سعودی عرب کے دفاع کیلئے ساتھ کھڑے ہیں: عمران خان 

     سعودی عرب کے دفاع کیلئے ساتھ کھڑے ہیں: عمران خان 

  

ریاض،جدہ (بیوررپورٹ،مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات تاریخی اور لازوال ہیں، اگر کبھی سعودی عرب کی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہوا، مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت دنیا کیا کرے گی، مگر میں یقین دلا سکتا ہوں کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گا، خواہش ہے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات نئی بلندیوں کو چھوئیں،سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اپنے ملک میں تبدیلیوں کا جذبہ رکھتے ہیں،ساٹھ کی دہائی میں پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا تھا اور پی آئی اے دنیا کی بہترین ایئرلائنز میں سے تھی، لیکن بدقسمتی سے ہم نے اپنا راستہ کھو دیا،اب پھر سے ملک کو درست سمت میں لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، بھارت کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی بھی کوشش کی ، دونوں ملکوں کو مہذب پڑوسیوں کی طرح رہنا چاہیے۔پیر کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں پاکستان سعودی عرب انوسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان ہر حال میں سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پرعزم ہے۔ بقول ان کے اگر کبھی سعودی عرب کی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہوا، مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت دنیا کیا کرے گی، مگر میں یقین دلا سکتا ہوں کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ 30 سال سے سعودی عرب آ رہے ہیں۔ان کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اپنے ملک میں تبدیلیوں کا جذبہ رکھتے ہیں۔وزیراعظم نے خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات نئی بلندیوں کو چھوئیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب مضبوط تعلقات میں بندھے ہوئے ہیں اور اس کی دو وجوہات ہیں۔پہلی وجہ مقدس مقامات ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔وزیراعظم کے مطابق پاکستان ایک ایسی سٹریٹیجک لوکیشن پر واقع ہے جو وسطی ایشیا اور چین جیسی بڑی مارکیٹس کا معاشی دروازہ ہے۔انہوں نے 60 کی دہائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا تھا اور پی آئی اے دنیا کی بہترین ایئرلائنز میں سے تھی، لیکن بدقسمتی سے ہم نے اپنا راستہ کھو دیا۔اب پھر سے ملک کو درست سمت میں لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ہم نے بھارت کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ساتھ ہی انہوں نے اتوار کو ہونے والے پاکستان اور بھارت کے کرکٹ میچ کا حوالہ بھی دیا، جس پر شرکا نے تالیاں بجائیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کا معاملہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرے تو ہمارا کوئی جھگڑا نہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ کل رات پاکستان نے بھارت کو میچ میں بری طرح پچھاڑ دیا، یہ میچ پر بات کرنے کا مناسب وقت نہیں ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر کا معاملہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرے تو ہمارا کوئی جھگڑا نہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو مہذب پڑوسیوں کی طرح رہنا چاہیے۔ بھارت کشمیریوں کو ان کے حقوق دے جس کی ضمانت سلامتی کونسل نے دی تھی۔سعودی وزیر سرمایہ کاری انجینئر خالد بن عبدالعزیز الفالح نے اپنے کلیدی خطاب میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دیرینہ اور پائیدار تعلقات پر زور دیا اور دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین اور وزیر توانائی حماد اظہر نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ ہاؤسنگ اور پن بجلی کے شعبوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع پر الگ الگ پریزنٹیشنز پیش کی گئیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں پاکستان کی جغرافیائی سیاست سے جیو اکنامکس کی جانب منتقلی سے متعلق گفتگو کی۔وزیراعظم کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے پاکستان کی معاشی بحالی پر روشنی ڈالی اور وزیر توانائی حماد اظہر نے توانائی، زراعت، لائیو سٹاک اور دیگر اہم شعبوں میں مواقع کا خاکہ پیش کیا۔تقریب میں سعودی سرمایہ کاروں اور تاجروں، پاکستان کے اہم کاروباری افراد، مملکت میں مقیم پاکستان کے نجی شعبے کے سٹیک ہولڈرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ معروف سعودی فرموں بشمول ایس اے بی آئی سی،اے سی ڈبلیو اے پاور، مدین، ایس اے ایل آئی سی،الزمیل گروپ، البوانی گروپ اور راعد بینک نے فورم میں شرکت کی اور پاکستان کے ساتھ گہرے تعلقات بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔بھارت مقبوضہ کشمیر کا معاملہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرے تو ہمارا کوئی جھگڑا نہیں، پاک سعودی عرب کے باہمی تعلقات لازوال ہیں،  پاکستان ہمیشہ مخلص دوستوں کو یاد رکھتا ہے،  پاکستان سعودی عرب کی سلامتی یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے   دوسری طرف  امریکی صدر جوزف بائیڈن کے خصوصی نمائندے جان کیری نے موسمیاتی تبدیلی سے لڑنے کے لیے پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی تعریف کر ڈالی۔ مڈل ایسٹ گرین انیشئیٹو سمٹ کی سائید لائن پر وزیراعظم عمران خان سے امریکی صدر کے خصوصی نمائندے جان کیری سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق درپیش چیلنجوں کے بارے میں اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا اور 10 بلین ٹری سونامی منصوبے سمیت ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پاکستانی اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔جان کیری نے موسمیاتی تبدیلی سے لڑنے کے لیے پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی تعریف کی۔ دونوں فریقین نے تعاون کے ایک مؤثر فریم ورک کے لیے قریبی رابطے پر اتفاق کیا۔وزیراعظم عمران خان نے "یو ایس پاکستان کلائمیٹ اینڈ انوائرمنٹ ورکنگ گروپ" کے افتتاحی اجلاس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی خطرے کے خلاف قومی اور عالمی سطح پر زور دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور امریکا کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں خیالات، مہارت اور ٹیکنالوجی کا اشتراک جاری رکھنا چاہیے، پاکستان اور ترقی پذیر دنیا میں موسمیاتی تخفیف، لچک اور موافقت میں سرمایہ کاری کی حمایت کی جانی چاہئے۔جان کیری نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان دیرینہ تعلقات ہیں، دو طرفہ تعلقات، آب و ہوا اور ماحولیات میں مزید مضبوط کیا جانا چاہیے۔

سرمایہ کاری کانفرنس

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ماحولیاتی مسائل سے انسانوں کوسب سے بڑے چیلنجزدرپیش ہیں، ماحولیاتی مسائل کو سنجیدہ نہ لیا گیا تو خطرناک نتائج کا سامنا کرناپڑ سکتا ہے۔سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں گرین سعودی عرب فورم اور گرین مشرق وسطیٰ سربراہ کانفرنس شروع ہو گئی ہے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کانفرنس میں شریک سربراہوں اور عالمی شخصیات کا خیر مقدم کیا۔ دونوں پروگراموں میں برادر اور دوست ممالک کے وزرائے اعظم، صدور، بڑی عالمی کمپنیوں کے ایگزیکٹیوز، چیئرمین، عالمی تنظیموں کے سربراہان، بین الاقوامی شخصیات، سکالرز، اور سول سوسائٹی کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔اسی دوران وزیراعظم عمران خان مڈل ایسٹ گرین انیشیٹوسربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے تو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیراعظم عمران خان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔سربراہ اجلاس سے اپنے افتتاحی خطاب میں ولی عہد نے اعلان کیا کہ سعودی عرب کاربن معیشت کی معاونت کے لیے فنڈ متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انھوں نے مستقبل میں سربراہ اجلاس کے کام میں معاونت کے لیے ایک غیر منافع بخش تنظیم کے طور پر گرین انیشی ایٹوفاؤنڈیشن (سبزاقدام فاؤنڈیشن) کے قیام کے منصوبہ کا بھی اعلان کیا۔ ولی عہد نے 39 ارب سعودی ریال کی مالیت سے تحفظ ماحول کے دو اقدامات کا بھی اعلان کیا۔ان کے لیے سعودی عرب 15 فی صد رقوم مہیا کرے گا۔انھوں نے اعلان کیا کہ کاربن کی سرکلرمعیشت کے تصور، موسمیاتی تبدیلیوں کے علاقائی مرکز، کاربن پر قابوپانے،اس کے استعمال اورذخیرہ اندوزی کے لیے علاقائی کمیونٹی، علاقائی طوفانوں کے پیشگی انتباہی مرکز، ماہی گیری کی پائیدارترقی کے لیے ایک علاقائی مرکزاورعلاقائی کلاؤڈ سیڈنگ پروگرام کے قیام کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے ایک پلیٹ فارم مہیا کرے گا۔تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے  وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے سمٹ کے انعقاد پرمبارکباد دیتا ہوں۔ دنیا کے 10 فیصد ملک 80 فیصد ماحولیاتی تبدیلیوں کے ذمہ دار ہیں۔ پاکستان کے 10بلین ٹری منصوبے کا مقصد قدرتی طریقے سے ماحولیاتی چیلنجزپرقابوپانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئلے سے توانائی پیدا کرنے کا کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا۔ 2030ء تک پاکستان 60 فیصد قابل تجدیدتوانائی ذرائع پرمنتقل کردیا جائے گا۔ حکومت ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ماحولیات کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2023ئتک ایک ارب مینگروز کے درخت لگائے جائیں گے، مینگروز کے درخت سب سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو ماحولیاتی تحفظ کے لیے 44 فیصد سرمایہ کاری کررہا ہے۔ ماحول کے تحفظ کے لیے ہزاروں افراد کوروزگارکے مواقع فراہم کیے گئے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی مسائل کو سنجیدہ نہ لیا گیا تو خطرناک نتائج کا سامنا کرناپڑ سکتا ہے، ماحولیاتی مسائل سے انسانوں کوسب سے بڑے چیلنجزدرپیش ہیں، عالمی حدت میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے، آج دنیا کے مختلف علاقوں میں قدرتی آفات کا سلسلہ تسلسل سے جاری ہے۔دریں اثناوزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان اور خطہ کیلئے انتہائی اہم ہے،انسانی بحران کو روکنے، معاشی تباہی سے بچنے اور افغانستان میں طویل مدتی ترقی و استحکام میں تعاون کیلئے عالمی برادری کی مستقل اور مثبت بات چیت اہم ہے۔ وہ پیر کو  ریاض میں مشرق وسطیٰ شاداب اقدام سربراہ اجلاس کے موقع پر بحرین کے وزیراعظم اور ولی عہد شہزادہ سلمان بن حماد بن عیسیٰ الخلیفہ سے ملاقات کے دوران گفتگو کررہے تھے۔ دونوں وزراء اعظم نے دونوں دوست ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں قریبی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے افغانستان کی تازہ ترین صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان اور بحرین کے درمیان تاریخی اور گہرے دوستانہ تعلقات کو اجاگر کیا۔ دسمبر 2019 میں اپنے دورہ بحرین کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کیلئے مستقل اعلیٰ سطحی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیراعظم عمران خان نے زور دیا کہ پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان اور خطہ کیلئے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی بحران کو روکنے، معاشی تباہی سے بچنے اور افغانستان میں طویل مدتی ترقی و استحکام میں تعاون کیلئے عالمی برادری کی مستقل اور مثبت بات چیت اہم ہے۔ وزیراعظم نے افغان عوام کی مدد کیلئے افغانستان کے منجمد اثاثے جاری کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ بحرین کے ولی عہد نے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کو تمام جہتوں سے مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں۔ دونوں وزرا ء اعظم نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے تمام امور پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے ولی عہد شہزادہ سلمان بن حماد بن عیسیٰ الخلیفہ کو دورہ پاکستان کی دعوت دی۔ ولی عہد نے جلد پاکستان کے دورے کا عزم ظاہر کیا۔وزیراعظم عمران خان  نے کانفرنس کے موقع پر سعودی ولی عہد  شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی جس میں اہم  امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، دورہ سعودی عرب پر موجود وزیراعظم کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں، امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی جان کیری کے بعد وزیراعظم کی سعودی ولی عہد سے ملاقات ہوئی،علاوہ ازیں وزیراعظم کی بحرین کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادسلمان بن حمد بن عیسی الخلیفہ سے ریاض میں ملاقات ہوئی، وزیراعظم نے بحرین اور پاکستان کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -