کرکٹ کا حسن!! 

 کرکٹ کا حسن!! 
 کرکٹ کا حسن!! 

  

ملکی صورتحال کی گھمبیرتا میں ہر چڑھتے سورج کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے تو خوشی کی خبر کے لئے پوری قوم ترس جاتی ہے جس دیس میں مہنگائی، بیروزگاری، لاقانونیت کا دور دورہ ہو۔ جہاں حکومتیں ڈانواں ڈول اور گروہ حملہ آور ہوں، جہاں لوگ غیر محفوظ اور مافیا بے لگام ہوں تو اچانک وہ ہو جائے جس کی توقع بھی نہیں کی جا رہی تھی تو پھر سب تشویشناک خبریں پیچھے اور ایک اچھی خبر نمایاں ہو جاتی ہے۔ یہی ہوا ہے گزشتہ روز دبئی میں ہونے والے کرکٹ کے عالمی مقابلے میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم خود پاکستانی ماہرین کرکٹ کے لئے بھی فیورٹ نہیں تھی۔ صرف عاشقان کرکٹ تھے جو ایک بڑا مقابلہ دیکھنے کے لئے پر جوش تھے۔ ایک بات پر البتہ سبھی متفق تھے کہ پاکستان ٹیم کچھ بھی کر سکتی ہے۔ اس کے بارے میں پیشگوئی مشکل ہے۔ بھارت میں جوش کے ساتھ ساتھ خود اعتمادی حد سے بڑھی ہوئی تھی۔ سارا میڈیا ساری سیاسی، سماجی و مذہبی تنظیمیں اور شخصیات بھارت کو جیتا ہوا دیکھ رہی تھیں۔ سابق بھارتی کپتان کپیل دیو کا تو یہ کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم مجموعی طور پر کوئی ٹیم ہی نہیں ہے۔ اس کا کوئی ایک آدھ کھلاڑی کسی دن اچھا کھیل کر ایک آدھ میچ جتوا سکتا ہے اور بس ان کی بات اس حد تک صحیح ثابت ہوئی کہ جیتا جانے اور ایک آدھ میچ ان کے ہی خلاف کھیلا گیا۔ دنیا بھر کے ماہرین کی نظر میں عالمی کپ کی سپورٹ ٹیموں میں پاکستان کا نام جھجکتے جھجکتے ہی کسی نے لیا ہو تو لیا ہو۔ ورنہ انگلینڈ، آسٹریلیا اور بھارت ہی کا ذکر بار بار ہو رہا تھا۔ شعیب اختر البتہ پر امید تھے ان کا استدلال یہ تھا کہ عالمی کپ کے دونوں فارمیٹ (ایک روزہ اور ٹی  20) میں پاکستان کبھی بھارت سے نہیں جیتا۔

ماضی کی اس کارکردگی کا نفسیاتی دباؤ پاکستانی ٹیم سے زیادہ بھارتی ٹیم پر ہے۔ بھارتی میڈیا نے جو جنگی ماحول بنا دیا ہے اس میں بھارتی کھلاڑیوں پر بہت دباؤ ہوگا۔ اس کے مقابلے میں پاکستانی کھلاڑی کم دباؤ میں ہوں گے۔ دباؤ لینے ولای ٹیم کے جیتنے کے امکانات کم ہوتے جاتے ہیں۔ عام خیال یہ بھی تھا کہ گوشت خور پاکستانی زیادہ جلدی جذباتی ہو جاتے ہیں۔ سبزی خور بھارتی ٹھنڈے رہتے ہیں اور کھیل کو میرٹ پر کھیل کر کامیاب ہوتے ہیں۔ انفرادی طور پر بھارتی کھلاڑیوں کا ریکارڈ بہتر تھا خصوصاً بلے بازی اور فیلڈنگ میں بھارتی ٹیم بہتر سمجھی جاتی ہے۔ گیند بازی میں البتہ ان کے کھلاڑیوں میں دم ذرا کم تھا۔ کرکٹ کھیلنے کے مواقع ان کے پاس زیادہ تھے۔ مالی وسائل تو بہت ہی زیادہ تھے بھارتی کرکٹ بورڈ دنیا کا امیر ترین بورڈ ہے۔ آئی پی ایل کے نام پر دنیا بھر کے سب سے مقبول اور بڑے کھلاڑی بھارتی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلتے ہیں اور طویل طویل عرصے تک کھیلتے ہیں۔ بھارت پر عالمی کرکٹ کے دروازے کھلے ہیں۔ یہ عالمی کپ بھی بھارت میں ہونا تھا۔ وہ تو کورونا نے اس قابل نہ رہنے دیا۔ بڑے بڑے ملکوں نے بھارت ٹیمیں بھیجنے میں تحفظات کا مظاہرہ کیا تو ٹورنامنٹ کے میچ دبئی اور شارجہ منتقل کئے گئے۔ یہی وہ فیصلہ تھا جو پاکستان کے حق میں اچھا رہا۔ دبئی اور شارجہ کے میدانوں کو پاکستانی کھلاڑی ہوم گراؤنڈ ہی سمجھتے ہیں۔ ان کی وکٹیں اور گراؤنڈ کا برتاؤ پاکستانی میدانوں سے مماثل ہے۔

تماشائی بھی ”دشمنانہ“ نہیں ہوتے یہاں پاکستانیوں کی اچھی خاصی تعداد اپنے ہم وطنوں کی حوصلہ افزائی کے لئے موجود ہوتی ہے۔ پاکستانی کھلاڑیوں کو نفسیاتی طور پر دوستانہ ماحول ملتا ہے۔ تین سال پہلے چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کو عبرتناک شکست دینے کے بعد یہ تو پتہ چل گیا تھا کہ ہندوستانی ٹیم کو ہرانا اتنا بھی نا ممکن نہیں۔ تاہم یہ کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھاک ہ اتنی بڑی شکست دی جا سکتی ہے۔ چیمپئن ٹرافی میں جو کردار فاسٹ باؤلر محمد عامر نے ادا کیا تھا وہی کردار عالمی کپ ٹی 20 میں شاہین شاہ آفریدی نے ادا کر کے ابتداء میں ہی بھارتی بیٹنگ کی کمر توڑ دی۔ اس کے بعد بھارتی بلے بازی سنبھل نہ سکی اور صرف 151 رنز ہی بنا سکی۔ فتح کے لئے 152 رنز کا ہدف کوئی مشکل نہ تھا۔ پھر بھی کسی وکٹ کے نقصان کے بغیر مقررہ اوور سے بھی کم ہیں پورا کرنا کسی کے احاطہ خیال میں نہیں تھا۔ پاکستانی شاہینوں نے یہ کارنامہ انجام دے کر کرکٹ کی نئی تاریخ رقم کر دی۔ بھارت کو پہلی مرتبہ دس وکٹ سے شکست ہوئی۔ پاکستان نے پہلی مرتبہ 152 رنز کی افتتاحی بلے بازی کی۔ یہ بھی نیا ریکارڈ ہے۔ بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے میچ کے بعد منی پریس کانفرنس میں تسلیم کیا کہ پاکستانی کھلاڑیوں نے تینوں شعبوں، گیند بازی، بلے بازی اور فیلڈنگ میں بھارتی ٹیم کو مات دیدی۔ کوئی کیچ نہیں چھوڑا، کوئی آؤٹ نہیں ہوا۔ ان کا البتہ یہ کہنا تھا کہ بھارت کا عالمی کپ میں یہ پہلا ٹاکڑا تھا۔ یہ مقابلہ ہارنے کے باوجود بھارت کے لئے ٹورنامنٹ ختم نہیں ہوا۔ وہ اپنی غلطیوں پر قابو پاکر اگلے میچوں میں جیتیں گے ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا  مقابلہ  نیوزی لینڈ کی مضبوط ٹیم کے ساتھ بھی ہے میچ کا نتیجہ آنے پر پاکستان میں اور جہاں جہاں پاکستانی رہتے ہیں، خوشیاں، مبارکیں، مٹھائیاں اور آتشبازیاں فطری بات تھی لیکن مقبوضہ کشمیر میں جشن بھارتی اور عالمی رائے عامہ کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہونا چاہئے۔

وزیر اعظم عمران خان نے جس طرح ریاض (سعودی عرب) میں اپنے وفد کے ہمراہ بیٹھ کر، تسبیح گھماتے ہوئے میچ دیکھا وہ دیدنی تھا۔ کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین آل راؤنڈر میں شمار ہونے والے عمران خان کی کرکٹ میں دلچسپی فطری عمل ہے۔ کرکٹ کنٹرول بورڈ میں اپنے پرانے دوست اور رفیق کار رمیز راجہ کو چیئرمین لگانا اور آخر وقت تک ٹیم میں تبدیلیاں انہی کے مشورے کا نتیجہ ہیں۔  پہلے ہی میچ میں شاندنر بلکہ تاریخ ساز کامیابی سے ٹیم کو وہ حوصلہ اور اعتماد حاصل ہو گیا ہوگا جس کی کھلاڑیوں کو اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ورنہ وارم اپ میچ میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں جو درگت بنی اس سے تو خطرے کی گھنٹیاں ہی بجی تھیں۔ اس مرحلہ پر یہ بھی ضروری ہے کہ خود اعتمادی حد سے نہ بڑھے۔ ذہنوں میں تکبر نہ آئے اور اپنی صلاحیتوں کے بہترین استعال سے میرٹ پر کرکٹ کھیلنے کا سلیقہ پیدا کیا جائے۔  عالمی کپ کے اس پہلے مقابلے میں بلا شبہ تمام کھلاڑی ایک مربوط ٹیم کے طور پر کھیلے لیکن رضوان، بابر اور شاہین آفریدی کی کارکردگی نمایاں تر رہی۔ تمام کھلاڑیوں کو ان کی طرح ہی کھیل پیش کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر ہم نیوزی لینڈ سے جیت گئے تو اگلے مرحلے میں پہنچنا یقینی ہو جائے گا۔جو ٹیم جس دن اچھا کھیلتی ہے وہ اس دن کی بادشاہ اور ہیرو ہوتی ہے اور جس دن چوک جائے اس دن راندہ درگاہ اور زیرو ہوتی ہے۔ کوشش اور محنت آپ کے ذمے ہے قوم دعا کر سکتی ہے وہ کر رہی ہے۔ کامیابیاں آپ کا مقدر ہوں کہ آپ سرفراز تو قوم سرفراز۔

مزید :

رائے -کالم -