سینی ٹیشن پالیسی کا مسودہ تیار کر کے ورکنگ گروپ کو پیش کر دیا گیا: محمود خان 

    سینی ٹیشن پالیسی کا مسودہ تیار کر کے ورکنگ گروپ کو پیش کر دیا گیا: محمود ...

  

پشاور (سٹاف رپورٹر)صوبائی حکومت کی شفاف اور بہتر طرز حکمرانی کی حکمت عملی کے تحت ایک اہم پیشرفت کے طور پر محکمہ آبنوشی خیبرپختونخوا میں ای ٹینڈرنگ اور ای بڈنگ کا عمل متعارف کردیا گیا ہے جبکہ پانی کے کنکشن کی فراہمی کا آن لائن نظام، ای ورک آرڈر اور ٹینڈر ٹریکنگ کا نظام بھی تیار کر لیا گیا ہے جن کا بہت جلد اجرا کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت کے ان اصلاحاتی اقدامات سے محکمے کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے اور محکمے کے امور میں شفافیت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ عوام کو محکمے کی خدمات کے حصول میں سہولت میسر ہوگی۔ یہ بات وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت محکمہ آبنوشی کی کارکردگی کے حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس میں بتائی گئی ہے۔ اجلاس کو محکمہ آبنوشی کی موجودہ استعداد، پاپولیشن کوریج، سالانہ ترقیاتی پروگرام، اصلاحاتی اقدامات اور مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو محکمہ کے تحت اْٹھائے گئے اصلاحاتی اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پینے کے پانی کے حوالے سے نظر ثانی شدہ پالیسی کے مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جبکہ سنیٹیشن پالیسی کا مسودہ بھی تیار کر کے ورکنگ گروپ کو پیش کر دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں محکمہ آبنوشی کی ویب سائٹ کا اجراء کیا گیا ہے۔ محکمہ کے تحت ویڈیو کانفرنس سسٹم کے ذریعے آلات کی تنصیب کا عمل شروع ہے اور مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم پر کام جاری ہے۔ محکمہ میں انسد اد بدعنوانی کیلئے پلیسمنٹ کمیٹی کا اعلامیہ جاری کیا جا چکا ہے اور ایک ہی پوسٹ پر دو سال سے زائد عرصہ تک کام کرنے والے تمام افسران اور اہلکاروں کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ محکمہ آبنوشی کی استعداد کار میں اضافہ کیلئے ملازمین کی تربیت کا عمل مکمل کیا گیا ہے جن میں انجینئرز، ڈرافٹس مین، ٹریسرز، کلرک اور دیگر ملازمین شامل ہیں۔ محکمہ کی اندرونی نگرانی کیلئے سیکرٹریٹ سطح پر مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور انٹرنل آڈٹ باقاعدگی سے کیا جا رہا ہے۔ عوام کو خدمات کی موثر انداز میں فراہمی کیلئے محکمہ آبنوشی کے ہیڈ کوارٹرمیں شکایات سنٹر قائم کیا گیا ہے جبکہ محکمہ آبنوشی کے ہر ڈویژن میں شکایات سنٹرز کے قیام پر کام شروع ہے۔ تمام سکیموں کی باقاعدگی سے مرمت و بحالی یقینی بنائی جارہی ہے۔ سروس ڈیلیوری کا معیار بلند کرنے کیلئے ٹیکنکل کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ پانی کے معیار کی نگرانی کیلئے آٹھ واٹر کوالٹی ٹیسٹنگ لیبارٹریاں اور آٹھ موبائل لیبارٹریاں قائم کی گئی ہیں۔بین الاقوامی شراکت داروں اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے تعاون سے پانچ اضلاع کیلئے واٹر کوالٹی پروفائل مکمل کر لی گئی ہے۔ اب تک پانی کے 8300 نمونوں کا معائنہ کیا گیا ہے، جن میں سے 87 فیصد درست پائے گئے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ محکمہ آبنوشی کے تحت جون2020 ء تک بندوبستی اضلاع میں پاپولیشن کوریج 70.6 فیصد جبکہ ضم اضلاع میں 57.6 فیصد تھی۔ سال2019-20 کے دوران واٹر چارجز کی مد میں 163.6 ملین روپے جمع کئے گئے جبکہ 2020-21کے پہلے کوارٹر میں 50.736 ملین روپے جمع کئے گئے ہیں۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام 2020-21 میں بندوبستی اضلاع کیلئے 77 جبکہ ضم اضلاع کیلئے 71سکیمیں شامل ہیں۔ 9 سکیمیں مکمل کر لی گئی ہیں جبکہ 60 کے قریب تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ بندوبستی اضلاع میں اب تک جاری شدہ فنڈز کا 72 فیصد جبکہ ضم اضلاع میں جاری شدہ فنڈز کا 33 فیصد استعمال کرلیا گیا ہے۔ تیز رفتار عمل درآمد پروگرام کے تحت چھ مختلف سکیموں جاری شدہ فنڈز کا 63 فیصد استعمال کیا جا چکا ہے۔ صوبے میں غیر فعال اسکیموں میں سے 153 سکیمیں بحال کر لی گئی ہیں جبکہ مزید212 سکیموں کی بحالی کیلئے رواں ترقیاتی پروگرام میں 920 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔اجلاس کو محکمہ آبنوشی کے تحت تجویز کئے گئے نئے منصوبوں خصوصی طور پر گریٹر واٹر سپلائی سکیم پشاور کیلئے فزیبلٹی سٹڈی، منصوبے کے تحت پانی کی سپلائی کیلئے مختلف تجاویز اور تخمینہ لاگت پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے محکمے کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے محکمے کے اعلیٰ حکام کو صوبے کے بندوبستی اور ضم اضلاع میں جاری منصوبوں کی مقررہ ٹائم لائن کے مطابق تکمیل یقینی بنانے اور اس مجموعی عمل میں تکمیل کے قریب میگا سکیموں پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اْنہوں نے نظر ثانی شدہ ڈرنکنگ واٹر پالیسی کو منظوری کیلئے جلد صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پیش کرنے اور دیگر اصلاحاتی اقدامات کو جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ محمود خان نے کہاکہ عوام کو بہتر طریقے سے خدمات کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے جس کے لئے طرز حکمرانی اور شفافیت کی پالیسی کے تحت اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ صوبائی حکومت کے تمام ورکس ڈیپارٹمنٹس میں ترجیحی بنیادوں پر ای ٹینڈرنگ، ای بڈنگ، ای ورک آرڈر اور ای بلنگ کا نظام متعارف کروایا جائے تاکہ ان محکموں کی استعداد کار کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ان کے جملہ امور میں شفافیت کو بھی یقینی بنایا جاسکے۔

مزید :

صفحہ اول -