کوئٹہ جلسہ،پی ڈی ایم ترجمان میاں  افتخار حسین نے قراردادیں پیش کیں 

    کوئٹہ جلسہ،پی ڈی ایم ترجمان میاں  افتخار حسین نے قراردادیں پیش کیں 

  

کوئٹہ (آن لائن) پاکستان جمہوری تحریک کے مرکزی ترجمان میاں افتخار حسین نے کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے زیراہتمام جلسہ عام میں قراردادیں پیش کیں،قراردادوں میں کہاگیاکہ یہ جلسہ عام کوئٹہ شہر میں موبائل سروس اور انٹرنیٹ سروس کی بندش اور میڈیا کی   آزادی  پر قدغنمذمت کر تا ہے۔یہ جلسہ عام عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اسد خان اچکزئی کی اغواء کی مذمت کرتے ہوئے اس کی فوری بازیابی کا مطالبہ کر تا ہے۔یہ جلسہ عام بلوچستان میں جگہ جگہ سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر عوام کی تذلیل اور تمام چیک پوسٹوں کوختم کرنے کامطالبہ کر تا ہے،قراردادوں میں کہاگیاکہ سندھ اور بلوچستان کے جزائر وفاق کے حوالے کرنا غیرقانونی وغیر آئینی ہے ہم جزائر کو وفاق کے ماتحت کرنے کی مذمت اور مطالبہ کرتے ہیں کہ جزائر کے اختیارات واپس صوبوں کو دی جائے۔یہ جلسہ عام آئین کی حکمرانی،پارلیمنٹ کی بالادستی،جمہوریت کی استحکام کامطالبہ کرتے ہوئے ملک میں مہنگائی،بے روزگاری کاخاتمہ کرنے کامطالبہ کرتی ہے،قراردادوں میں مطالبہ کیاگیاکہ قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس مسترد ہونے کے بعد صدر پاکستان اور وفاقی وزیر قانون کو مستعفی ہوجائیں،پی ڈی ایم کی تحریک نام نہاد وزیراعظم اور ان کی سلیکٹڈ حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گی۔گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسوں سے حکومت کے اوسان خطا ہوگئے ہیں یہی وجہ ہے کہ کوئٹہ کے جلسے کے موقع پر انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کردی گئی ہے۔قراردادوں میں کہاگیاکہ رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو کوئٹہ ائیرپورٹ پر روکنے اورانہیں صوبہ بدر کرنے کی مذمت کرتے ہیں،اے این پی قائدین کوبھی بغیر کسی وجہ کے پانچ گھنٹے تک روکے رکھاجس سے حکومت کی بوکھلاہٹ کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔

قراردادیں 

مزید :

صفحہ اول -