کورونا میں کمی کے بعد فلموں کی شوٹنگ کا آغاز ہوگیا

  کورونا میں کمی کے بعد فلموں کی شوٹنگ کا آغاز ہوگیا

  

لاہور (فلم رپورٹر)شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہ اگلے سال فلمی صنعت کی بحالی کی کوششوں میں مزید بہتری نظر آئے گی۔شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ اب روائتی ڈگر سے ہٹ کر پنجابی فلمیں بنانا ہوں اسی صورت میں بحران کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد سے لاہور کی ثقافتی سرگرمیوں کی بحالی کے لئے سنجیدہ کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے لیکن ایک بار پھر کرونا کی چوتھی لہر نے ساری صورتحال کو تبدیل کرکے رکھ دیا تھا۔معاملات خراب ہونے سے قبل لاہور میں متعدد پنجابی اور پشتو فلمیں بنائی جا رہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ ٹی وی ڈرامے بھی بن رہے تھے۔اب ان تمام فلموں کی شوٹنگ اور ڈراموں کی ریکارڈنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا چکا ہے۔ لاہور میں فن و ثقافت کی بحالی کے لئے سینئر لوگوں کی کوششوں اور کاوشوں کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔شاہد حمید،معمر رانا،مسعود بٹ،حسن عسکری،شانسید نور،میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی،صائمہ نور،میگھا،ماہ نور،ہانی بلوچ،یار محمد شمسی صابری،سہراب افگن،لائبہ علی،عذرا آفتاب،حنا ملک،انعام خان،فانی جان،عینی طاہرہ،عائشہ جاوید،میاں راشد فرزند،سدرہ نور،نادیہ علی،شین،سائرہ نسیم،صبا ء کاظمی،،سٹار میکر جرار رضوی،آغا حیدر،دردانہ رحمان،عینی خان،ظفر عباس کھچی،سٹار میکر جرار رضوی،ملک طارق،مجید ارائیں،طالب حسین،قیصر ثنا ء اللہ خان،مایا سونو خان،عباس باجوہ،مختار چن،آشا چوہدریمحمد سلیم بزمی،سفیان،انوسنٹ اشفاق،شہبازحسین،فیاض علی خاں،پروڈیوسر شوکت چنگیزی،ظفر عباس کھچی،ڈی او پی راشد عباس،پرویز کلیم،نیلم منیر خان،ڈیشی خان اور نجیبہ بی جی  نے لاہور میں پنجابی فلموں کو دوبارہ عروج پر لانے کی کوششوں کو سراہا۔

ہے۔شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ اس وقت جوجو لوگ اس سلسلے میں کام کررہے ہیں ان کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے لاہور میں پنجابی فلمیں دوبارہ تسلسل کے ساتھ بننے سے غریب تکنیک کاروں کو بے روزگاری سے بچایا جاسکے گا ان گھروں میں ایک بار پھر چولہا جلنا شروع ہوجائیں گے۔اب نگار خانوں کی ویرانی میں کمی نظر آرہی ہے۔

مزید :

کلچر -