"وزیراعظم کا اپنی اَنا کو اداروں پر فوقیت دینا غیر مناسب ،عمران خان نے پاک فوج کو بہت زیادہ متنازعہ بنا دیا "

"وزیراعظم کا اپنی اَنا کو اداروں پر فوقیت دینا غیر مناسب ،عمران خان نے پاک ...

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے فوج کو بہت زیادہ متنازعہ بنایا ہے،وزیراعظم اپنی اَنا کو اداروں پر فوقیت دے رہے ہیں وہ مناسب نہیں ہے،اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ملک میں امپورٹ بڑھ رہی ہے لیکن  آپ جب بھی پانچ چھ پرسنٹ کی گروتھ کرتے ہیں تو آپ کے امیر لوگ اتنے امیر ہو جاتے ہیں کہ وہ بہت زیادہ امپورٹ کرنا شروع کردیتے ہیں،ہمارا روپیہ ہمارے اپنے مسائل کی وجہ سے گر رہا ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اندر کے حالات تو ہمیں نہیں پتا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایگو  ایک ٹرپ تھی ہمارے  وزیراعظم کے لئے ،کیوں فوج نے اناؤنس کردیا اُس شخص کا خاص کر جس کا سہارا لے کر عمران خان سمجھ رہے تھے کہ وہ اگلا الیکشن اسی سہارے سے جیتیں گے،پاکستان میں فوج کا جتنا انفلوئنس ہے اتنا دنیا میں کہیں نہیں ہے،فوج کو زیادہ متنازعہ نہیں بنانا چاہئے ،وزیراعظم عمران خان نے فوج کو بہت متنازعہ بنایا ہے،آج بھی یہ لکھنا کہ میں نے تین لوگوں کے انٹرویوز کئے ہیں اوردو جنرلوں کو انٹرویو میں منع کیا ہے،یہ سب غیر ضروری تھا ،وزیراعظم اپنی اَنا کو اداروں پر فوقیت دے رہے ہیں وہ مناسب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک مہینے کا امپورٹ 6بلین ڈالر سے اوپر ہےاور 72 بلین ڈالر کا امپورٹ نظر آرہا ہے،مسلم لیگ ن کے زمانے میں فائیو پوائنٹ ون بلین صرف دو مرتبہ گیا تھا ورنہ اس کے نیچے رہا ہے ،چھ بلین تو کبھی نہیں گیا ،ہمارے آخری سال میں معیشت کا حجم 17اعشاریہ آٹھ فیصد تھا ،تحریک انصاف کے پچھلے سال معیشت کا حجم18 اعشاریہ دوفیصد کے حساب سے امپورٹ ہو چکا ہے،اس بار آپ اکیس بائیس فیصد پر جا رہے ہیں ،یہ سچ ہے کہ امپورٹ تیزی سے بڑھ رہی ہےلیکن کہیں سے بھی آپ دیکھ لیں ،ترسیلات زرایکسپورٹ  چیک کرلیں اوراب آپ کو چار فیصد یعنی 12 بلین ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفسیٹ نظر آ رہا ہے،یہ ہمارا سٹریکچر پرابلم ہے،پاکستان کے اندر آپ جب بھی پانچ چھ پرسنٹ کی گروتھ کرتے ہیں تو آپ کے امیر لوگ اتنے امیر ہو جاتے ہیں کہ وہ بہت زیادہ امپورٹ کرنا شروع کردیتے ہیں۔

ڈاکٹرمفتاح اسماعیل کاڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کے سوال پر  کہنا تھا کہ مارکیٹ کے سینٹی منٹس کے سامنے دنیا کا کوئی بھی بینک نہیں چل سکتا،جس ملک کے پاس 18/19بلین ڈالر پڑا ہو ں جس میں 6 بلین ڈالر اپنے ہی لوگوں سے شرٹ ٹرم شرائط پر لئے ہوں ،وہ ملک کہاں مارکیٹ کے سامنے کھڑا رہ سکتا ہے،ایک دن ایف اے ٹی ایف کا مسئلہ آ رہا ہے، دوسرے دن آئی ایم ایف کا مسئلہ آ رہا ہے،تیسرے دن آئی ایس آئی نوٹیفکیشن کا مسئلہ آ رہا ہے،جس ملک میں ایساسیاسی عدم استحکام ہو ،روز ڈالر بڑھ رہا ہو تو پھر لوگوں کی یکطرفہ توقعات بڑھ جاتی ہیں کہ کیوں نہ ڈالر خرید لیا جائے کم ازکم نیچے تو نہیں جائے گا ، جب سب لوگ ڈالر لینا شروع کردیں تو ڈیمانڈ اور بڑھ جاتی ہے،افغانی پاکستانی کرنسی رکھتے ہیں ،اگر وہ افغانی کرنسی سے ڈالر خرید رہے ہیں تو پاکستانی روپے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ،ہمارا روپیہ ہمارے اپنے مسائل کی وجہ سے گر رہا ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -