بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، گیس کے دباؤ میں کمی!

بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، گیس کے دباؤ میں کمی!

  

بجلی اور گیس بھی زندگی کا لازم جزو بن چکی ہیں، اب ان کے بغیر بھی گزارہ مشکل ہوتا ہے۔ ان کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود استعمال مجبوری ہے۔ صارفین بڑھتے ہوئے نرخوں کی پریشانی برداشت کرکے بل ادا کرتے ہیں۔ ان کی توقع تو یہ ہے کہ بجلی اور گیس بلا تعطل ملے۔ حالات یہ ہیں کہ حالیہ بارش سے خنکی بڑھی اور سردی کی آمد کا اعلان ہوا تو بجلی کی لوڈشیڈنگ اور گیس کی قلت شروع ہو گئی۔ سندھ میں دو ہفتوں کے لئے سی این جی سٹیشن بند کرنے کے باوجود کراچی میں گیس کا پریشر کم ہو گیا، پنجاب میں بھی گیس میں کمی اور سردیوں میں اوقات کار مقرر کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے مرمت کے نام پر ابھی سے لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، اس ہفتہ وار پروگرام کے تحت ہر روز سینکڑوں فیڈر کم از کم سات گھنٹے کے لئے بند کر دیئے جاتے ہیں اور یہ عمل اتوار کو پاک بھارت ٹی 20میچ کے دن بھی ہوا، یہ سلسلہ مستقل ہے۔ ہر ہفتہ میں ایک روز صارفین سات سے آٹھ گھنٹے تک مسلسل برقی رو سے محروم رہتے ہیں۔ تقسیم کار کمپنیوں نے اسے مرمت کا نام دیا ہے، حالانکہ سب ڈویژن والے سامان اور آلات کی قلت کے بارے میں شکایات کا انبار لئے بیٹھے ہیں، صارفین کا کہنا ہے کہ حکومت وافر بجلی کا اعلان کرتی ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بجلی پیدا کرنے والے نجی پاور پلانٹوں کو مقررہ یونٹس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، چاہے کم ہی کیوں نہ استعمال ہوں، یہ بات تضاد سے بھرپور ہے اور صارفین کا کہنا ہے کہ ان سے بل پورے وصول کئے جاتے ہیں تو گیس اور بجلی بھی پوری مہیا کی جائے۔ 

مزید :

رائے -اداریہ -