اپوزیشن کا تیسرا کامیاب پاور شو، فارن فنڈنگ میں عمران جیل جائیگا، نواز شریف، کٹھ پتلی وزیراعظم فوج، عدلیہ، پولیس کو بھی ٹائیگر فورس بنانا چاہتے ہیں، بلاول، این آر او اب ہماری نہیں حکمرانوں کی ضرورت ہے، فضل الرحمن، جسٹس قاضی فائز کے خلاف ریفرنس پر حکمران استعفے دیں: مریم نواز

        اپوزیشن کا تیسرا کامیاب پاور شو، فارن فنڈنگ میں عمران جیل جائیگا، ...

  

کوئٹہ (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)گوجرانوالہ اور کراچی کے بعد بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا۔پی ڈی ایم کا جلسہ کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں ہوا جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔جلسہ گاہ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے اپنے مطالبات کے حق میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جب کہ جلسہ گاہ میں لاپتہ افراد کے خاندانوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھا رکھیں تھیں۔اپوزیشن کے جلسے کے موقع پر کوئٹہ میں ایک روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی اور موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کی گئی جب کہ اس دوران موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی بند کی گئی۔دوسری جانب جلسے کے موقع پر شہر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پی ڈی ایم جلسے کے لیے 5000 سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے اور جلسہ گاہ کی ڈرونز کی مدد سے بھی نگرانی کی گئی۔اپوزیشن کے اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جلسہ سے خطاب میں کہنا تھا کہ فرانس اور ڈنمارک نے بڑا جرم کیا ہے، ہم فرانس اور ڈنمارک کوپیغام دیتے ہیں کہ توہین آمیز خاکوں کی سنگین الفاظ کی مذمت کرتے ہیں، ایسے ناپاک اقدامات فوری طور پر روکے جائیں، جب ایسے ناپاک اقدامات ہوں گے تو یاد رکھو ردعمل بھی آئے گا۔ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز اورکیپٹن (ر)صفدر کے ساتھ ہونے والے واقعے کی مذمت کرتاہوں، یہ واقعہ اخلاقی دیوالیہ پن ہے، کہتے ہیں کہ  مزار قائد پر نعرے لگائے تھے، یہ تو جرم ہے، اس پر تو کارروائی کی جاتی ہے لیکن جب لاہور کی مسجد میں فلم بندی ہوئی تو آپ کوحرمت نظرنہیں آتی؟مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ جو حشر پشاور کی بی آر ٹی کا ہوا ہے وہی پورے پاکستان کا ہے، اْس وقت بھی کہا تھا ملک مزید ان کے حوالے نہ کرو، مزید معیشت تباہ ہوگی اور انہوں نے پاکستان کی معیشت تباہ و برباد کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز کے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی قرار پانے کے عدالتی فیصلے کے بعد آپ کے پاس حکومت میں رہنے کا جواز ہی نہیں ہے حکمران استعفا دیں، عدالت عظمیٰ کا فیصلہ واضح طور پر اعلان کررہا ہیکہ پی ڈی ایم کا مؤقف درست ہے، اگر کچھ بھی اخلاقی اقدار موجود ہیں تو وزیراعظم اور صدر کے اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔سربراہ پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ این آر او ہماری نہیں اب تمہاری ضرورت ہوگی، تم نے انصاف کے نام پر لوگوں کو دھوکا دیا اور کہا ایک کروڑنوکریاں دوں گا، 1947 سے آج تک نوکریوں کی تعداد ایک کروڑ نہیں ہوئی تو تم ایک کروڑ نوکریاں کیسے دوگے؟ چرسیوں اور بھنگیوں کی حکومت نہیں چاہیے، ہمیں شریفوں کی حکومت چاہیے، میں آپ کی حکومت کا انکار کرتاہوں، پہلے دن سے آپ کی حکومت کوتسلیم نہیں کیا۔ جعلی حکومت کے خلاف تحریک مزید زور پکڑے گی، اسٹیبلشمنٹ جعلی حکومت کی حمایت چھوڑ دے تو اسے آنکھوں پر بٹھائیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے کوئٹہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم اوراین ایف سی ایورڈ میں تبدیلی نہیں ہونیدیں گے، پی ڈی ایم این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے حصوں میں کوئی کمی تسلیم نہیں کرے گی، کسی نادیدہ قوت کو عوام کے حق پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔انہوں ں ے کہا کہ پہلے بھی کہا تھا کہ ملک ان نااہلوں کے حوالے نہ کرو، جعلی حکمرانوں کے خلاف ہماری تحریک اور زور سے آگے بڑھے گی۔ اس حکومت کے پاس حکمرانی کا قانونی جواز تو پہلے بھی نہیں تھا اور جسٹس فائز عیسی کے ریفرینس کی منسوخی کے فیصلے کے بعد جعلی حکمران اپنا اخلاقی جواز بھی کھو بیٹھے ہیں۔یہ پاکستان کے ایسے مالک ہیں کہ عوام کو جانور سمجھتے ہیں انہوں ں ے کہا کہ جعلی حکمرانوں کے خلاف ہماری تحریک مزید زور پکڑے گی، این آر او کی ضرورت ہمیں نہیں اب انہیں ہے، عمران خان اب کس بنیاد پر کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں؟انہوں ں ے تقریر کے آغاز میں مذمتی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکوں کی اشاعت سے امت مسلمہ کے جذبات مجروح ہوئے، یورپی حکمرانوں کی توہین آمیز رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، فرانس سے سفارتی تعلقات فوری طور پر منسوخ کیے جائیں۔پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا  ہے کہ عمران خان فوج سمیت تمام اداروں کو ٹائیگر فورس بنانا چاہتے ہیں، لیکن ہمارے کارکن ایسا نہیں کرنے دیں گے،پیپلزپارٹی ایک قدم آگے بڑھ کر پی ڈی ایم کاسا اتھ دے گی،پی پی پی جمہوریت کی بحالی سے پیچھے ہٹی تھی اور نہ ہم پی ڈ ایم سے پیچھے ہٹیں گے،یہ کیسی  آزادی ہے جہاں سیاست، صحافت، عدالت اور عوام آزاد نہیں ہیں،عوام غربت،  آزادی، بولنے اور سانس لینے کی  آزادی چاہتے ہیں، آمریت نے بلوچستان کو لاشیں دیں، مشرف نے اپنے شہریوں کو دوسروں کو بیچا، اب مشرف بھگوڑا سرٹیفائیڈ غدار بن چکا ہے،عمران خان سی پیک کو ناکام کرنے کی کوشش کر رہا ہے،لاپتہ افراد کا مسئلہ ظلم ہے، اس ظلم کو ختم ہونا پڑے گا، عوام کو بنیادی حقوق دینا پڑے گا، عوام ہمارا ساتھ دیں تاکہ ہم پاکستان اور پاکستان کے اداروں کو بچا سکیں، آپ کے حقوق اور آزادی بحال کرسکیں،دنیا نے دیکھا مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کے ساتھ بدترین سلوک ہو، عمران خان سندھ پولیس کو بھی اپنی ٹائیگر فورس بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ا پی ڈی ایم جلسے سے بذریعہ  ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ کوئٹہ کے جلسے نے  دکھا دیا کہ پی ڈی ایم ایک طرف ہے اور سلیکٹڈ اور اس کے ساتھی ایک طرف ہے۔پی پی پی جمہوریت کی بحالی سے پیچھے ہٹی تھی اور نہ ہم پی ڈی ایم سے پیچھے ہٹیں گے، بڑی مشکل سے اس کی بنیاد اے پی سی میں رکھی گئی، ہم اگے بڑھنے والے ہیں لیکن پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں ہوں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہونے، گیس اور سونے کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود قسمت میں بدحالی لکھی ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام عزت کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں، عوام غربت،  آزادی، بولنے اور سانس لینے کی  آزادی چاہتے ہیں، یہ کیسی  آزادی ہے جہاں سیاست، صحافت، عدالت اور عوام  آزاد نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج ہم سب ایک اسٹیج پر ہیں اور اب باقیوں کو بھی عوام کے اسٹیج پر آنا پڑے گا ورنہ ان سب کو گھر جانا پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ  آمریت نے بلوچستان کو لاشیں دیں، مشرف نے اپنے شہریوں کو دوسروں کو بیچا، غداری کا سرٹیفکیٹ دینے والا اپنے شہریوں کو بیچ رہا تھا، اب مشرف بھگوڑا سرٹیفائیڈ غدار بن چکا ہے۔پرویز مشرف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس نے اکبر بگٹی کو شہید کیا، بینظیر بھٹو کو شہید کیا لیکن  آج تک اس سے کسی نے نہیں پوچھا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے انصاف پر مبنی این ایف سی دے کر تمام صوبوں کو ان کا حق دیا، آغاز حقوق بلوچستان دیا جس میں آئینی حقوق تھے لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا، جس میں سیاسی قیدیوں کو رہا کرکے سیاسی مسئلے حل کرنے کا موقع ملا۔انہوں نے کہا کہ گوادر اور گلگت بلتستان کی سرحدوں کے بغیر سی پیک نہیں ہوسکتا، سی پیک گیم چینجر کے طور آیا ہے تو ہمیں گوادر اور گلگت بلتستان کے عوام کا شکریہ ادا کرنا چاہیے، کیونکہ یہاں کے عوام کو شکایت ہے کہ انہیں اس منصوبے سے فائدہ نہیں پہنچایا جا رہا ہے۔بلاول نے کہا کہ اگر سی پیک کو کامیاب بنانا ہے تو گوادر اور گلگت بلتستان کے عوام کو مواقع دینے ہوں گے، ہم نے تھر کول منصوبے میں 71 فیصد مقامی لوگ ہیں، 20 فیصد لوگ دیگر صوبوں کے لوگ جبکہ 9 فیصد دیگر لوگوں اور چند غیرملکیوں کو روزگار دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہی ماڈل ہے جو سی پیک مقامی افراد سے جڑ جاتا ہے، اگر اس پر عمل کیا جاتا ہے تو سی پیک کامیاب ہوگا اور ترقی بھی ہوگی ورنہ خطرہ بھی ہوسکتا ہے، عمران خان سی پیک کو ناکام کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بلوچستان کے جزائر پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نہ صرف سی پیک کو ناکام بنانا چاہتا ہے بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی تباہ کر رہا ہے اور تاریخی مہنگائی دی ہے، غریب عوام کہاں جائیں گے، آج غریب عوام اس نااہل، نالائق اور سلیکٹڈ حکومت کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، یہ مارتے بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ دنیا کے کسی ملک میں ایسی مثال ملتی ہے کہ ہر شہر سے عوام کو اغوا ہورہے ہیں، اس پر میڈیا بھی کچھ نہیں بول سکتا، نہ عدلیہ کچھ کرسکتی اور پارلیمان بھی کچھ نہیں کر پارہا، لاپتہ افراد کا مسئلہ ظلم ہے، اس ظلم کو ختم ہونا پڑے گا، عوام کو بنیادی حقوق دینا پڑے گا۔۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اکبر بگٹی اور ذوالفقار بھٹو اور بینظیر بھٹو قتل کیس بھی روزانہ کی بنیاد پر سنے گی، امید ہے کہ آج کی سپریم کورٹ جمہوریت اور عوام کا ساتھ دے گی، ماضی میں ہماری عدلیہ نے آمریت کا ساتھ دیا ہے اب امید ہے عدلیہ انصاف کا ساتھ دیں گے اور ماضی میں جو غلطی کی گئی اب وہ نہیں دہرائی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان پورے پاکستان کو ٹائیگر فورس میں تبدیل کرنا چاہتا ہے لیکن ہمارے کارکن ایسا نہیں کرنے دیں گے۔کوئٹہ میں جلسہ عام سے خطاب میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ  اب عوام کی حاکمیت کا سورج طلوع ہونے کو ہے، ووٹ کو پاؤں تلے روندنے کا سلسلہ بند اور کٹھ پتلیوں کا کھیل اب ختم ہونے کو ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام کو اپنے نمائندے چننے کا کوئی حق نہیں ہے، راتوں رات باپ یا ماں کے نام سے پارٹی بنتی ہے اور ایک بچے کو جنم دیتی ہے اور اگلے دن وہی بچہ وزیراعلیٰ کی کرسی پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اس حال میں ہے تو اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ آپ کے ووٹ کو عزت نہیں ملی، اگر ہم نے آج اس سلسلے کو بند نہ کیا تو آزادی اور وجود خطرے میں پڑجائے گاکوئٹہ میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسہ عام سے خطاب میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے فیصلے کے بعد سلیکٹڈ عمران خان اور ان کے سلیکٹرز کو اِس تاریخی ناکامی پر استعفیٰ دینا چاہیے۔ جلسہ عام سے خطاب میں ان کہنا تھا  کہ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے بہت محبت اور شفقت سے استقبال کیا۔انہوں نے فرانس میں توہین آمیز خاکوں سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ربیع الاول کے بابرکت مہینے میں فرانس میں توہین آمیز خاکوں سے ہم مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ جتنے بچے مجھے پنجاب کے عزیز ہیں، اتنے ہی بلوچستان کے بچے عزیز ہیں،بلوچستان کے کچھ طلبہ جنہیں پنجاب میں ن لیگ کے دور حکومت میں اسکالرشپ دی گئی تھیں لیکن اب پنجاب حکومت نے بلوچستان کے 600بچوں کی اسکالر شپ ختم کردیں۔ان کا کہنا تھا کہ مجھ سے ایک صحافی نے بلوچی لباس پہننے پر سوال کیا تو اس کا جواب ہے کہ میں نے بلوچی لباس اس لیے پہنا ہے کہ مجھے جتنی محبت پنجاب کے عوام سے ہے، اس سے زیادہ بلوچستان کے عوام سے ہے۔لیگی نائب صدر نے بلوچستان کے لاپتہ افراد کا مقدمہ بھی جلسہ عام میں رکھا اور کہا کہ یہاں سے نوجوانوں کو اٹھایا جاتا ہے اور ان کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں، اسٹیج پر ایک بچی سے ملی جس کے تین جوان بھائیوں کو گھروں سے اٹھالیا گیا اور اب ان کا کچھ پتہ نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے جیل میں ڈالا، میرے والد کو قید کیا، میری والدہ کا انتقال ہوا لیکن میری آنکھوں میں آنسو نہیں آئے مگر اس بچی کی داستان سن کر میرے آنکھ میں آنسو آگئے، خدا کے قہر کو آواز نہ دو اور ہوش کے ناخن لو، اپنے لوگوں سے سوتیلے پن کا سلوک نہ کرو۔مریم نواز نے بلوچستان کی حکمران پارٹی پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام کو اپنے نمائندے چننے کا کوئی حق نہیں ہے، ان کی حکومت اور وزیراعلیٰ کا انتخاب عوام نہیں کوئی اور کرے گا، راتوں رات باپ  یا ماں کے نام سے پارٹی بنتی ہے اور ایک بچے کو جنم دیتی ہے اور اگلے دن وہی بچہ وزیراعلیٰ کی کرسی پر بٹھا دیا جاتا ہے۔۔اس موقع پر لیگی نائب صدر نے ڈاکٹر شازیہ کیس کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ آج مجھے  بلوچستان کی بیٹی ڈاکٹر شازیہ کا واقعہ یاد آگیا، اس بیٹی کی بے حرمتی کی گئی،کراچی میں میرا دروازہ توڑا گیا تو کیا ہماری روایات یہ ہیں بہن اور بیٹیوں کے کمروں میں گھس کر حملہ کیا جائے؟ کیا یہ چیز قبول ہے؟ مریم نواز نے نواب اکبر بگٹی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ آج بلوچستان میں کھڑے ہوکر اکبر بگٹی کا واقعہ یاد آرہا ہے جو میرے ذہن پر نقش ہے اور کس طرح ایک آمر نے مکا لہرا کر کہا تھا کہ ایسے ماریں گے پتا ہی نہیں چلے گا، پھر ایسا ہی ہوا ہے، اس نے جمہوریت پسند لیڈر کو قتل کیا بلکہ اس کے خاندان اور چاہنے والوں کو چہرہ بھی دیکھنے کی اجازت نہیں دی۔مریم نواز نے کہا کہ کوئٹہ کے اسٹاف کالج میں قائد اعظم محمد علی جناح نے جو تلقین کی تھی تو کیا قائد اعظم کی تلقین پر عمل ہوا؟ کیا حلف کو یاد رکھا گیا، قائد اعظم کی روح دیکھ رہی ہے، ان کی تلقین کو مٹی میں ملا دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کا مطالبہ ہے کہ ووٹ کو عزت دو، اپنے حلف اور آئین کی پاسداری کرو، سیاست سے دور ہوجاؤ اور عوام کے منتخب نمائندوں کو حکومت کرنے دو، ریاست کے اوپر ریاست مت بناؤ، جعلی حکومتیں مت بناؤ اور عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکے مت ڈالو۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان اس حال میں ہے تو اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ آپ کے ووٹ کو عزت نہیں ملی، اگر ہم نے آج اس سلسلے کو بند نہ کیا تو آزادی اور وجود خطرے میں پڑجائے گا۔مریم نواز نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے فیصلے کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ بلوچستان کے عظیم فرزند کی بھی یاد آرہی ہے جس کا نام قاضی محمد عیسیٰ ہے اور ان کا قابل فخر فرزند آج سپریم کورٹ کا جج ہے۔لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ان کے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی تھا جس نے بدنیتی کی اور ججز پر دھبہ لگانے کی کوشش کی، ہم سب مل کر سلیکٹڈ عمران خان اور اس کے سلیکٹرز کو کہتے ہیں، آپ کو اِس تاریخی ناکامی پر استعفیٰ دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سے درخواست کرتی ہوں کہ اسی طرح جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو بھی انصاف دیا جائے۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ اب عوام کی حاکمیت کا سورج طلوع ہونے کو ہے، ووٹ کو پاؤں تلے روندنے کا سلسلہ بند  اور کٹھ پتلیوں کا کھیل اب ختم ہونے کو ہے۔جلسے  سے خطاب کرتے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان پہلے کی طرح اب بھی جاگ رہا ہے،بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ جمہوریت کا علم بلند رکھا، جمہوریت میں بھی ہمیں جمہوری حصہ نہیں ملا۔آج ہم ان قوتوں کو پیغام دینا چاہتے کہ بلوچستان پہلے کی طرح اب بھی جاگ رہا ہے اور جب بلوچستان جاگتا ہے تو ان کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ جمہوریت کا علم بلند رکھا ہے لیکن یہ اور بات ہے جمہوری ادوار میں ہمیں وہ حصہ نہیں ملا مگر جب بھی گلستان کو لہو کی ضرورت پڑتی تو گردن ہماری کٹی۔ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کو انگریزوں نے منی لندن کہا تھا اور یہاں ہر رنگ و نسل کے لوگ آباد ہیں، ایک زمانے میں یہاں پھولوں، پھلوں اور صنوبر کی خوشبو آتی تھی، کوئٹہ کی شاہراہوں پر ان پھولوں کی خوشبو ہوتی تھی، بچوں اور بزرگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں اور گلیاں پیار محبت کے گیتوں سے گونجتے تھے لیکن اب یہاں بارود اور خون کی بو آتی ہے، یہ خون ہمارے بچوں کا خون ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں بہنے والا خون کسی اور کا نہیں بلکہ ہمارے بزرگوں اور آنے والی نسلوں کا خون ہے، آج یہاں لاشوں پر چیخ و پکار کرتی ہوئی مائیں نظر آتی ہیں، یہاں وہ مائیں اور والد نظر آئیں گے جو 10 برسوں سے اپنے لخت جگرکو ڈھونڈ رہے ہیں اور آہیں بھرتے ہوئے نظر آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہاں وہ بہنیں بھی نظر آئیں گی جن کے سروں پر سے حکمرانوں نے دوپٹہ تک چھین لیا، یہاں خانہ بدوشوں کے ڈھیروں کے علاوہ موت کے ڈھیرے نظر آئیں گے۔نیشنل پارٹی  کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ   نے کہا کہ ہمارے جزیروں پر قبضہ کرنا سازش ہے،پی ڈی ایم کا بنیادی مقصد جمہوریت کافروغ پارلیمنٹ کو سپریم بناناہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ خودساختہ ایماندار کہتے تھے ایک کروڑ نوکریاں ہوں گی،پاکستان کی ساری جماعتیں اٹھ کھڑی ہوئی ہیں،تم پاکستان کے عوام کوجمہوریت سے کب تک دور رکھو گے،آج بچہ بچہ جانتا ہے یہ نااہل حکومت ہے،وزیراعظم کو عوام کی خدمت کرنی ہوتی ہے، دکھ درد بانٹنے ہوتے ہیں،عمران خان نے کہا تھا کہ میں تمہیں رلاؤں گا، تم لوگوں کو رلارہے ہو،یہ لوگ جس طریقے سے آئے تھے و ہ جمہوریت کی نفی تھی۔جلسے سے عوامی نیشنل پارٹی کے نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے مسلم لیگ(ن)کے رہنما محمد صفدر کے ساتھ کراچی اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کی کوئٹہ آمد پر پیش آئے واقعات کی مذمت کی۔انہوں نے بلوچستان کا عمران خان کے لیے پیغام ہے کہ آپ نااہل اور ناکام ہیں،ملک میں کبھی آٹا،کبھی گندم،کبھی چینی غائب ہوجاتی ہے،نئے انتخابات ہوں گے تو الیکشن ہوں گے سلیکشن نہیں ہوگا،میرا پیغام ہے عمران خان آپ نااہل اور ناکام ہیں،عمران خان نے پاکستان کی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا،آج غریب عوام کیلئے ادویات لینا مشکل ہوگیا ہے،اختر مینگل نے آپ سے بلوچستان کے عوام کا حق مانگا تھا،حکومت دعویٰ کرتی ہے اپوزیشن این آر او مانگ رہی ہے،بتایاجائے مالم جبہ اسکینڈل میں کون ملوث ہے،پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں ایک ہوگئی ہیں،امیر حیدر  خان ہوتی نے کہا کہ 18ویں ترمیم کیخلاف سازشیں ہورہی ہیں۔قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب خان شیرپاؤ نے کہا کہ موجودہ دورحکومت میں عوامی مشکلات اورمسائل دورنہیں کیئے گئے،آئندہ انتخابات کے نتیجے میں عوام کی خواہش پر حکومت آئے گی،پی ٹی آئی حکومت کی نااہلی نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت، اپوزیشن کے جلسوں سے خوفزدہ ہے اور گوجرانوالہ جلسے کے بعد انہوں نے مسلم لیگ (ن)کے رہنماؤں کے خلاف غداری کے مقدمات درج کروائے۔ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا کہ یہ (حکومت)کراچی میں اتنی خوفزدہ ہوگئی کہ مرکز نے صوبے پر حملے کردیا اور دستخط کے لیے آئی جی پولیس کو اغوا کرلیا۔انہوں نے کہا کہ اس نااہل حکومت نے خود کو الگ تھلگ کرلیا ہے اور اس کی ہرپالیسی ناکام ہوگئی ہے اور مہنگائی کی وجہ سے ہر شخص کی زندگی مشکل ہوگئی ہے۔جمعیت علمائے پاکستان کے رہنماء  شاہ اویس نورانی نے   جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لندن گئے تو14دن کا قرنطینہ بھی کرناہوگا،پی ڈی ایم کامقصد عوام کو حق حکمرانی دلانا ہے،آنے والا سال الیکشن کا ہوگا اور یہ اپنے گھر جائیں گے،تمہارے احتساب کے عمل کوہم جوتے کی نوک پررکھتے ہیں،جتنے بھی الیکشن ہوئے اس میں من پسند نمائندوں کو لایاگیا،تحریک کامقصد چوروں،لٹیروں،غاصبوں سے نجات دلاناہے۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے، پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ غیر آئینی اور غیر اخلاقی حکومت سے چھٹکارا حاصل کریں گے،موجودہ حکومت عوام کی منتخب کردہ نہیں، مسلط کی گئی ہے،حکومت نے دوسال میں ثابت کردیاکہ وہ عوام کی مشکلات حل نہیں کرسکتی،وزیراعظم احتساب کی گردان کرتے ہیں،یہ احتساب نہیں انتقام لیتے ہیں،وزیراعظم منہ پرہاتھ پھیر کر کہتے ہیں نہیں چھوڑوں گا،وزیراعظم احتساب نہیں انتقام لے رہاہے،یہ دوائیں،پٹرول،آٹاغائب کرکے  مہنگا کرنے والانیاپاکستان ہے۔ 

پی ٹی ایم جلسہ

کوئٹہ (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن)کے قائد نوازشریف نے وزیر اعظم عمران خان سیاسی نابالغ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں ان کے لانے والوں سے ہے،فارن فنڈنگ کیس تمہیں جیل بھیجے گا،،دوسروں پر کیچڑ اچھالنا تمہیں نہیں بچا سکے گا، ٹی وی پر بڑھکیں مارنا اور دھمکیاں دینا تمہیں نہیں بچا سکے گا،تمہیں اور ہر تمہارے کرپٹ ساتھیوں کو حساب دینا پڑے گا،غیر قانونی جبر کی ریاست کی اندھی طاقت نے ریاست کو اپنے شکنجہ میں جکڑ رکھا ہے،جب تک یہ غیر قانونی شکنجہ رہے گا آپ کے حالا ت بہتر نہیں ہوسکتے، سر کاری اداروں کے افسران اپنے حلف اور آئین سے وفاداری  کریں، عوا م کا جذبہ دیکھ کر میرا یقین پختہ ہوگیا ہے انشاء اللہ، اب ووٹ کی عزت کوئی پامال نہیں کر سکے گا۔ اتوار کو جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اتنا بڑا جلسہ دیکھ کر میرا یقین اور بھی پختہ ہوگیا ہے،انشاء اللہ اب ووٹ کی عزت کوئی پامال نہیں کر سکے گا،پامال کر نا تو دور کی بات ہے،انشا اللہ اب ووٹ کی عزت کی طرف کوئی میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکے گا۔انہوں نے کہاکہ جو جذبہ گوجرانوالہ اور کراچی میں دیکھا وہی جذبہ کوئٹہ میں دیکھ رہا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی تقدیر بدلنے کیلئے ابھ اٹھ کھڑے ہوں، اللہ انہی کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان کے ہر گوشے کے عوام اپنی قسمت بدلنے کیلئے ایک ہی قافلے کا حصہ بن گئے ہیں۔  مجھے اپنے دوست میر حاصل بزنجو کی شدت کی یاد آرہی ہے وہ اپنے والد کی طرح جمہوریت کے سچے اور کھڑے علمدار تھے، ان کی موت ملک و قوم کیلئے بڑا نقصان ہے وہ ہر فورم پر پوری جرات کے ساتھ اپنا موقف پیش کرتے تھے، اللہ تعالیٰ خاص رحمتوں سے نوازے۔ انہوں نے کہاکہ محسن داوڑ اورندیم اصغر کو کوئٹہ ائیرپورٹ پر سکیورٹی کے نام پر گرفتار کیا گیا ہے اور کسی نامعلوم جگہ پر منتقل کر دیا گیا ہے، ہم سب اس عمل کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سیکورٹی کے نام پر اس طرح کے اقدامات ہماری ریاست کو پہلے بھی بد نام کرتے رہے ہیں اور آج بھی کررہے ہیں بے افسوس کی بات ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان پر جو گزرتی رہی ہے وہ ایک نہایت افسوس ناک کہانی ہے، مری، بگٹی، بزنجو اور دیگر قبائل کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا رہا اور اب تک ہورہاہے وہ ہم سب کیلئے انتہائی دکھ اور رنج کا باعث ہے۔انہوں نے کہاکہ غداری کے لیبل ہر ایک شخص کے ماتھے پر چسپاں کر دیا گیا جس نے سر اٹھا کر بات کر نے کی کوشش کی جس کے ظلم و ستم کے خلاف احتجاج کیا، وہ صرف اس لئے باغی اور غدار قرار پائے انہوں نے آئینی حقوق کیلئے آواز اٹھائی، کچھ قتل ہوگئے، کچھ ہمیشہ کیلئے لاپتہ ہوگئے ان کی قبروں تک کوئی نام و نشان نہیں ہے، گم شدہ افراد کا مسئلہ آج بھی ہے، ہمارے وطن کے لوگ آج بھی اٹھائے جارہے ہیں،کچھ کا پتہ نہیں کہ انہیں آسمان کھا گیا یا زمین نکل گئی اور جب ان کے لواحقین کو دیکھتا ہوں تو بے حد تکلیف ہوتی ہے۔، آج کسان بد حال ہے، زراعت تباہ ہوگئی ہے، صنعتیں تباہ، کاروبار تباہ، روز گار تباہ، پورا ملک تباہی کے دہانے پر ہے، کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہم دیکھتے دیکھتے اس حال کو کیوں پہنچے؟کیوں چینی اور آٹا اتنا مہنگا ہوا اور کیوں مہنگائی بے قابو ہوگئی، اچھے کھاتے پینے والے لوگ آج مشکلات کا شکار ہے،کیوں ترقی کرتا ہوا اور آگے بڑھتا ہوا پاکستان برباد کر کے رکھ دیا گیا ہے کیوں پاکستانی روپیہ نیپالی اور افغانی کرنسی سے بھی نیچے آگیا ہے، کیوں کارخانے لگنا بند ہوگئے، کیوں سڑکیں، موٹر ویز بننا بند ہوگئیں، کیوں پاکستان دنیا میں تنہا رہ گیاہے، کیوں بھارت میں کشمیرکو ہڑپ کر نے کی جرات ہوئی اور کیوں ہمارے برادر اسلامی ملک بھی ہم سے دور ہوگئے، کیوں سعودی عرب جیسا مخلص ترین دوست ہم سے ناراض ہوگیا ہے اس کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ چند لوگوں کو اپنے ذاتی مفادات اور اختیارات، آپ کی آزادی اور خوشحالی سے زیادہ عزیز ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آئین اور قانون ان مٹھی بھر لوگوں کے مذموم عزائم کے آڑے آتے ہیں، نوازشریف ان لوگوں کو اچھا نہیں لگتا کیونکہ وہ آپ کا منتخب نمائندہ ہے،اور آپ کے ووٹ پر کسی اورکا اختیار تسلیم نہیں کرتا، وہ کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیتا،وہ آئین شکنی بر داشت نہیں کرتا تو فیصلہ ہوا کہ نوازشریف کو نکالو اور لا حاصل تحقیقات اور مقدمات پر قومی خزانے کے اربوں روپے ڈبو کر بھی نوازشریف پر ایکدھیلے کی کرپشن نہ ملی تو کہا اس کے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں نوازشریف کو نکال دو، اس کو عمر بھر کیلئے نا اہل کر دو، مسلم لیگ (ن)کی صدارت سے بھی نکال دو، اس کے بھائی شہباز شریف، بیٹی مریم، حمزہ شہباز شریف اور سارے خاندان اور ساتھیوں کو جیل میں ڈال دو، نوازشریف کو نمونہ عبرت بناتے بناتے ہوئے انہوں نے پاکستان اور آپ سب کو نمونہ عبرت بنادیا۔انہوں نے کہاکہ اس مقصد کیلئے انہوں نے الیکشن سے پہلے لوگوں کو پی ٹی آئی میں شامل کرایا، پھر جتوانے کیلئے الیکشن کے دن شرمناک ڈرامہ رچایا، پولنگ ایجنٹوں کو نکا ل باہر کیا، آر ٹی ایس بند کرایا، رات کی تاریکی میں اپنی پسند کے نتیجے بنا کر چار دن تک مرضی کے نتائج جاری کرتے رہے، تاریخ کی سب سے بد ترین دھاندلی کر کے نالائق اور نا اہل شخص کو وزیر اعظم کی کرسی پر بٹھا دیا تاکہ وہ ان سے جرائم پر سوال نہ اٹھائے بلکہ ان کے اشاروں پر کرتب دکھاتا رہے یہاں سے ملک کی تباہی اور بربادی کا سلسلہ شروع ہوا جو بڑھتا ہی چلا جارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ چند لوگوں کے ذاتی مفادات کی قیمت آپ کو اور آپ کے بچوں کو ان حالات اور بھوک و افلاس سے چکانی پڑ رہی ہے انہوں نے کہاکہ کراچی کے اس واقعہ نے میری بات کو عملی طورپر ثابت کر دیا ہے کہ ریاست کے اوپر ایک اور ریاست مسلط ہو چکی ہے، ۔ انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم اسی غیر آئینی حکمرانی کے خلاف اٹھی ہے، ریاست کے اوپر ریاست کی اس بیماری کے خلاف اٹھی ہے جس نے پاکستان کو اندر اور باہر سے کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ تحریک کسی ادارے کے خلاف نہیں بلکہ پاک فوج کے مقدس ادارے کی طاقت کواپنے مفادات کیلئے استعمال کر نے والے کرداروں کے خلاف ہے۔انہوں نے کہاکہ نیچے سے اوپر تک ادارے کے بہادر فرزندوں کو ان کر داروں کے مقاصد کا کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا، کچھ علم ہی نہیں ہوتا وہ اپنے ڈسپلن میں بندھے رہتے ہیں وہ تو ملک و قوم کی حفاظت کی لگن میں دن رات ایک کرتے ہیں لیکن ان سے معصومیت اور انجامے میں ایسے کام لئے جاتے ہیں جس کا نتیجہ قوم کو بڑے نقصانات کی شکل میں بھگتنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہاکہ طریقہ واردات یہ ہے کہ چند لوگ اپنے گھناؤنے مقاصد پورے کر نے کیلئے قانون توڑتے ہیں، آئین توڑتے ہیں، ملک اور قوم کو نقصان پہنچاتے ہیں لیکن خود کوبچانے کیلئے نام ادارے کا استعمال کرتے ہیں جبکہ حقیقت میں ادارے کا اس میں دور دور کا واسطہ نہیں ہوتا اس کے باوجود بدنامی ادارے کی ہوتی ہے،اس لئے نام لیکر ایسے کر داروں کو بے نقاب کرتا ہوں تاکہ ان کی سیاہ کاریوں کا دھبہ میرے ملک کے اداروں پر نہ لگے،۔ انہوں نے کہاکہ کارگل میں ہمارے سینکڑوں جانبازوں کو شہید کروانے اور دنیا بھر میں پاکستان کو رسوا کر نے کا فیصلہ ادارے کا نہیں تھا، چند مفاد پرست کا تھا،ان لوگوں نے صرف ادارے کو ہی نہیں بلکہ ملک و قوم کو ایک ایسی جگہ جنگ میں جھونک دیا جس سے کوئی فائدہ حاصل ہو ہی نہیں سکتا تھا،وہ لمحہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔۔نوازشریف نے کہاکہ عمران خان سیاست کے میدان میں نابالغ ہیں،ہمارا آپ کے ساتھ مقابلہ ہے ہی نہیں،ہمارا مقابلہ آپ کے لانے والوں کے ساتھ ہے لیکن یہ مت سوچنا کہ تم بچ جاؤ گے۔ انہوں نے کہاکہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا این آر او تمہیں نہیں بچا سکے گا نہ علیمہ خان کو بچا سکے گا،تم جس کے پیچھے چاہے چھپو،فارن فنڈنگ کیس تمہیں جیل بھیجے گا، چینی اور آٹا میں اضافے سے نقصان کا ایک ایک روپے کا حساب دینا ہوگا،زمان پارک کے کروڑورں کی نئی تعمیر لاگت کا حساب دینا ہوگا، بنی گالا کی منی ٹرین دینا ہوگی،دوسروں پر کیچڑ اچھالنا تمہیں نہیں بچے سکے گا، ٹی وی پر بڑھکیں مارنا اور دھمکیاں دینا تمہیں نہیں بچا سکے گا،تمہیں اور ہر تمہارے ساتھی کو حساب دینا پڑے گا۔انہوں نے سرکاری افسران سے کہاکہ یہ آپ کا اپنا ملک ہے جس کیلئے جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے،آپ نے جہاں اس کی حفاظت کا حلف اٹھایا ہے وہاں اتنا ہی اہم آئین کی تابعداری کا حلف اٹھایاہے جہاں آئین اور قانون شکنی شرورع ہو جاتی ہے،وہاں ظلم کا دور شروع ہو جاتا ہے جب آپ کسی فرد واحد اور مفاد پرست ٹولے کیلئے آئین توڑنے کے مرتکب ہوتے ہیں وہاں آپ خود اپنی قوم اور ملک کو آئین شکنوں کے رحم وکرم پر چھوڑ رہے ہوتے ہو، آپ آئین اور حلف داری سے وفا کیجیے، 

نواز شریف

مزید :

صفحہ اول -