سرکاری اراضی پر جہاں بھی قبضہ ہو خالی کرایا جائے ، سپریم کورٹ نے بڑا حکم صادر کردیا

سرکاری اراضی پر جہاں بھی قبضہ ہو خالی کرایا جائے ، سپریم کورٹ نے بڑا حکم صادر ...
سرکاری اراضی پر جہاں بھی قبضہ ہو خالی کرایا جائے ، سپریم کورٹ نے بڑا حکم صادر کردیا

  

کراچی ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سپریم کورٹ رجسٹری کراچی میں ملک بھر کی ریونیو اراضی کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی ، عدالت نے اینٹی انکروچمنٹ سیل کو فعال بنانے ، ریونیو کو تمام قبضے ختم کرانے کا حکم دیدیا۔عدالت نے حکم دیا کہ سرکاری اراضی پر جہاں بھی قبضہ ہو خالی کرایا جائے ۔

سپریم کورٹ رجسٹری کراچی میں چیف جسٹس نے ملک بھر کی ریونیو اراضی کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے کیس کی سماعت کی ، عدالت نے سندھ بھر کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو فوری کارروائی کی ہدایت کی ، عدالت نے خیبرپختونخوا کا ریکارڈ بھی کمپیوٹرائزڈ کرنے کی ہدایت کی جبکہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو خیبرپختونخوا کو پیشرفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ۔ عدالت نے بلوچستان حکومت کو بھی اراضی ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کا حکم دیا ۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بلوچستان نے پیشرفت رپورٹ جمع کرائی جس پر عدالت نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بلوچستان سے عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی ۔ 

سپریم کورٹ نے سینئر ممبر بورڈ آف ریو نیو کو عملدرآمد کرکے رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا، عدالت نے ریمارکس دیے کہ ابھی بھی بڑے پیمانے پر ریونیو اراضی پر قبضے ہیں ، عدالت کو بتایا جائے کراچی میں ریونیو کی کل کتنی اراضی پر قبضے ہیں ۔

عدالت نے ریونیو ریکارڈ میں دو لاکھ سے زائد مشتبہ انٹریز پر کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ریونیو ریکارڈ تک عام فرد کا تو داخلہ ہی ممکن نہیں ، عام آدمی کیسے معلومات لے گا۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے کہا کہ ریکارڈ کو ویب سائٹ پر بھی ڈال دیا گیا ہے ۔

خیبرپختونخوا حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پیشرفت رپورٹ جمع کرا دی ہے ،19 میں سے 7اضلاع کا ریکارڈ دسمبر تک کمپیوٹرائزڈ کر لیں گے ، 12اضلاع کا ریکارڈ 2023 میں مکمل کر لیں گے ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سندھ ریونیو کی رپورٹ کہاں ہے ؟، ممبر بورڈ آف ریونیو سندھ نے کہا کہ 95 فیصد ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کر دیاگیا ہے ،صوبائی ریکارڈ سیل کا ڈیٹا بھی کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیا ہے ، دو لاکھ سے زائد مشتبہ انٹریز کو بلاک کیا گیا ہے ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سندھ پبلک پراپرٹی ریموول آف انکروچمنٹ کا تو کوئی کردار ہی نہیں ۔سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو شمس الدین سومرو نے کہا کہ اینٹی انکروچمنٹ فورس بنی ہوئی ہے ، عام شہری اس سیل میں شکایت کرنے سے گریز کرتے ہیں ۔چیف جسٹس نے کہا آپ نے تو ان مشتبہ انٹریز پر کچھ طے تو کیا نہیں ،جس زمین سے قبضے ختم کرائے ان زمینوں کو محفوظ کیسے بنا رہے ہیں؟۔ سینئر ممبر نے بتایا کہ متعلقہ ادارے ہی اپنی اپنی زمینوں کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں ۔

عدالت نے ریونیو کیس کی سماعت آئندہ سیشن تک کیلئے ملتوی کر دی ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -