میلسی: شیشہ نوشی عام،بچوں کو غیر اخلاقی فلمیں دکھانے کاانکشاف

میلسی: شیشہ نوشی عام،بچوں کو غیر اخلاقی فلمیں دکھانے کاانکشاف

  

 میلسی (نامہ نگار)میلسی کی حدود میں دو مقامات پر شیشہ نوشی اور ایک مقام پر اخلاق باختہ فلموں کا انکشاف  ہوا ہے تھانہ سٹی پولیس کو 15 پر شہری کے ذریعے اطلاع ملی کہ الغوثیہ ہوٹل آرہ نمبر ون  پر معصوم نابالغ بچوں کو محمد اطہر شہزاد  فحش فلمیں دکھا رہا ہے اور چار دیگر دوستوں کے ہمراہ  زہریلا نشہ شیشہ نوشی کروا رہا ہے جس پر پولیس نے چھاپہ مارا تو ملزمان فرار ہو (بقیہ نمبر46صفحہ6پر)

گئے جن کے خلاف6 ڈی شیشہ سموکنگ اور 292 اے ت پ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا  جبکہ دوسرے چھاپے میں پولیس نے کھنڈو چوک میں نتھے شاہ روڈ کے محمد ماجد کو  شیشہ سموکنگ پر  دھر لیا جس کے بعد شہر بھر میں شیشہ نوشی کے کلبز نے وقتی طور پر یہ سرگرمی ذرائع کے مطابق روک لی پولیس کاررواء پر ڈی ایس پی میلسی فرخ جاوید کو سراہا جارہا ہے جبکہ آرا نمبر 1 کے سرفراز بلوچ نے ہوٹل بنا رکھا ہے جہاں پر مبینہ طور پر اس نے نابالغ بچوں کو ہوٹل کی آڑ میں فحش فلمیں دکھانے اور ہوٹل میں زہریلے شیشے کا نشہ کرنے کا مذموم دھندھا شروع کر رکھا تھا کہ محمد اطہر شہزاد کی رپورٹ پر پولیس تھانہ سٹی میلسی نے ریڈ کیا جہاں ہوٹل مالک فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تا ہم پولیس نے ملزم کیخلاف مقدمہ درج کر لیا جبکہ نتھے شاہ روڈ کا رہائشی ملک محمد ماجد شیشہ سموکنگ کر رہا تھا کہ پولیس نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور مقدمہ درج کر لیا۔میلسی میں شیشہ نوشی کے خلاف پولیس کا آپریشن قابل تعریف۔مگر صرف پینے والوں کے خلاف قانون نا کافی ہے  بااثر افرادسپلاء میں  ملوث ہیں ان خیالات کا اظہا ر مختلف سماجی وسیاسی کارکنوں اور شہریوں نے پاکستان سروے میں کیا شہریوں کا کہنا تھا کہ وہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر امیر عبداللہ خان نیازی کے شکر گذار ہیں جن کی خصوصی  کوشش سے  سے کاررواء ہوء مگر شیشہ نوشی ایکٹ میں اگر خصوصی حقے اور زہر یلے فلیورز کی سٹوریج کر نے والوں کے لیے  کوء قانون نہیں تو اس کا اہتمام کیا جائے شہریوں کا کہنا تھا کہ جس طرح  ہیروئن اور دیگر نشے فروخت کر نے والوں پر قانون موجود ہے اسی طرح نء نسل کو جو ہزاروں کی تعداد میں تحصیل بھر میں شیشہ نوشی کر رہی ہے کے تحفظ کے لیے اس کی سر عام فروخت پر بھی قانونی طور پر پابندی عائد کی جائے تب ہی نء نسل کو شیشہ نوشی کی لعنت سے بچایا جا سکتا ہے #

انکشاف

مزید :

ملتان صفحہ آخر -