”پی سی بی قومی کرکٹ ٹیم میں پھوٹ ڈال رہا ہے “ انضمام الحق نے بڑا الزام لگا دیا مگر کیوں؟ وجہ بھی بتا دی

”پی سی بی قومی کرکٹ ٹیم میں پھوٹ ڈال رہا ہے “ انضمام الحق نے بڑا الزام لگا ...
”پی سی بی قومی کرکٹ ٹیم میں پھوٹ ڈال رہا ہے “ انضمام الحق نے بڑا الزام لگا دیا مگر کیوں؟ وجہ بھی بتا دی
کیپشن:    سورس:   Twitter

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور چیف سلیکٹر انضام الحق نے کہا ہے کہ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت میں تبدیلی کا عندیہ دے کر انتشار پھیلانے کی کوشش ہوئی، پی سی بی میڈیا اور عوامی ردعمل جاننے کیلئے جان بوجھ کر ایسی باتیں ’لیک کرتا ہے اور ایسی چیزوں سے براہ راست ٹیم کا ماحول متاثر ہوتا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی) کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) وسیم خان نے چند روز قبل کہا تھا کہ دورہ نیوزی لینڈ سے قبل ہیڈ کوچ مصباح الحق کی نگرانی میں ٹیم مینجمنٹ اظہر علی کی کپتانی کا جائزہ لے گی جس کے بعد اظہر کو ٹیسٹ قیادت سے ہٹائے جانے کی رپورٹس سامنے آئیں۔ 

انضمام الحق نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیوکو یہ بات کرنے سے قبل کم سے کم زمبابوے کے خلاف سیریز ختم ہونے کا تو انتظار کرنا چاہیے تھا،اب ٹیسٹ کپتانی کے حوالے سے نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ وسیم خان کہتے ہیں کہ اظہر کی قیادت کا نیوزی لینڈ سے ٹیسٹ سکواڈ کے اعلان سے پہلے جائزہ لیا جائے گا، اس طرح کی چیزیں ٹیم میں پھوٹ ڈالتی ہیں، کوئی بھی کھلاڑی جسے کپتان بننے کی امید ہوگی وہ اب اپنے لئے لابنگ شروع کردے گا اور یہی چیز ٹیم کے ماحول کو متاثر کرے گی۔ 

انہوں نے کہا کہ اگر آپ کپتان کو تبدیل کرنا ہی چاہتے تھے تو زمبابوے سے سیریز ختم ہونے دیتے، میڈیا میں اس حوالے سے بات کرنے کی ضرورت نہیں تھی، بعض اوقات بورڈ خود ایسی چیزیں لیک کرتا ہے تاکہ میڈیا اور عوام کا ردعمل معلوم کیا جا سکے، ہوسکتا ہے کہ بورڈ کو عوامی جذبات کو کچھ اندازہ ہوجاتا ہو لیکن اس کا ٹیم کے اعتماد اور اتحاد پر منفی اثر پڑتا ہے۔ 

واضح رہے کہ گزشتہ اکتوبر میں اظہر علی کو سرفراز احمد کی جگہ ٹیسٹ کپتان مقرر کیا گیا تھا، حال ہی میں ان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلی کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات بھی کپتانی سے ہٹانے کی کوشش کا ایک حصہ ہوسکتی ہے کیونکہ انہوں نے مصباح الحق اور محمد حفیظ کے ہمراہ بورڈ کو بتائے بغیر وزیراعظم سے میٹنگ کی تھی جو پی سی بی حکام کو کافی گراں گزری اور اس پر ان کی سرزنش بھی کی گئی تھی۔ 

مزید :

کھیل -