گیس سلنڈ ر بم’’۔۔حادثات کا باعث!

گیس سلنڈ ر بم’’۔۔حادثات کا باعث!

  

 بدقسمتی سے آج ہمارے ہاں پائی جانیوالی نفسا نفسی طمع نفسانی و مالی مفاد کی سوچ کا شاخسانہ ہے جس کی ایک واضح مثال سڑکوں پر ہرگاہ دوڑتی وہ چھوٹی بڑی مسافرگاڑیاں ہیں جو سلنڈر کی گیس کی مدد سے چلائی جارہی ہیں انہیں حاصل ترجیح کی بنیادی وجہ کرایہ کی مد میں معمول سے بڑھ کر حاصل ہونے والا مالی فائدہ ہے حالانکہ پٹرولیم مصنوعات کی طرح گیس کے نرخ بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں تو اس اعتبار سے غیر معمولی منافع کا حصول کیونکر ممکن ہے؟ اس سوال کا ذہن میں کروٹ لینا منطقی ہے لہذا کلیدی امر یہ ہے کہ حکومت نے مسافر گاڑیوں میں گیس سلنڈرز کے استعمال کی بعض شرائط مرتب کررکھی ہیں جن کی بنیادی وجہ آئے روز گیس سلنڈرز کے ذریعے چلنے والی گاڑیوں کو رونما ہونے والے حادثات ہیں جو انسانی جانوں کے لقمہ اجل بننے کاسبب ثابت ہورہے ہیں جس کے پیش نظر حکو مت نے گاڑیوں میں گیس فیول کی خاطر استعمال ہونے والے سلنڈرز کا معیار مقرر رکھا ہے کہ وہ فقط انہی کمپنیوں کے ہوں جن کے تیار کردہ گیس سلنڈرز کو فروخت کی سند حاصل ہے اور چونکہ اس کا معیار خاصا غیر معمولی ہے جس کی نسبت ان کمپنیوں کے گیس سلنڈرز کی قیمت بھی عام گیس سلنڈرز سے کئی گنا زائد ہے لہٰذا مسافر گاڑیوں کے اکثر مالکان ان معیاری مگر قدرے مہنگے سلنڈرز کے استعمال کی بجائے مارکیٹ میں سستے داموں مگرغیر معیاری سلنڈر ز کی خرید کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ یہ زیادہ رجحان پسماندہ اضلاع میں پایا جاتا ہے جن میں شیخوپورہ سرفہرست ہے جہاں نہ صرف اکثریتی مسافر وینز بلکہ بڑ ی مسافر گاڑیوں میں بھی ان غیر معیاری گیس سلنڈرز کا استعمال جاری ہے، شیخوپورہ سے فاروق آباد، خانقاہ ڈوگراں، مریدکے، شرقپور شریف، جنڈیالہ شیر خان، حافظ آباد، ننکانہ صاحب اور مانانوالہ سمیت مختلف شہروں یا اندرون ضلع چھوٹے بڑے قصبات و دیگر دیہی آبادیوں کو جانے والی مسافر گاڑیو ں میں ان غیر معیاری گیس سلنڈرز کا بے دریغ بلکہ دھڑلے سے استعمال جاری ہے حالانکہ اس رجحان کے خاتمہ اور اس غیر قانونی خطرناک عمل کی حوصلہ شکنی کیلئے ٹرانسپورٹ اتھارٹی قائم ہے جس کے دیگر اضلاع کی طرح شیخوپورہ میں بھی افسران متعین ہیں مگر بدقسمتی سے شیخوپورہ میں ٹرانسپورٹ اتھارٹی سمیت دیگر متعلقہ حکام کی ناک تلے یہ لاقانونیت ہورہی ہے، ذرائع کے مطابق ضلع بھر میں چلنے والی مسافر گاڑیوں کی اکثریت ایسی ہے جن میں غیر معیاری گیس سلنڈرز نصب ہیں جنہیں اول تو ترجیحی طور پر چیک نہیں کیا جاتا اور اگر کبھی دکھاوے کی خاطر کاروائی کرنا پڑ بھی جائے تو ٹرانسپورٹ اتھارٹی کا عملہ مبینہ طور چند پیسوں کے عوض ان گاڑیوں کے خلاف کڑی کاروائی نہیں کرتا جن میں یہ گیس بم نصب ہوتے ہیں اس طرح اس عملہ کی تو مبینہ طمع نفسانی تسکین پالیتی ہے مگر حادثات کی شرح میں ممکنہ اضافہ کے خدشات تقویت پکڑتے ہیں اور انسانی جانوں کے ضیاع کے خدشات مزید بڑھ جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ضلع میں آئے روز گیس سلنڈرز کے پھٹنے کے باعث رونما ہونے والے حادثات میں قیمتی انسانی جانیں لقمہ اجل بن رہی ہیں حتی کہ سکول وینز تک میں انہی غیر معیاری گیس سلنڈرز کا استعمال جاری ہے درجنوں معصوم طلبہ و طالبات اور اساتذہ جن کے پھٹنے کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جبکہ ان غیر معیاری گیس سلنڈرز کے پھٹنے سے رونما ہونے والے حادثات بھی اتنے بھیانک ہوتے ہیں کہ حاد ثہ زدہ گاڑی کے آتشزدگی کا شکار ہونے کے دوران کسی مسافر کا بچ پانا ممکن نہیں رہتااور آگ اسقدر شدید ہوتی ہے کہ مسافر وں گاڑی پھنسے مسافر وں کی ہڈیوں کے سوا کچھ نہیں ملتا ہمار ے ہاں اکثریتی مسافر گاڑیاں پہلے ہی فٹنس کے معیار پر پورا نہیں اترتیں جس کے باعث ٹریفک حادثات کی شرح دیگر اضلاع کی نسبت خاصی زیادہ ہے اس صورتحال میں غیر معیاری گیس سلنڈرز استعمال کئے جانے کا سوچ کر بھی خوف آتا ہے مگر انہیں استعمال کرنے والوں کی آنکھوں پر لالچ کی ایسی پٹی بندھی ہے کہ انسانی جانوں کا ضیاع انہیں دکھائی نہیں دیتااسی طرح ٹرانسپورٹ اتھارٹی بھی گیس سلنڈرز کے پھٹنے کے باعث رونما ہونیوالے حادثات کی پور ی ذمہ دار ہے جبکہ موٹر ز وہیکلز ایگزیمینراور ٹریفک پولیس افسران و ملازمین بھی قطعی بری الذمہ نہیں جو فنٹس کے تقاضوں پر پورا نہ اترنے والی مسافر گاڑیوں کیخلاف کاروائی کرنے کو تیار نہیں۔

 ذرائع کے مطابق مذکورہ محکموں کے بعض افسران و ملازمین کی طرف سے کاروائی کے فقدان کی اصل وجہ لاکھوں روپے مبینہ بھتہ کی رقم ہے جو ماہانہ انکی جیبوں کی نذر ہوتی ہے، ایک طرف مسافر گاڑیوں کے مالکان چند پیسوں کی بچت کی خاطر غیر معیاری گیس سلنڈرز استعمال کررہے ہیں تو دوسری طرف ٹرانسپورٹ اتھارٹی، موٹر وہیکلز ایگزیمینراور عملہ ٹریفک پولیس اس غیر قانونی عمل کا راستہ روکنے کی بجائے چند پیسوں کے لالچ میں انہیں سختی سے روکنے کو تیار نہیں اور نتیجہ یہ ہے کہ انسانی جانیں گیس سلنڈرز پھٹنے کے باعث رونما ہونے والے آتشزدگی کے واقعات کی نذر ہورہی ہیں جسے لگام نہ ڈالی گئی تو یہ بھیانک سلسلہ کبھی روکا نہیں جاسکے گاحد تو یہ ہے کہ آج تک گیس سلنڈرز پھٹنے کے سبب رونما ہونیوالے انسانی جانوں کے ضیاع کے کسی ایک واقعہ کی بھی موثر جانچ نہیں کی جاسکی اور نہ ہی کو ئی واضح رپورٹ منظر عام پر لائی گئی ہے تاکہ عام شہریوں کو آگاہی حاصل ہواور غیر معیاری گیس سلنڈرز کے استعمال کے خلاف شہریوں کا شعور اجاگرہوسکے مگر متعلقہ حکام کو شاید عوامی آگہی قبول نہیں نہ ہی انہیں مرنے والوں کے لواحقین کو انصاف دلانے کی کوئی فکر ہے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -