کی تھی!……

میں سمجھتا ہوں نپولین نے بالکل درست ’فرمایا‘ تھا اور اپنے علامہ اقبال نے ’شکم‘ کو اہمیت نہ دے کر درست ”نہیں فرمایا‘ تھا!

مزید :

رائے -کالم -