نیب تحویل میں موجود شہبازشریف سے ملاقات کے لیے خواجہ آصف کو کس نے فون کرکے بلایا؟ سابق وزیردفاع نے خود ہی ساری کہانی بیان کر دی

نیب تحویل میں موجود شہبازشریف سے ملاقات کے لیے خواجہ آصف کو کس نے فون کرکے ...
نیب تحویل میں موجود شہبازشریف سے ملاقات کے لیے خواجہ آصف کو کس نے فون کرکے بلایا؟ سابق وزیردفاع نے خود ہی ساری کہانی بیان کر دی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وزیردفاع اور ن لیگ کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہماری میاں شہبازشریف سے ملاقات ان کی گرفتاری کے تین روز بعد ہوئی۔ شہبازشریف کے سٹاف آفیسرلیفٹنینٹ کرنل عرفان نے فون کر کے بتایا کہ شام کو میاں صاحب کے ساتھ آپ کی ملاقات ہے ۔ ہمیں آئین اور قانون کی بالادستی کی گارنٹی دیں تو بات چیت ہوسکتی ہے۔

لیگی رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ میں ، احسن اقبال اور راناتنویرشہبازشریف کی گرفتاری کے تیسرے روز ان کے ساتھ ملاقات کے لیے گئے تھے۔ ڈی جی نیب کے دفتر میں تقریباً ساڑھے چھ بجے ہماری ملاقات شروع ہوئی جو ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہی۔ہماری کوئی خفیہ یا علیحدہ ملاقات نہیں تھی، ڈی جی نیب ساری ملاقات کے دوران موجود رہے۔ان کے سٹاف افسرنے ہمیں ملاقات کے لیے کہا تھا۔ 

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ حلفاً کہتا ہوں ہم وہاں کوئی پیغام لے کر نہیں گئے تھے اور نہ کسی قسم کا پیغام کوئی پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ میں نے نوازشریف کو میسج کیا کہ ہمیں ملاقات کے لیے بلایا گیا تو وہاں ان کو خیریت سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف صاحب نے خیریت دریافت کی،سہولیات کی عدم فراہمی کی بات کی اور دیگر سیاسی معاملات کا پوچھا کہ باہر کیا ہورہاہے،ہمیں نہ کسی نے بھیجاتھا کہ ان کا کسی کے لیے پیغام لے کر آئے۔ملاقات جیسے عام لوگ ملتے ہیں ویسے ہی ہماری ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ شہبازشریف کی گرفتاری کی تین دن بعد کی بات ہے جو اب چودہ پندرہ روز کے بعد شائع ہوئی اس معاملے کی مجھے سمجھ نہیں آتی۔ 

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت پوری پارٹی نوازشریف کے بیانیہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ مجھے نوازشریف کا کارکن ہونے پر فخر ہے، ان کا کہنا تھا کہ مریم نوازاپنے باپ کی جانشین ہیں، وہ میری بیٹیوں کی طرح ہیں ، ان کو مشورے دیتا رہتا ہوں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بات چیت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتاہے، ہمیں صرف گارنٹی دے دیں کہ آئندہ قانون کی بالا دستی ہوگی، ہماری جنگ صرف اور صرف آئین اور قانون کی بالادستی ہے، جب ہمیں ہر ادارے کی اپنی اپنی حدود میں رہنے کی گارنٹی مل جائے گی تو مفاہمت کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ نوازشریف اقتدار نہیں چاہتے وہ صرف اور صرف آنے والی نسلوں کو ایسا پاکستان دینا چاہتے ہیں جو آئین اور قانون کے تابع ہو۔

مزید :

قومی -علاقائی -