سانحہئ مینار پاکستان کے اصل حقائق پوشیدہ کیوں رہے؟ 

سانحہئ مینار پاکستان کے اصل حقائق پوشیدہ کیوں رہے؟ 

  

لاہور کے سب سے بڑے عوامی و تفریحی مقام مینار پاکستان اقبال پارک میں ایک ٹک ٹاکر خاتون کے ساتھ تقریباً دو ماہ قبل جو بدترین اور اندوہناک واقعہ پیش آیا.جسے ہر شخصنے انتہائی افسوس ناک اور معاشرے کی بے حسی قرار دیا اس پر سب ہی لوگ چیخ اٹھے، کسی نے اس کا ذمے دار میڈیا کو ٹھہرایا اور کسی نے لبرل قوتوں کو اس درناک منظر نے پورے ملک میں خوف پھیلادیا کہ ہماری بہنیں اور بیٹیاں یہاں کیسے محفوظ رہ سکتی ہیں؟ جہاں مجمعے میں ایک عورت سینکڑوں لوگوں کے آگے یوں نوچی جا رہی ہے وہاں تنہا عورت کا یہ درندے کیا حشر کرتے ہونگے؟ بہرحال پوری دنیا میں ایک تماشا لگایا گیا تاکہ یہ بات ثابت کی جاسکے کہ پاکستان میں عورتوں کی کوئی عزت اور توقیر نہیں ہے۔ پاکستان کا معاشرہ درندہ صفت لوگوں کی آماج گاہ بنتا جا رہا ہے،ایسے جملوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے وائرل کرایا گیا اور بلا تصدیق اور تحقیق کے پورے معاشرے میں یہ بات پھیلائی گئی کہ پاکستان میں درندوں کی اکثریت ہے، عورتوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ بعض حکمران بھی اس واقعے میں بڑے متحرک نظر آئے، پولیس کے کچھ سینئر افسران کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دے کر انھیں عہدوں سے ہٹا دیا گیا جبکہ سزا کے طور پر مقامی ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو معطل بھی کیا گیا لیکن جب یہ بات سب پر عیاں ہوگئی کہ وہ ٹک ٹاکر خاتون جن کا نام عائشہ اکرم تھا ایک خاص مقصد کے لیے اپنے دیگر تین ساتھیوں عامر سہیل عرف ریمبو، صدام حسین ودیگر کے ہمراہ اقبال پارک میں پہنچی۔ 12اگست کو میسج کر کے نوجوانوں کو مینار پاکستان آنے کا کہا گیا۔ پولیس نے گریٹر اقبال پارک کے واقعے پر ایف آئی آر میں دفعہ 354 لگا دی جس کی سزا موت ہے، واقعے میں ملوث 104 افراد کو گرفتار کر کے جیل بھجوایا گیا۔ مقدمے میں سرعام خاتون کو برہنہ کرنے اور ہنگامہ آرائی کی دفعات بھی شامل کی گئیں۔

دوسری جانب پولیس کو یہ بھی بتایا گیا کہ واقعہ کے وقت عائشہ اکرم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اقبال پارک پہنچی اور انہوں نے وہاں وڈیو بنانا شروع کر دی۔ اس کے ساتھی اسے ہوا میں اچھالتے رہے اور وہاں پر موجود منچلے بھی ساتھ شامل ہو گئے۔ شروع میں تو پوری قوم نے خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا لیکن جب یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ ٹک ٹاکر خاتون کا یہ پورا پروگرام پلانٹڈ تھاتو کسی نے اس طرف توجہ نہ دی وزیر اعظم پاکستان کے نوٹس لیتے ہی محکمہ پولیس کے سابق کمانڈر انعام غنی نے موجو دہ آئی جی پولیس راؤ سردار کی نگرانی میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی جس نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو یہ رپورٹ پیش کی کہ یہ واقعہ ان کے اپنے ہی افسران کی نااہلی،سستی اور بروقت کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے پیش آیا ہے۔جس پر سات روز بعد وزیرعلیٰ پنجاب نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گریٹر اقبال پارک میں خاتون سے دست درازی اور دیگر واقعات پر پولیس کا ردعمل سست رہا ہے اور ان کی ہدایت پر ڈی آئی جی آپریشنز ساجد کیانی کو او ایس ڈی جبکہ ایس ایس پی آپریشنز سید ندیم عباس اور ایس پی سٹی حسن جہانگیر وٹو کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا، متعلقہ افسران کو سی پی او آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی۔اس کے علاوہ رسپانس میں تاخیر اور فرائض سے غفلت پر ڈی ایس پی عثمان حیدر گجر اور ایس ایچ او لاری اڈہ کو بھی معطل کر دیا گیا جبکہ گریٹر اقبال پارک کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر کو بھی معطل کر دیا گیا۔مینار پاکستان کے قریب درجنوں افراد کے ہاتھوں ہراساں ہونے والی ٹک ٹاکر عائشہ اکرم نے اب دوماہ بعد انکشاف کیا ہے کہ انہیں قریبی دوست پارک لے گئے تھے۔ ساتھ ہی عائشہ اکرم نے انکشاف کیا کہ جس ساتھی کے کہنے پر وہ اقبال پارک گئی تھیں، اس کے پاس ٹک ٹاکر کی کچھ نازیبا ویڈیوز بھی ہیں، جن کے ذریعے وہ انہیں بلیک میل کر رہا ہے۔

عائشہ اکرم نے 8 اکتوبر کو ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور شارق جمال کو تحریری درخواست دی کہ انہیں ان کا دوست ’ریمبو‘ بلیک میل کر رہا ہے۔درخواست میں عائشہ اکرم نے بتایا ہے کہ یوم آزادی کے موقع پر مینار پاکستان کے گریٹر اقبال پارک جانے کا منصوبہ بھی ان کے دوست ’ریمبو‘ نے بنایا تھا۔ وہ اس سے اب تک 10 لاکھ روپے بھی وصول کر چکا ہے۔ خاتون نے درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ ریمبو کو اپنی نصف تنخواہ بھی دیتی ہیں۔عائشہ اکرم نے تحریری درخواست میں ایک حیران کن انکشاف بھی کیا کہ ’ریمبو‘ کے ایک اور ساتھی ’بادشاہ‘ نے ٹک ٹاکرز کا ایک گینگ بنا رکھا ہے جو دوسرے لوگوں کو بلیک میل کرتا ہے۔خاتون کے مطابق ’بادشاہ‘ نامی ٹک ٹاکر کی سربراہی میں قائم ٹک ٹاکرز کا گینگ دوسرے لوگوں کو بلیک میل کرکے ان سے رقم بٹورتا ہے۔عائشہ اکرم کی جانب سے ملنے والی درخواست کے بعد ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شارق جمال کی ہدایت پرلاری اڈہ انوسٹی گیشن پولیس نے عامر سہیل عرف ریمبو اور اس کے دیگر 8 ملزمان کو گرفتار کر کے مقامی عدالت سے چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا ہے جبکہ ریمبو نے عائشہ اکرم کے ساتھ نازیبا ویڈیوز کا اعتراف کرلیا ہے۔ 9اکتوبر کوعائشہ اکرم کے ساتھی ریمبو سمیت 8 ملزموں کو ضلع کچہری کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سرکاری وکیل نے بتایا کہ یہ ہائی پروفائل معاملہ ہے، جس کی بازگشت پوری دنیا میں سنی گئی، ہم چاہتے ہیں کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو، مختلف ویڈیوز اور دیگر چیزیں برآمد کرنی ہیں، عدالت تفتیش مکمل کرنے کیلئے جسمانی ریمانڈ دے۔ دوسری جانب افسران بالا نے ریمبو سمیت دیگر ملزمان کی تصویریں اور گرفتاری کی ویڈیو نشرکروانے کے الزام میں چار اہلکاروں الیاس اور رمضان وغیرہ کے خلاف بھی مقدمہ درج کرکے انھیں بھی حراست میں لے لیا ہے۔

اگر بات کی جائے اداروں کی کارکردگی کی تو اس انکوائری رپورٹ کے بعد ہمیں سمجھ آجانی چاہیے کہ جو بات آج دو ماہ بعد سامنے آئی ہے یہ اس وقت سامنے کیوں نہیں آئی جب پاکستان ”دنیا بھر“ میں عورتوں کی عزت اور توقیر کے حوالے سے بدنام ہو رہا تھا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عوام میں پایا جانے والا غم و غصہ اور اداروں کی بدنامی کی اصل صورت حال فوری سامنے لائی جاتی مگر ایسے کیوں نہیں ہو سکا یہ ہمارے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اور کمزور کمانڈنگ کا نتیجہ ہے جب تک اداروں سے سیاسی مداخلت ختم نہیں ہو گی یہ ادارے کسی صورت بھی اپنی کارکردگی بہتر نہیں بنا سکتے، پولیس کلچر میں تبدیلی کیلئے سب سے پہلے گرفتاری کے اختیار کو محدودکرنے کی ضرورت ہے۔

 آج پولیس میں کلچر ہے کہ ایف آئی آر کے بعد گرفتاری کا عمل فوری شروع کر دیاجاتا ہے۔ ادھر ایف آئی آر درج ہوئی ساتھ ہی گرفتاری کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ جونہی ایف آئی آر تفتیشی افسر کے ہاتھ میں آتی ہے وہ ملزم کی گرفتاری کے لیے نکل پڑتا ہے۔ تفتیشی افسر کے لیے یہ جاننا اہم نہیں ہوتا کہ ملزم گناہ گار ہے کہ نہیں۔ مدعی کا الزام سچا ہے یا جھوٹا۔ بس فوری ملزم کی گرفتاری ہی تفتیش کا نقطہ آغاز سمجھا جاتا ہے۔ پولیس مدعی سے کچھ پوچھتی ہی نہیں ہے۔ سارا زور ملزم پر لگایا جاتا ہے۔توجہ طلب بات یہ ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی مدعیہ عائشہ اکرم سے حقائق جاننے میں ناکام کیوں رہی جو حقائق آج سامنے آرہے ہیں اس وقت کیوں نہیں لائے گئے درحقیقت سیاسی دباؤ اس قدر زیادہ تھا کہ کسی نے اس سے بات کرنا گوارہ نہیں کیا اگر ہم اس کیس کو ٹیسٹ کیس قرار دیں تو تفتیشی ادارے مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ اداروں کی سربلندی اور کمانڈنگ کی بحالی کیلئے وقوعہ کی زد میں آنے والے تما م افسران ایس ایچ اوز سے لے کر ڈی آئی جی تک سبھی کو واپس ان کے عہدوں پر تعینات اور ڈی ایس پی کو بحال کیا جانا چاہیے۔ ایک اسلامی ملک میں اس طرح کی خرافات اور فحش حرکات کی کسی بھی قیمت پر اجازت نہیں دی جاسکتی اور ہمارا معاشرہ بھی اس طرح کی مادر پدر آزادی کیخلاف ہے۔ جب سے سوشل میڈیا پر ٹک ٹاک وڈیو بنانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے بے ہودگی کا ایک سیلاب اْمنڈ آیا ہے اور اس یلغار نے ہماری نسل نو کے تشخص کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اس کے علاوہ ٹک ٹاک شوٹنگ کے دوران حادثات میں کئی قیمتی جانوں کا نقصان بھی ہوا ہے۔ خرافات کے ان پروگراموں کے ذریعے ہماراخاندانی نظام بھی تباہ ہوکر رہ گیا ہے۔ 

٭٭٭

عائشہ اکرم کے مطابق ریمبو کے پاس اس کی کچھ نازیبا ویڈیوز 

بھی ہیں، جن کے ذریعے وہ انہیں بلیک میل کر رہا ہے

 ٹک ٹاک پر بے ہودگی کا ایک سیلاب اُمنڈ آیا ہے اور اس یلغار نے ہماری نسل نو کے تشخص کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے

تفتیشی افسران ٹک ٹاکر سے فوری تفصیلات حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے

مزید :

ایڈیشن 1 -