کورونا پر تحقیق،سائنسدانوں نے انسانی جسم میں پھیلاؤکی وجہ بتادی

  کورونا پر تحقیق،سائنسدانوں نے انسانی جسم میں پھیلاؤکی وجہ بتادی

  

کراچی(این این آئی)کورونا وائرس نے دنیا کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے اس ننھے سے وائرس نے جہاں 11 لاکھ سے زائد انسانوں کی زندگیوں کے چراغ گل کردیئے وہیں کاروبار کا پہیہ بھی منجمد اور سماجی سرگرمیاں بھی صفر ہو کر رہ گئیں۔ وبا کے دوران سب سے بڑا سوال یہ اٹھا کہ آخر یہ وائرس اتنا متعدی کیوں ہے جس کا سائنسدانوں نے جواب ڈھونڈ نکالا ہے۔سائنسی جریدے جنرل سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق میں دعوی کیا گیا ہے کہ برطانیہ کی برسٹل یونیورسٹی کے محققین نے کورونا وائرس کے انسانی جسم میں داخل ہونے کے راستے کو دریافت کرلیا ہے۔ یہ ایک ریسیپٹر ہے جس کا نام نیوروویلین 1ہے جس کے ذریعے وائرس انسانی جسم میں داخل ہوجاتا ہے اور اسے استعمال کرتے ہوئے جسم میں تیزی سے پھیل جاتا ہے۔محققین نے اپنے مقالے میں انکشاف کیا کہ نئے کورونا وائرس کے اسپائیک پروٹین کے سیکونس کا تجزیہ کرنے کے بعد ہم نے ایسے امینو ایسڈز کے چھوٹے سیکونس کو دیکھا جو انسانی پروٹینز یعنی نیوروپلین 1 میں پائے جانے والے سیکونس کی نقل جیسا تھا۔ جس سے سوال اٹھا کہ کیا اسپائیک پروٹین، نیوروپلین 1 سے مل کر انسانی خلیات میں اس بیماری کا باعث بنتا ہے۔

کورونا پر تحقیق

مزید :

صفحہ اول -