بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

  

کچھ لوگ آفت ِ جاں ہوتے ہیں اور جب تک وہ کسی بحران کو پیدا نہ کر لیں انہیں چین نہیں آتا۔ اگر کسی طور حالات پرسکون ہو جائیں  تو وہ بے چین ہو جاتے ہیں اور کسی نئے بحران کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔موجودہ حکومت کا تین سالہ دور افتاد طبع کی بہترین مثال ہے۔سوشل میڈیا پر کہرام بپا کرنے کی شوقین حکومت نوشتہ دیوار سے آنکھیں چرانے کی دھن میں ایک لہر سے نکل کر دوسری لہر میں الجھنے کا سامان کرتی رہی۔ نوازشریف کو قید کرنے والا معاملہ حل ہوا تو اسے چھوڑنے والا مسئلہ پیدا کر دیا، جب باہر بھیجنے والا قضیہ پایہ تکمیل تک پہنچا تو واپس بلانے کا قصہ چھیڑ دیا، کلثوم نواز کی بیماری والی کیمسٹری ہسپتال کے دروازوں پر ٹھڈے مار کر حل ہوئی تو موت پر معافیاں مانگنے کا سلسلہ چل نکلا، ڈیلی میل والی خبر پر برپا طوفان کی گرد بیٹھی تو رسوائی سے بچنے کے لئے اسحاق ڈار کو تماشائے بازار بنا دیا اور وہاں سے رسوا ہر کر نکلے شریف خاندان کی منی لانڈرنگ کا میک اپ کیے بازاروں میں نکل آئے، رانا ثناء اللہ پر چرس کا کیس ڈالنے کا معاملہ ہو یا احد چیمہ اور فواد حسن فواد کی بدنامی کا ہار گلے ڈالنے والی بات،لاکھوں مکانات، ہزاروں نوکریاں، ہزاروں ارب روزانہ کی منی لانڈرنگ، حمزہ شہباز کا چکن مہنگا کرنا، دس ارب میں میٹرو بنانا، موٹرویز میں کرپشن کے واویلے کو خود نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا کک ماردینا، پچھلے تین سال میں ہر ممکن طریقے سے ”پروپیگنڈا سموگ“ کو پھیلایا گیا تا کہ عوام سموگ کے اس پار والی حقیقت دیکھ نہ سکیں، لیکن تبدیلی اور ریاست مدینہ کے نام پر کی جانے والی ملمع کاری اس وقت اتر گئی جب وہ فیصلے بھی حکومت کے خلاف آنے لگے جن پر ان کے پورے پروپیگنڈے کا دارومدار تھا، رہی سہی کسر اس خبر نے پوری کر دی کہ تبدیلی کا سب سے بڑا دعویدار موجودہ چیئرمین احتساب بیورو کو ہی عہدے پر برقرار رکھنا چاہتا ہے، اور تابوت میں آخری کیل ایک حساس ادارے کے سربراہ کی تعیناتی کے تنازعے نے پوری کر دی۔عوام بھی ”جب مہنگائی ہو تی ہے تو حاکم وقت کرپٹ ہے“نامی فارمولے کو اپنی عمل شکل میں دیکھ بلکہ آزما بھی چکے تھے، ان حالات میں، جبکہ عوام سموگ کے اس پار دیکھنے لگے تو ملک کی ایک مشہور خاتون صحافی پر نیا داؤ آزمایا گیا اور ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک مستند گالی کو حجاب کے ساتھ جوڑا گیا جو ایک اسلامی شعار بھی ہے۔قصہ مختصر کہ اپنا دامن بچانے کے لیے ہمیشہ انگلی دوسری طرف کیے رکھی اور چور شور مچاتا رہا تا کہ اس پر کسی کا دھیان نہ جائے، لیکن بھوک آخر بھوک ہے،اس نے ہر چیز سے دھیان ہٹا دیا۔

یہی افتاد طبع اور شوق تماشا کالعدم تحریک لبیک کے معاملے میں بھی آزمایا گیا۔نواز دور میں کہا گیا کہ ہم پر پارٹی دباؤ ہے کہ دھرنے میں شرکت کی جائے،بڑے بڑے لیڈر دھرنوں میں جانے لگے لیکن جب اپنی باری آئی تو معاملہ یکسر الٹا دیا۔کل تک”جلاؤ گھراؤ مارو مر جاؤ“ کا درس دینے والے اپنے سابقہ ممدوحین کا ”حق ِ احتجاج“ بھی تسلیم کرنے سے انکاری ہو گئے،اسی کالعدم تنظیم کو مجاہد کہنے والے اسے دہشت گرد کہنے لگے، لوگوں کے راستے بند کرنے کو جمہوری حق کہنے والے اسے اسلام کی تعلیمات کے منافی گرداننے لگے، عوامی تحریک کے کارکنوں کی ہسپتال میں عیادت کرنے والے تڑپتے مظاہرین کو ایمبولینس کی سہولت دینے سے بھی کترانے لگے، کل تک پولیس کی ہڈیاں توڑنے والے اور اپنے ہاتھوں سے پھانسی دینے کا اعلان کرنے والے کباڑخانوں سے ٹوٹی پھوٹی اور جلی سڑی گاڑیاں نکال کر مظاہرین کے کھاتے ڈالنے کی تیاریاں کرنے لگے، آزاد میڈیا کی دہائی دینے والے نیٹ ورک بند کر کے صحافیوں کے ہاتھوں سے موبائل تک چھیننے لگے،  اور ”پولیس کی چلائی ہوئی گولی کا ذمہ دار حاکم وقت ہے“ کا راگ الاپنے والے سیدھی چلائی گئی گولیوں کا دفاع بھی کرنے لگے اور اپنی ہی گاڑیوں تلے کچلے جانے والے جان بحق اہلکاروں کو مظاہرین کے ذمہ بھی ڈالنے لگے۔

کالعدم تحریک لبیک کے ساتھ افتاد طبع کی شوقین حکومت نے حالات کیسے الجھائے؟ سب کچھ ٹھیک تھا، معاہدے میں کئی دن باقی تھے، بغیر کسی الزام اور ایف آئی آرکے راہ چلتا بندہ گرفتار کیا گیا، جان بوجھ کر آفٹرشاکس پر غور نہ کیا گیا، جب حالات خراب تھے آپریشن کیا گیا، ناکامی ہوئی اور شدید عوامی ردعمل آیا تو معاہدہ کیا لیکن ایک بار پھر مکرگئے، بلکہ الٹا ایک ایک کر کے مرکزی قائدین کو گرفتار کیا جانے لگا اور کہا جانے لگا کہ انہیں احتجاج اور تشدد کا راستہ چھوڑ کر قانونی جنگ لڑنی چاہئے،انہوں نے عدالتی رستہ اختیار کیا، لاہور ہائی کورٹ نے دوبار سعد حسین رضوی کی رہائی کا حکم دیا، لیکن حکومت انکاری ہو گئی، جس پر انہوں نے سڑک کنارے بیٹھ احتجاج شروع کیا، آدھا مہینہ اسی طرح گزر گیا، لیکن چونکہ حکومت کو ”اعلیٰ کارکردگی“ چھپانے کے لئے کسی تماشے کا سامان کرنا تھا اِس لئے کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی، مجبوراً انہوں نے بارہ ربیع الاوّل کے جلوس کو دھرنے میں تبدیل کر کے دو دن کا وقت دیا کہ عدالتی فیصلے پر عمل کرو، حکومت بدستور تماشے کا سامان کرتی رہی،پھر لانگ مارچ شروع ہو گیا اور ماضی میں لانگ مارچ کرنے والی حکومت نے ہی تشدد شروع کر دیا،مظاہرین نے سات جنازوں سمیت لانگ مارچ جاری رکھا، لیکن سربراہان شادیاں بھگتاتے رہے،تااطلاع ثانی مذاکرات کا ڈول ڈالا جاچکا ہے، لیکن اونٹ کسی کروٹ بیٹھ بھی گیا تو حکومت ضرور کوئی نیا تماشا لگائے گی، کیونکہ مقصود یہ ہے کہ کوئی میرے دامن کارکردگی پر انگلی نہ اٹھائے چاہے گھر سارا ہی جل جائے۔

مزید :

رائے -کالم -