نجی ہسپتالوں میں علاج مہنگا، غیرضروری ٹیسٹوں سے مریضوں کی حالت غیر 

  نجی ہسپتالوں میں علاج مہنگا، غیرضروری ٹیسٹوں سے مریضوں کی حالت غیر 

  

 ملتان(وقائع نگار) شہر بھر میں نجی ہسپتال مالکان نے علاج کو سب سے بڑا کاروبار بنالیا ہے۔ ہزاروں روپے فیس وصولی کے باوجود زبردستی چیک اپ اور زیر علاج مریضوں (بقیہ نمبر38صفحہ6پر)

 کے غیر ضروری مہنگے ٹیسٹوں کو تجویز کرنا معمول بنالیا ہے۔جو مریضوں اور انکے لواحقین کیلئے درد سر بنتا جارہا ہے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے ملتان شہر کے اندر تقریبا چھوٹے بڑے پچاس سے زائد پرائیوٹ ہسپتال موجود  ہیں۔جن کے مالکان نے مریضوں کے علاج و معالجہ کو اپنا کاروبار بنالیا ہے۔ہر چیک اپ یا داخل ہونے والے مریضوں سے ہزاروں روپے فیس کی مد میں وصول تو کرتے ہیں۔مگر اس کے ساتھ ساتھ انکو غیر ضروری ٹیسٹ بھی لکھ کر دیتے ہیں۔جسں کے ذریعے ہسپتالوں کے مالکان  لاکھوں روپے روزانہ کماتے ہیں۔جبکہ درمیانے طبقہ کے لوگ اپنی عزت بچانے کی خاطر ڈاکٹروں کی جانب غیر ضروری تجویز کردہ ٹیسٹ کروانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔پرائیوٹ ہسپتال مالکان نے اپنی انتظامیہ کو ہدایت کی ہوئی ہے کہ وہ طے شدہ شیڈول کے مطابق  تشخیصی ٹیسٹوں کو تجویز کریں۔حالانکہ مارکیٹ سے ہٹ کر انکے ٹیسٹوں کے ریٹ فکس ہوتے ہیں۔جو مسلسل پریشنانی کا باعث بناہوا ہے۔مریضوں اور انکے لواحقین نے مطالبہ کیا ہے۔سب سے پہلے پرائیوٹ ہسپتالوں میں بھی ٹیسٹوں کی فیسوں کے ریٹ کو ایک کریں۔تاکہ کوئی من مانیاں نہ کرسکے۔اس کے علاؤہ انہوں نے اعلی حکام سے اپیل کی ہے۔کہ پرائیوٹ ہسپتالوں کی بھی مانیٹرنگ کا شیڈول کو فعال رکھا جائے۔جس سے مریضوں کو فایدہ پہنچے گا۔

حالت غیر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -