ناصر جمشید نے سپاٹ فکسنگ کیس میں برطانیہ سے ملک بدر کئے جانے کیخلاف اپیل دائر کر دی

ناصر جمشید نے سپاٹ فکسنگ کیس میں برطانیہ سے ملک بدر کئے جانے کیخلاف اپیل دائر ...
ناصر جمشید نے سپاٹ فکسنگ کیس میں برطانیہ سے ملک بدر کئے جانے کیخلاف اپیل دائر کر دی
سورس: Twitter

  

لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی ناصر جمشید نے سپاٹ فکسنگ کیس میں برطانیہ سے ملک بدر کئے جانے کیخلاف اپیل دائر کر دی ہے، ناصر جمشید کو فکسنگ سکینڈل میں ملنے والی سزا 21 اکتوبر کو ختم ہو چکی مگر ان کی رہائی کے آرڈر روکے جا چکے ہیں جس کے باعث وہ جیل میں ہی رہیں گے۔ 

تفصیلات کے مطابق ناصر جمشید کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2017ءمیں کھلاڑیوں سے رابطوں اور رشوت کی پیشکش کے جرم میں سزاہوچکی ہوئی تھی جو 21 اکتوبر کو ختم ہوئی تاہم برطانیہ کے ہوم آفس نے ان کی رہائی کے آرڈر روک دئیے اور اب انہیں ملک بدری کے کیس کا سامنا ہے، برطانوی قوانین کے مطابق 12 مہینے سزا پانے والے شخص کو برطانیہ سے نکالا جا سکتا ہے جبکہ ناصر جمشید کو 17 ماہ کی سزا سنائی گئی تھی، ناصر جمشید کی برطانوی اہلیہ نے یہ اپیل برطانیہ کے ہوم آفس سے کی ہے تاہم ابھی یہ معلوم نہیں کہ اس کے فیصلے میں کتنا وقت لگے گا۔ 

ذرائع کے مطابق انہوں نے اپنے وکیل کے توسط سے امیگریشن ضمانت کی درخواست بھی دائر کر دی جس کے منظور ہونے کی صورت میں وہ جیل سے باہر آ سکتے ہیں لیکن اس دوران برطانیہ بدری کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا، یہ بھی ممکن ہے کہ ضمانت منظور ہونے کے باوجود ناصر جمشید کو پاکستان ڈی پورٹ کرکے کہا جائے کہ وہ وہیں سے اپنا کیس لڑیں،30 سالہ ناصر جمشید کو فروری میں مانچسٹر کی عدالت نے17ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔

اسی مقدمے میں ناصر جمشید کے دیگر 2ساتھیوں یوسف انور اور محمد اعجاز کو بالترتیب 3سال 4 ماہ اور ڈھائی سال کی سزا سنائی گئی تھی، اس سے قبل 2018ءمیں پی سی بی بھی ناصر جمشید پر 10سال کی پابندی عائد کر چکا ہے، سکینڈل میں ان کے علاوہ بھی مزید 2 پاکستانی کرکٹرز شرجیل خان اور خالد لطیف ملوث پائے گئے تھے، شرجیل خان ڈھائی سال کی پابندی مکمل ہونے کے بعد کرکٹ کے میدانوں میں واپس آ چکے ہیں جبکہ خالد لطیف پر 5 سال کی پابندی عائد ہوئی تھی۔

مزید :

کھیل -