کرکٹ میچ سے گرین انی شی ایٹو تک 

کرکٹ میچ سے گرین انی شی ایٹو تک 
کرکٹ میچ سے گرین انی شی ایٹو تک 

  

 آج (25اکتوبر) کا پرنٹ میڈیا، دبئی میں کھیلے جانے والے پاک بھارت کرکٹ میچ میں پاکستان کی ناقابلِ یقین جیت کی خبروں سے اٹا پڑا ہے۔ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی پاکستان میں گرفتاری اور پھر انڈیا کو واپس کر دینے کی خبر کے بعد کرکٹ میچ میں بھارت کی 10وکٹوں سے شکست پاکستان کی دوسری تاریخی کامیابی ہے۔ اس کا جشن نہ صرف لندن میں منایا گیا بلکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی رات گئے مسلمانوں نے آتش بازی کے مظاہرے کرکے یہ ثابت کیا کہ اگر پاکستانیوں کے دل اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں تو مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بھی بھارت کے خلاف پاکستان کی کامیابی پر نازاں ہیں اور اندھیری راتوں میں سری نگر کی خاموش فضاؤں میں ستاروں کے جال بُن رہے اور ہاوہو کے مناظر تخلیق کر رہے ہیں۔

گزشتہ پون صدی سے انڈیا اس کوشش میں ہے کہ کسی نہ کسی طرح کشمیر کا مسئلہ دنیا کی توجہ کا مرکز نہ رہے۔ لیکن اس کوشش میں اس کی ناکامی ایک اور ناکامی کا باعث بھی بنی ہے۔ حال ہی میں بھارتی پنجاب میں بی جے پی کے خلاف کانگریسی امیدوار کی ناکامی سے تنگ آکر انڈیا کے سکھوں نے خالصتان کا ایک نقشہ جاری کر دیا ہے۔ تاریخی تناظر میں یہ نقشہ کوئی نئی بات نہیں۔سکھ اقلیت پہلے بھی (کئی برس پہلے) ایسے نقشے جاری کرتی رہی ہے لیکن ان کا مرکز اوٹاوا (کینیڈا) میں ہوتا تھا۔ لیکن اب کے یہ مرکزی چندی گڑھ اور ہریانہ میں منتقل ہو گیا ہے۔ 

پنجاب کے کسانوں نے گزشتہ برس دہلی کی طرف مارچ کرکے تمام بڑی بڑی شاہراہیں بند کر دی تھیں۔2020ء کا موسم سرما سکھوں نے جس استقلال سے دہلی کے گرد و نواح میں بسر کیا وہ ایک تاریخ بن چکا ہے۔ مودی سرکار کے گماشتے یہی کہتے رہے کہ اس سکھ احتجاج کی کوئی اہمیت نہیں۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ خالصتان نقشے کی اشاعت اسی احتجاج کا شاخسانہ ہے۔ اس طرح کے احتجاجات کی نوعیت سٹرٹیجک نتائج کو محیط ہوتی ہے اور اس کے لئے وقت درکار ہوتا ہے۔

پاکستانیوں نے ابھی نندن کی واپسی میں بھی فکری بلوغت کا مظاہرہ کیا تھا اور کوئی ناروا شوروغل نہیں مچایا تھا۔ صرف یہ پیغام دیا تھا کہ اگر تم بالاکوٹ میں آ سکتے اور ایک کوے کو نشانہ بنا سکتے ہو تو ہم ایل او سی عبور کرکے تمہارے ایک اہم ترین ٹارگٹ کو نشانہ پر رکھ کر ٹرگر نہیں دباتے اور اپنے طیاروں کو واپس بلالیتے ہیں۔ پاکستانیوں نے اپنی ذہنی پختگی کا ایک اور ثبوت اس کرکٹ میچ کو جیت کر بھی دیا ہے۔

پاک و ہند کرکٹ تاریخ بہت پرانی ہے۔ آج کی نوجوان نسل کو تو شاید معلوم نہ ہو لیکن جب ہماری نسل جوان تھی تو پاک بھارت ٹیسٹ میچوں کے میلے لگا کرتے تھے اور ہم کمنٹری سننے کے شوق میں رتجگے کرنے کے عادی تھے۔ آج ان دنوں کی یاد آتی ہے تو حیرانی ہوتی ہے کہ پوری انڈین ٹیم نے اپنی ’ہرجگہ‘ کا زور لگایا اور پاکستان کی افتتاحی جوڑی (Opening Pair) کو پھر بھی علیحدہ نہ کر سکی۔

یہ درست ہے کہ ہم نے 1971ء کی جنگ میں اپنا نصف بازو کٹوا دیا تھا اور ہمارے ماتھے پر یہ کلنک آج تک موجود ہے۔ ہم نے اگرچہ بہت کوشش کی۔ جوابی وار میں جوہری اور میزائلی قوت بھی حاصل کرکے پاکستان کو جنگی اعتبار سے ناقابلِ تسخیر بنا دیا لیکن انڈیا کا اصل Edge اس کی اقتصادی برتری ہے۔ ہم اپنی اقتصادی زبوں حالی میں آج تک گرفتار ہیں۔ حکومتیں آتی جاتی رہیں۔ مارشل لاء بھی آئے اور جمہوری ادوار بھی تشریف فرما ہوئے لیکن نہ زمین نے جُنبش کی اور نہ گل محمد اپنی جگہ سے ہِلا!

پاکستان کو اقتصادی خوشحالی / بدحالی کا یہی چیلنج آج بھی درپیش ہے، جس نے ایک پاپولر سیاسی تحریک اور مستحکم حکومت کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ لیکن ہمارے صاحبانِ اقتدار اس طرف توجہ نہیں کر رہے۔ عوام کو ”صبر“ کی تلقین کی جاتی ہے لیکن معاملات جب ’صبرِ ایوب‘ کی طرف بڑھ رہے ہوں تو پاکستانی اپنے پیغمبروں کی پیروی کس طرح کریں اور کہاں تک کریں؟

وہ دن بھی تھے جب پی ٹی آئی فخریہ اعلان کیا کرتی تھی کہ فوج اور حکومت ایک صفحے پر ہیں۔ اب بھی صفحہ تو موجو دہے لیکن اس کی Placement تبدیل ہو گئی ہے۔ ایک صفحہ کتاب کے اول میں ہے اور دوسرا پس ورق کہلانے لگا ہے۔ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ بیچ میں اگر ساری کتاب خالی ہو گئی ہے تو حروفِ نوشتہ کا کیا بنے گا اور وہ کہاں جائیں گے اور کون سی کتاب کا حصہ بنیں گے…… اولین ورق اور آخریں ورق کی درمیان جگہ کو بے شک ’دڑاڑ‘ کا نام نہ دیں لیکن اسے کوئی تو نام دینا پڑے گا۔ پاکستان کے مستقبل کے لئے یہ شگون کوئی نیک شگون نہیں۔ حکومت کا باقی ایک ڈیڑھ برس رہ گیا ہے۔ ہم جیسے بیم و رجا کی دنیا میں بسنے والوں نے سوچا تھا کہ حکومت اس ڈیڑھ سال میں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ تعمیر کرنے کی کوشش کرے گی اور اگلی پچھلی کسر پوری کر دے گی۔ ہم جیسے ماضی پرست لوگ اب بھی امید لگائے بیٹھے تھے کہ شاید رُت بدلے اور اگلے 18،20ماہ پاکستان کے ستم رسیدہ غریب عوام کو کوئی ریلیف مل جائے۔ لیکن:

کوئی امید بر نہیں آتی

کوئی صورت نظر نہیں آتی

حکومت نے DG ISI کی تقرری کا نوٹی فیکشن نکالنے میں اتنی تاخیر کر دی ہے کہ تحریک انصاف کے عشاق بھی گومگو کے عالم سے نکل کر یاس و ناامیدی کے عالم میں چلے گئے ہیں …… حکومت کی یہ تاخیر ایک سٹرٹیجک بلنڈر ہے۔ خان صاحب آج کل مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ہیں۔ میری دعا ہے کہ اب کملی والا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی حکومت اور پاکستان کی مدد کرے۔

ہمارے وزیراعظم تین روزہ دورے پر ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر ”مڈل ایسٹ گرین انی شی ایٹو“ (MGI) کی چوٹی کانفرنس میں شرکت کے لئے ریاض میں ہیں۔ یہ ’سبز پہل کاری‘ کیا ہے، اس کی سمٹ (Summit) کا انعقاد ریاض میں کیوں ہو رہا ہے اور اس کے فوائد (یا مضمرات) کیا ہیں، خدا لگتی بات ہے کہ ان سوالوں میں سے کسی ایک کا کوئی مسکت جواب مجھے نہیں سوجھ رہا!

مزید :

رائے -کالم -