29ویں سالانہ میلاد ریلی کی جھلکیاں (رانا عرفان الاسلام سے) 

    29ویں سالانہ میلاد ریلی کی جھلکیاں (رانا عرفان الاسلام سے) 

  

  مرکز ی میلاد کمیٹی شاہ رکن عالم کالونی ملتان کے زیر اہتمام جنوبی (بقیہ نمبر29صفحہ6پر)

پنجاب کی سب سے بڑی29ویں سالانہ میلاد ریلی کاآغاز دن 2بجے میلاد چوک سے ہوا جس میں مختلف مذہبی، سماجی سیاسی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد اورعلماء کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر میاں جاویدقریشی نے رکن الدین ندیم حامدی کی تاج پوشی کی۔

\\ریلی کے آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول ؐسے کیا گیا 

\\میلاد چوک سے شروع ہونے والی میلاد ریلی کے آغاز پر جلوسوں کی صف بندی کی گئی اس کے بعد میلاد ریلی میں شریک تمام جلوس باالترتیب ریلی میں شریک ہوتے رہے 

\\میلاد ریلی کا جگہ جگہ پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے استقبال کیا گیا۔\\ شرکاء میلاد ریلی نے ہاتھوں میں سبز پرچم،بینراورپلے کارڈ اٹھاررکھے تھے۔

\\میلاد ریلی کے روٹ پر اہل علاقہ کی جانب سے جگہ جگہ لنگر و نیاز اور دودھ کی سبیلیں لگائی گئی تھی جبکہ چھوٹے بچوں کے لئے ان کے کھانے کی اشیا ء تقسیم کی جاتی رہی 

\\ریلی کے روٹس پر کثیر تعداد میں خواتین اور بچے اپنے گھروں کی چھتوں پر بیٹھ کربھی میلاد ریلی کو دیکھتے رہے 

\\میلاد ریلی میں ایک ہزار سے زائد معززین شہر،صحافیوں اورسماجی سیاسی مذہبی رہنماؤں کی دستا بندی بھی کی گئی 

\\ریلی میں موجود مختلف سماجی مذہبی تنظیموں کے جلوسوں میں ساؤنڈ سسٹم پر نعت رسول مقبولؐپیش کی جاتی رہی 

\\گلشن مارکیٹ چوک سمیت تمام راستے انجمن تاجران کی جانب سے بھرپور استقبال کیا گیا  

\\میلاد ریلی میں متحدہ میلاد کونسل کے رہنماؤں نے صدرمرزاارشدالقادری اورراؤ عارف رضوی کی قیادت میں شرکت کی 

\\میلاد ریلی کے روٹس پر جگہ جگہ استقبالیہ کیمپ اور خوش آمدید کے؛ بینرز آویزاں کئے گئے تھے 

\\میلاد ریلی کے اختتام پر ملک وقوم کی سلامتی بھائی چارے کے فروغ اور امن و امان کے استحکام کے لئے خصوصی طور پر دعائیں کی گئی 

\\میلاد ریلی نے تقریبا ًچار کلومیٹر کا سفر چار گھنٹے میں طے کیا 

\\میلاد ریلی میں شرکائآمدِ مصطفےٰ۔۔۔مرحبا مرحبا کے نعرے لگاتے رہے۔

\\میلاد ریلی میں سپیشل بچوں اورسکاؤٹس کے دستے  نے خصوصی شرکت کی۔

\\میلاد ریلی میں جوڑو کراٹے کی ٹیم مختلف ایٹم پیش کرتے رہے 

میلاد ریلی کے شرکاء کی جگہ جگہ دستار بندی کی جاتی رہی 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -