اس کے بغیرآج بہت جی اداس ہے 

اس کے بغیرآج بہت جی اداس ہے 
اس کے بغیرآج بہت جی اداس ہے 

  

خوبصورت لہجے کے تابندہ شاعر، منفرد ادیب،مقبول کالم نگار،ٹی وی اینکر اور ماہرتعلیم ڈاکٹر اجمل نیازی اب اس دنیامیں نہیں رہے۔وہ درویش صفت مگرتخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال لکھاری تھے۔مندرمیں محراب کے نام سے ہندوستان کا رجحان سازسفر نامہ تحریر کرنے کے علاوہ کئی شعری مجموعوں کے خالق اورمتعدد کتابوں کے مصنف تھے۔زندگی کا زیادہ تر حصہ لاہور میں گزارامگر اپنی جنم بھومی عیسیٰ خیل سے اپنی نسبت کو کبھی نہیں بھولے اور نہ کبھی کسی سے چھپایا،بلکہ فخریہ انداز میں میانوالی کی مخصوص پگڑی پہنتے تھے۔ان کی دستار اپنی اصل سے جڑے رہنے اور ایک جینوئین آدمی ہونے کی علامت تھی۔کبھی فراموش نہیں کیا کہ کس سر زمین سے آئے ہیں۔یہاں تک کہ میانوالی کے شعراء کرام کے تذکرے پرمبنی ایک مکمل کتاب لکھ ڈالی۔جو کہ ”جل تھل“کے نام سے شائع ہوئی تھی۔جس طرح انہوں نے اپنی مٹی سے تعلق اور ناتا نہیں توڑا،یہی رویہ ان کا اپنے دوستوں کے ساتھ تھا۔وہ تعلق نبھانے والے آدمی تھے۔

ڈاکٹر اجمل نیازی سے میرا پہلا تعارف تب ہوا جن دنوں وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھاتے تھے اور میں وہاں طالب علم تھا۔اگرچہ میں خود ان کا اسٹوڈنٹ نہیں تھامگرنیوہوسٹل میں میرا روم میٹ نصیر خان ان سے اردو پڑھتا تھا۔ہم اکثر ان کی باتیں آپس میں کرتے رہتے تھے۔جتنا روایتی ان کا حلیہ اور ہیئت کذائی تھی،اتنے ہی غیر روایتی ان کے نظریات اورباتیں ہوتی تھیں۔ گورنمنٹ کالج میں کسی دور میں وہ خودبھی زیر تعلیم رہے تھے، بلکہ مجلہ ”راوی“کی مجلس ادارت میں بھی شامل تھے۔زمانہ طالب علمی میں وہ پنجاب یونیورسٹی میں بھی زیر تعلیم رہے اور اس کے میگزین ”محور“ کی ادارتی ٹیم کا حصہ رہے تھے اور مختلف مجالس سے بھی ان کی وابستگی رہی۔شعبہ تدریس سے وابستگی کے دوران وہ راول پنڈی کے گورڈن کالج اور میانوالی کالج کے علاوہ ایف سی کالج میں بھی علم کی روشنی بکھیرتے رہے۔ان کی رخصتی کا دکھ اس لئے بھی زیادہ ہے چونکہ وطن عزیزپہلے ہی قحط الرجال کا شکار ہے۔ایسے تاریک دور میں ان جیسے جگنو کا بجھ جانا تیرگی کو اور گہرا کرگیاہے،تاریکی مزید بڑھ گئی ہے۔عربی زبان میں مثل مشہورہے کہ ایک عالم کی موت،عالم کی موت ہوتی ہے۔ایسے پڑھے لکھے اورلکھنے والے لوگ آج کل مشکل سے ملتے ہیں،زیادہ تر تو خالی برتنوں کی طرح شورمچاتے ہیں اور اندر سے بالکل کھوکھلے ہوتے ہیں۔

نیازی صاحب بڑے انسان دوست شخص تھے اور انتہائی محبت کرنے والے۔جذباتی،بلکہ یوں کہہ لیں کہ جلالی حد تک جذباتی تھے مگر کھرے اور سچے انسان تھے۔ان کا ظاہر باطن ایک تھا۔ان کا کھرا پن بعض لوگوں کو ناگوار بھی گزرتا تھا۔جعفربلوچ جو کہ بنیادی طور پر ان کے وسیب سے تعلق رکھنے کے علاوہ لاہور میں بھی ایک طرح سے ان کے ہمسائے تھے،ایک دن ان کی بے باکی، صاف گوئی سے عاجز آکرکہہ گئے

عیاں یہ بات تیری ایک ایک کل سے ہے

کہ تو  جمال سے اجمل نہیں جمل سے ہے

اس شعرمیں جعفربلوچ کی معاصرانہ چشمک بھی عیاں ہے، مگر اب یہ دونوں بہشت نصیب اللہ تعالیٰ کے دربار میں پیش ہو چکے ہیں، وہاں وہ ان پر رحمت کرے گا۔نیازی صاحب بڑے مخلص تھے۔خلوص کے بندے ہونے کے ساتھ ساتھ یاروں کے یار تھے۔بنیادی طور پرمجلسی شخص تھے۔بزم آرائیاں پسند کرتے تھے۔لوگوں کے دکھ اور سکھ میں شرکت کرکے طمانیت محسوس کرتے تھے۔ کمال درجے کے مٹے ہوئے انسان تھے۔صوفیانہ عاجزی اور انکساری ان کی طبیعت کا خاصہ تھی۔انا پرستی اور عاجزی کے حسین امتزاج کا پیکر شخصیت فقط انہی کا حصہ تھی۔میں نے ان کی داڑھی کو مکمل سیاہ سے پوری سفید ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھاہے،اس لئے یہ اوصاف حمیدہ سنی سنائی باتیں نہیں ہیں۔ آخری ملاقات کرکے رخصت ہونے لگا تو وہ ننگے پاؤں مجھے اپنے گھر کے دروازے کے باہر تک چھوڑنے کے لئے آئے تھے،بھلا میں کیسے بھول سکتا ہوں۔ شائد یہی منظر دیکھ کرسیف ڈرائیورکا کہنا تھا کہ آپ کے بہت سارے اہل قلم دوستوں سے مل چکا ہوں مگر اجمل نیازی جیسا عظیم انسان ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔وحدت کالونی کے اس سرکاری گھرسے اب انہیں اپنائیت محسوس ہونے لگی تھی۔بتانے لگے کہ اس مکان کا کرایہ نامہ اب میں نے اپنے بیٹے کے نام منتقل کردیا ہے جو کہ سرکاری ملازم ہے۔ان کی خواہش تھی کہ ان کا جنازہ مذکورہ مکان سے ہی اٹھایا جائے۔اللہ پاک نے ان کی یہ تمنا پوری کردی۔

اپنے سے جونئیراور عمرمیں چھوٹے اہل قلم کی بات ہمیشہ بڑی توجہ سے سنتے تھے۔بے نیاز ایسے تھے کہ حاکم وقت اور بڑے بڑے طاقتوروں کی ناراضگی کی ذرہ برابرپرواہ نہیں کرتے تھے۔شاید اسی شخصی پہلوکے سبب اپنے اخباری کالم کا عنوان انہوں نے ”بے نیازیاں“رکھا تھا۔اعلیٰ اخلاقی اقدار کا نا صرف پرچار کرتے تھے بلکہ پرچارک ہونے کے ساتھ ساتھ خود اپنی ذاتی زندگی میں ان اعلیٰ انسانی صفات کا عملی نمونہ تھے۔کمال کے فقرے بازاوربزلہ سنج تھے مگرپھکڑبازی نہیں کرتے تھے۔ان کے اندر مگرایک مخصوص اداسی تھی جس کا ظہاران کی شاعری میں بھی جابجا ہوتاہے۔

اجمل ہوں وسط شہر میں اجڑا ہوا مکان

پاس آ کے لمحہ بھر کوئی  بیٹھتا  نہیں  

حکومت کی طرف سے ان کو ستارہ امتیازسے بھی نوازاگیاتھا۔اس تمغے کے تذکرے کا مطلب نیازی صاحب کی عزت افزائی نہیں بلکہ یہ بتاناہے کہ کبھی کبھی سرکاری اعزازات اہل اورحق دار لوگوں کو بھی مل جاتے ہیں۔اپنی 1947کے سن میں پیدائش کو وہ پاکستان کے وجود میں آنے کے واقعے کے ساتھ نسبت کے سبب،خودکو پاکستان کا ہم عمرکہتے تھے۔ہائے افسوس!ہم پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی ڈاکٹر اجمل نیازی کے بغیر ہی منائیں گے۔

اناللہ واناعلیہ راجعون

مزید :

رائے -کالم -