ناقص کارکردگی پر ڈسٹرکت ہیلتھ آفیسرز کو فوری طور پر ہٹانے کا فیصلہ 

      ناقص کارکردگی پر ڈسٹرکت ہیلتھ آفیسرز کو فوری طور پر ہٹانے کا فیصلہ 

  

        پشاور(سٹاف  رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت پیر کے روز صوبہ بھر میں ڈینگی وائرس کی صورت حال کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں ڈینگی صورتحال اور تدارک کے حوالے سے حکومتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ناقص کارکردگی  پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر پشاور کو فوری طور پرعہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ وزیراعلیٰ نے عوامی نمائندوں کی سربراہی میں متعلقہ محکموں کی کوآرڈینیشن کمیٹی بنانے اور ڈینگی کی روک تھام اور تدارک کے لیے جاری فنڈز کی جانچ پڑتال کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی قائم کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران خان بنگش، ممبران قومی اسمبلی حاجی شوکت علی، نور عالم خان اور ارباب شیرعلی، ممبران صوبائی اسمبلی ارباب جہانداد خان، پیر فدا، آصف خان اور فضل الہٰی کے علاوہ چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، سی سی پی او پشاور، کمشنر پشاور اور محکمہ صحت و بلدیات کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں پہلی بار 37 اینٹامولوجسٹس بھرتی کیے گئے ہیں جو کہ ڈینگی کے خلاف حکومتی  اقدامات کو مزید موثر بنانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈینگی کے تدارک کیلئے گھر گھر مہم چلائی جائے اور عوامی آگہی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے۔ اسی طرح متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں کو مزید کارآمد اور کوآرڈینیشن کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں ممبران اسمبلی کی جانب سے اپنے حلقوں میں انسداد ڈینگی اقدامات پر تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ محمود خان نے پشاور میں ڈینگی کیسز میں اضافے اور تدارک کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا اور ناقص کارکردگی پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر پشاور کو عہدے سے ہٹانے اور انکوائری کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں ڈینگی کے خلاف اقدامات کو مزید موثر بنانے کے لیے ممبران اسمبلی کی سربراہی میں متعلقہ اداروں کے افسران پر مشتمل کوآرڈینیشن کمیٹی بنائی جائے تاکہ محکمے عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر ڈینگی سے متاثرہ علاقوں میں اقدامات کو مؤثر بنا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ممبران اسمبلی محکموں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں اور اپنے علاقے سے متعلق اقدامات پر متعلقہ محکموں کو بہتر تجاویز دے سکتے ہیں۔ وزیراعلی محمود خان نے مختلف اداروں کو ڈینگی کے تدارک کے لیے جاری کردہ فنڈز کی جانچ پڑتال کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بناکر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں ڈینگی تشخیصی ٹیسٹ مفت کیے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی ہدایت کی کہ انسداد ڈینگی اقدامات سے متعلق عوامی نمائندوں کے ساتھ ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد کیا جائے جبکہ محکمہ صحت، بلدیاتی ادارے، ڈبلیو ایس ایس پی باہمی اشتراک سے انسداد ڈینگی اقدامات کو تیزکریں۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو متنبہ کیا کہ اس حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی کیونکہ عوام کی جانوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی کی روک تھام اور تدارک کے لیے تمام ممکن وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ دریں اثناء اجلاس میں پشاور سے منتخب عوامی نمائندوں کی جانب سے توجہ دلانے پر وزیراعلیٰ محمود خان نے انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز کے لیے دو دن کے اندر فنڈز جاری کرنے کے احکامات جاری کیے تاکہ مریضوں کو ادویات کی فراہمی کا عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔

پشاور(سٹاف  رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت پیر کے روز امن و امان سے متعلق اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبہ بھر میں امن و امان کی  صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو امن و امان کی تازہ صورتحال کے علاوہ امن و امان کوبرقرار رکھنے کیلئے پولیس اور انتظامیہ کے اقدامات اور پڑوسی ملک افغانستان کی بدلتی صورتحال کے صوبے پر پڑنے والے ممکنہ اثرات اور ان سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تیاریوں پر بریفنگ بھی دی گئی۔ اجلاس کو پولیس کی جانب سے دہشت گردی اور سٹریٹ کرائمزکے واقعات کی روک تھام کے حوالے سے اُٹھائے گئے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان کے علاوہ تمام ڈویژنل کمشنرز اور ریجنل پولیس آفیسرز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی دارلحکومت پشاور کو مزید محفوظ بنانے اورسٹریٹ کرائمز کی روک تھام کیلئے 400 ہیوی بائیکس اور1600 نوجوانوں پر مشتمل پٹرولنگ سکواڈ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کو صوبہ بھر میں غیر قانونی اسلحہ کے خلاف کاروائیوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان کاروائیوں کے دوران کافی تعداد میں غیر قانونی اسلحہ پکڑا گیا ہے اس کے علاوہ صوبہ بھر میں بڑے پیمانے پر سنیپ چیکنگ بھی شروع کی گئی ہے تاکہ جرائم کا خاتمہ کیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے ضلع کرم میں حالیہ دنوں میں رونما ہونے والے واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ دہشت گردی کے واقعات کے تدارک کے ساتھ ساتھ بد امنی کے دیگر واقعات کی روک تھام پر بھی خصوصی توجہ دی جائے اور جرائم و قتل کے واقعات کی روک تھام کیلئے تھانوں کی سطح پر پولیس کو مزید متحرک کیا جائے تاکہ اس قسم کے واقعات رونما نہ ہوں۔اُنہوں نے جائیدادوں کے تنازعات کے فوری حل اور پرتشدد واقعات کی روک تھام کیلئے الٹرنیٹو ڈسپیوٹ ریزولوشن(اے ڈی آر) کے حوالے سے مصالحتی کمیٹیوں کی تشکیل اور تنازعات کے حل سے متعلق  سرگرمیو ں میں تیزی لانے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے عید میلا النبی ؐ  کے موقع پر پولیس کی جانب سے بھر پور انتظامات، جلوسوں کی سکیورٹی اور ناخوشگوار واقعات رونما نہ ہونے دینے کے اقدامات کی بھی تعریف کی۔ 

پشاور(سٹاف  رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت پیر کے روز امن و امان سے متعلق اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبہ بھر میں امن و امان کی  صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو امن و امان کی تازہ صورتحال کے علاوہ امن و امان کوبرقرار رکھنے کیلئے پولیس اور انتظامیہ کے اقدامات اور پڑوسی ملک افغانستان کی بدلتی صورتحال کے صوبے پر پڑنے والے ممکنہ اثرات اور ان سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تیاریوں پر بریفنگ بھی دی گئی۔ اجلاس کو پولیس کی جانب سے دہشت گردی اور سٹریٹ کرائمزکے واقعات کی روک تھام کے حوالے سے اُٹھائے گئے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان کے علاوہ تمام ڈویژنل کمشنرز اور ریجنل پولیس آفیسرز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی دارلحکومت پشاور کو مزید محفوظ بنانے اورسٹریٹ کرائمز کی روک تھام کیلئے 400 ہیوی بائیکس اور1600 نوجوانوں پر مشتمل پٹرولنگ سکواڈ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کو صوبہ بھر میں غیر قانونی اسلحہ کے خلاف کاروائیوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان کاروائیوں کے دوران کافی تعداد میں غیر قانونی اسلحہ پکڑا گیا ہے اس کے علاوہ صوبہ بھر میں بڑے پیمانے پر سنیپ چیکنگ بھی شروع کی گئی ہے تاکہ جرائم کا خاتمہ کیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے ضلع کرم میں حالیہ دنوں میں رونما ہونے والے واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ دہشت گردی کے واقعات کے تدارک کے ساتھ ساتھ بد امنی کے دیگر واقعات کی روک تھام پر بھی خصوصی توجہ دی جائے اور جرائم و قتل کے واقعات کی روک تھام کیلئے تھانوں کی سطح پر پولیس کو مزید متحرک کیا جائے تاکہ اس قسم کے واقعات رونما نہ ہوں۔اُنہوں نے جائیدادوں کے تنازعات کے فوری حل اور پرتشدد واقعات کی روک تھام کیلئے الٹرنیٹو ڈسپیوٹ ریزولوشن(اے ڈی آر) کے حوالے سے مصالحتی کمیٹیوں کی تشکیل اور تنازعات کے حل سے متعلق  سرگرمیو ں میں تیزی لانے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے عید میلا النبی ؐ  کے موقع پر پولیس کی جانب سے بھر پور انتظامات، جلوسوں کی سکیورٹی اور ناخوشگوار واقعات رونما نہ ہونے دینے کے اقدامات کی بھی تعریف کی۔ 

مزید :

صفحہ اول -