صوبے بھر کے فوکل پرسنز کو گڈ گورننس فریم ورک اور ڈیٹا رپورٹنگ سسٹم سمیت دیگر سسٹمز پر ٹریننگ کا آغاز

صوبے بھر کے فوکل پرسنز کو گڈ گورننس فریم ورک اور ڈیٹا رپورٹنگ سسٹم سمیت دیگر ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)حکومت خیبرپختونخوا نے صوبے بھر کے فوکل پرسنز کو گڈ گورننس فریم ورک اور ڈیٹا رپورٹنگ سسٹم سمیت دیگر سسٹمز پر ٹریننگ کا آغاز کردیا۔ ورکشاپ میں ڈپٹی سیکرٹری پی ایم ڈی یو عادل سعید صافی، ڈائریکٹر جنرل گورننس اینڈ پالیسی پراجیکٹ ظاہر شاہ اورڈپٹی ڈائریکٹر پرفارمنس مینجمنٹ اینڈ ریفارمز یونٹ عادل رضا سمیت صوبے بھر سے تمام ڈپٹی کمشنرز اور کمشنرز کے فوکل پرسنز نے شرکت کی۔ اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر عاکف خان نے کہا کہ گڈ گورننس فریم ورک اور ڈیٹا رپورٹنگ سسٹم کے ذریعے دفتری امور میں شفافیت، تیزی لانے اور سرکاری امور کو بروقت نمٹانا ہے۔اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر عادل رضا نے کہا کہ گڈ گورننس اسٹریٹیجی کے انعقاد کا مقصد حکومتی معاملات میں شفافیت اور احتساب کو متعارف کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفاف طرز حکمرانی، عوامی خدمات تک رسائی، عوامی اشتراک، احتساب اور حکومتی معاملات میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کارکردگی کو بہتر بنانا گڈ گورننس اسٹریٹیجی کا حصہ ہے۔شرکاء کو مزید بتایا گیا کہ تمام اضلاع سے جتنا بھی ڈیٹا سسٹم پر اپلوڈ ہوتا ہے اسے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا خود مانیٹر کرتے ہیں۔ کے پی ایمپلائز پورٹل کے حوالے سے بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا ایمپلائز پورٹل کے ذریعے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا،ڈپٹی کمشنرز اور کمشنرز کواضلاع میں جاری تمام تر سرگرمیوں کی رپورٹ موصول ہوتی ہے اور اس بنیاد پر ڈسٹرکٹ پرفارمنس ریویو میٹنگ کا انعقاد ہوتا ہے۔اسی طرح آئی پی ایم ایس ڈیش بورڈ کے ذریعے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو انتظامی انسپکشنز، کھلی کچہری، ریونیو کیسز، پاکستان سیٹیزن پورٹل و دیگر ٹاسکس کا ڈیٹا موصول ہوتا ہے۔ اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری پی ایم ڈی یو عادل سعید صافی نے پاکستان سیٹیزن پورٹل کے حوالے سے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان پاکستان سیٹیزن پورٹل کو خود مانیٹر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افسران اور تمام فوکل پرسنز شکایات کے ازالے میں احتیاط برتے اور شہریوں کے ان کے حقوق سے محروم نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اکثر اوقات کچھ افسران شکایات پر غلط بیانی کرکے جان چھڑاتے ہیں جو کہ سراسر ظلم ہے اور اس ضمن میں متعلقہ افسران کے خلاف کاروائیاں بھی کی گئی ہے اور مستقبل میں غلط بیانی پر متعلقہ افسران کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -