جیت کیوں ضروری تھی؟ 

جیت کیوں ضروری تھی؟ 
جیت کیوں ضروری تھی؟ 

  

کرکٹ کے میدان میں ایک بڑی اور دھماکہ خیز جیت بہت ضروری تھی خاص طور پر بھارت کے خلاف جیتنے کی خواہش کرکٹ ٹیم کے ہر کھلاڑی کے ساتھ ساتھ ہر پاکستانی کے دل میں بھی مچل رہی تھی۔ ویسے بھی اچھی خبریں ہم سے روٹھ گئی تھیں اور روزانہ مایوسی پھیلانے والی خبریں ہی سننے کو ملتی تھیں، ایسے میں کرکٹ ٹیم نے پاکستانی قوم کو جو لاجواب تحفہ دیا ہے، اس کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے۔ ٹی ٹونٹی کے اپنے پہلے میچ میں پاکستان نے سب سے بڑے حریف بھارت کو عبرتناک شکست سے دو چار کیا ہے۔ ایسا تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ بھارت کو دس وکٹوں سے مات ہوئی ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان اب تک جتنے بھی میچ ہوئے ہیں یہ ان میں سب سے بڑی فتح ہے۔ ایسی شکست کا تو شاید بھارتی ٹیم نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا۔ صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کی کسی ٹیم سے بھی بھارت کو دس وکٹوں سے شکست نہیں ہوئی۔

یہ سعادت پاکستان کے حصے میں ہی آنی تھی کہ غرور و تکبر میں مبتلا بھارتی کرکٹ بورڈ اور کرکٹ ٹیم کو صرف دو کھلاڑیوں نے دھول چٹا دی۔ یہ میچ بھارت کو ایک ڈراؤنے خواب کے طور پر یاد رہے گا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے پاک بھارت ٹیموں کے درمیان ہمیشہ کانٹے دار مقابلے ہوتے رہے ہیں۔ ون ڈے ہو یا ٹی ٹونٹی کے میچ، فیصلہ تقریباً آخری بال پر ہی ہوتا آیا ہے۔ مگر اس بار آغاز سے ہی یہ میچ یکطرفہ لگ رہا تھا، جب شاہین شاہ آفریدی نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کر دیا۔ جس کے بعد بھارتی ٹیم دباؤ میں آئی تو پھر آخر تک نہیں نکل سکی۔ اس میں بابر اعظم کی جارحانہ کپتانی کا بھی بڑا عمل دخل ہے جنہوں نے فرٹن فٹ پر آکر ایک بہادر کپتان کی طرح ٹیم کی سربراہی کی، بار بار باؤلر تبدیل کئے، جارحانہ فیلڈنگ سیٹ کی اور بھارتی کھلاڑیوں کے لئے سکور کرنا مشکل بنا دیا۔

جیسا کہ میں نے آغاز میں کہا ہے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ایک بڑی فتح وقت کی ضرورت تھی۔ اس کی کئی وجوہات ہیں پچھلے کچھ عرصے سے پاکستانی ٹیم نفسیاتی طور پر دباؤ میں تھی۔ پاکستانی گراؤنڈز میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ایک کمی کا سامنا تھا۔ پھر پے درپے شکست بھی ان کے پاؤں کی زنجیر بنی رہی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کھلاڑیوں کو بھارتی ٹیم کے مقابلے میں انٹرنیشنل کرکٹ کے حوالے سے حالیہ برسوں میں کمی کا سامنا بھی رہا۔ ایک جھٹکا انہیں اس وقت بھی لگا جب پاکستان آئی ہوئی نیوزی لینڈ کی ٹیم نے ان کے ساتھ کھیلنے سے انکار کر دیا بعد ازاں انگلینڈ نے بھی یکطرفہ طور پر دورہ منسوخ کر دیا۔ پھر ٹیم سلیکشن اور مینجمنٹ میں مسلسل تجربے ہوتے رہے۔ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بھی تبدیل کر دیئے گئے، یوں لگتا تھا پاکستان میں کرکٹ کسی بڑے انتشار کا شکار ہو گئی ہے۔ ایسے میں یہ اشد ضروری تھا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم اپنی پرفارمنس کے ذریعے یہ تمام داغ دھو ڈالے۔ میچ سے پہلے غیر ملکی مبصرین بھارت کو فیورٹ قرار دے رہے تھے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ بھارت مسلسل انٹرنیشنل کرکٹ میں ان تھا اور جیت بھی رہا تھا لیکن کرکٹ میں معجزے بھی ہوتے ہیں اور اپ سیٹ بھی۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں تو مقابلہ ویسے بھی بڑا سخت ہوتا ہے۔ اس لئے پاکستانیوں کو امید یہی تھی کہ اس بار کرکٹ ٹیم انہیں مایوس نہیں کرے گی اور ایسا ہی ہوا، ٹیم نے ایک تاریخ رقم کر دی۔ ایسی فتح حاصل کی جس میں خود پاکستانیوں کو بھی گمان نہیں تھا۔ توقع یہی تھی کہ ٹیم اچھا کھیلی تو ایک سخت مقابلے کے بعد بھارت کو شکست دینے میں کامیاب رہے گی، مگر یہ کسی کو امید نہیں تھی کہ بھارتی ٹیم کو اتنے بڑے مارجن سے شکست ہو گی۔

اس بڑی فتح کے بعد یقیناً پاکستانی ٹیم کا مورال بہت بلند ہو گیا ہے۔ اب پاکستانی یہ چاہتے ہیں نیوزی لینڈ کو بھی اتنے ہی بڑے مارجن کے ساتھ شکست دی جائے تاکہ اسے احساس ہو کہ جس ٹیم کے ساتھ اس نے کھیلنے سے انکار کیا تھا وہ دنیا کی سب سے مضبوط اور مانی ہوئی ٹیم ہے اس پہلی فتح کے بعد ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی ریٹنگ بھی بہت اوپر چلی گئی ہے۔ جس منظم انداز سے ٹیم نے باؤلنگ، بیٹنگ اور فیلڈنگ کے شعبوں میں اپنی اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے وہ میچ وننگ ٹیم بن گئی ہے۔ بھارت کے ساتھ کھیلتے ہوئے جہاں پوری قوم پر جوش ہوتی ہے وہیں ٹیم کے کھلاڑی بھی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں جس طرح بھارت سے میچ جیتنے کے بعد عوام ایسا ہی جشن منا رہے ہیں جیسے انہوں نے ورلڈ کپ جیت لیا ہو اسی طرح کھلاڑی بھی یہی سمجھتے ہیں اگر وہ بھارت سے ہار گئے تو یہ ورلڈ کپ کا فائنل ہارنے سے بھی بڑی شکست ہو گی، جس کے باعث وہ نفسیاتی دباؤ میں رہتے ہیں مگر اس بار غالباً پی سی بی کے چیئرمین رمیز راجہ نے انہیں اس نفسیاتی موت سے نکال کر میدان میں اتارا، ہر کھلاڑی کی باڈی لینگوئج بتا رہی تھی وہ پر جوش بھی ہے اور پر اعتماد بھی ایسے بڑے بچوں میں اکثر دباؤ کی وجہ سے کیچ چھوٹ جاتے ہیں لیکن اس میچ میں جہاں رضوان احمد نے بڑے اچھے کیچ لئے وہاں دیگر کھلاڑیوں نے بھی کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔ کرکٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ مضبوط اعصاب کا کھیل ہے جس ٹیم کے کھلاڑی اپنے اعصاب برقرار رکھتے ہیں، جیت کے لئے پر عزم ہوتے ہیں، وہ ٹیم جیت جاتی ہے۔ اس میچ کے بعد یقیناً پاکستانی کھلاڑیوں کے اعصاب فولاد بن گئے ہیں اور وہ ٹورنامنٹ جیتنے کے لئے زیادہ پر عزم دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے جس طرح اس جیت کا جشن منایا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کرکٹ کتنا مقبول کھیل ہے۔ بد قسمتی سے کرکٹ میں سیاست آتی رہی ہے اور پسند نا پسند کی بنیاد پر کھلاڑیوں کی سلیکشن کے مراحل بھی طے کئے جاتے رہے ہیں، جس سے اچھے کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی رہی۔ ٹیم مینجمنٹ کی وجہ سے بھی کھلاڑیوں میں گروپ بندی کے مظاہر سامنے آئے۔ کسی کپتان کو ناکام بنانے کے لئے بھی میچ ہارنے کے شواہد ماضی میں سامنے آ چکے ہیں۔ کھلاڑیوں کو بھی سوچنا چاہئے کہ جب بھی وہ قومی ٹیم کے لئے کھیلتے ہیں تو پوری قوم کی نظریں ان پر جمی ہوتی ہیں، پھر انہیں اسی طرح منظم ہو کر کھیلنا چاہئے جسے وہ بھارت کے خلاف کھیلے، امید ہے فتح کے جس سفر کا آغاز ہوا ہے وہ اس بار ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیتنے سے پہلے نہیں رکے گا۔

مزید :

رائے -کالم -