ٹیکس جمع کرنے جاتے ہیں تو عمران خان، اسد عمر ، عمران اسماعیل بیچ میں آجاتے ہیں ، مرتضی وہاب کھل کر بول پڑے

ٹیکس جمع کرنے جاتے ہیں تو عمران خان، اسد عمر ، عمران اسماعیل بیچ میں آجاتے ...
ٹیکس جمع کرنے جاتے ہیں تو عمران خان، اسد عمر ، عمران اسماعیل بیچ میں آجاتے ہیں ، مرتضی وہاب کھل کر بول پڑے

  

کراچی ( ڈیلی پاکستان آن لائن) ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کراچی مرتضیٰ وہاب نے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں پیشی سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ عدالت نے پوچھا کہ میں نے اب تک کراچی کیلئے کیا کیا، عدالت نے مجھے بولنے نہیں دیا ورنہ بتاتا کہ کون سے کام کئے ہیں ، ہم ٹیکس جمع کرنے جاتے ہیں تو عمران خان، اسد عمر ، عمران اسماعیل بیچ میں آجاتے ہیں۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ عدالت میں مجھے بولنے کا موقع ملتا تو بتاتا کہ کراچی کے کسی علاقے میں گھر کا کرایہ تین ہزار روپے سے کم نہیں ہے ، ہم نے ہاکس بے پر ہٹس کا کرایہ 1400روپے رکھا ہے ،2012 میں بننے والا ذوالفقار آباد آئل ٹرمینل آج 2021 میں مرتضی وہاب کی سربراہی میں کامیاب ہوا ، کے ایم سی نے ٹرمینل سے 60دن میں 25لاکھ روپے کمائے ۔ کراچی کے بڑے پمپ چند ہزار ماہانہ کرائے پر دیے گئے ، یہاں مافیا بیٹھے ہیں ، جب حکومت ان کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو وہ عدالت سٹے آرڈر لے لیتے ہیں ، ہمیں ڈرایا ، دھمکایا جاتا ہے ، خود مجھے دھمکیاں موصول ہوئی ہیں ، کچھ وائس میسجز موبائل میں موجود ہیں جو صحافیوں سے شیئر کروں گا۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اگر عدالت مجھے بولنے کا موقع دیتی تو بتاتا کہ شہر کی ٹریفک کیلئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی ( این ایچ اے ) اور پولیس کے ساتھ کے ایم سی متعدد اجلاس کر چکی ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ ہیوی ٹریفک کو شہر سے باہر نکال کر لیاری ایکسپریس کو استعمال کیا جائے مگر کیا کریں لیاری ایکسپریس سندھ حکومت کے نہیں این ایچ اے کے کنٹرول میں ہے ، میں گورنر سندھ عمران اسماعیل کی بھی تعریف کروں گا کہ انہوں نے بھی ہیوی ٹریفک کیلئے لیاری ایکسپریس کے استعمال کی کوشش کی مگر این ایچ اے نے ان کی بات بھی مسترد کر دی ۔

ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کراچی نے کہا کہ یہاں یہ تاثر ہے کہ تمام ا اختیارات سندھ حکومت کے پاس ہیں ، ماحول بنا دیا گیا ہے کہ سارے اختیارات پی پی نے اپنے پاس رکھے ہیں ،تو ایسا نہیں ہے ، ان معاملات پر ہم سب کو سوچنے کی ضرورت ہے ، کے ایم سی پاکستان کا سب سے بڑا بلدیاتی ادارہ ہے لیکن ہاتھ پیر باندھ کر کسی کو سمندر میں پھینک دیں گے تو ادارہ کیسے چلے گا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -سندھ -کراچی -