ملک کا سب سے بڑا انتخابی معرکہ گجرات میں لڑا جائے گا

ملک کا سب سے بڑا انتخابی معرکہ گجرات میں لڑا جائے گا
ملک کا سب سے بڑا انتخابی معرکہ گجرات میں لڑا جائے گا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق کے درمیان طے شدہ فارمولے کے مطابق آئندہ عام انتخابات میں اتحادیوں کے ساتھ ملکر الیکشن لڑا جائیگا کیونکہ کوئی بھی سیاسی جماعت اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ تنہا پرواز کر سکے اس مقصد کے لیے پیپلز پارٹی کی موجودہ وفاقی حکومت کامیابی کے ساتھ پانچواں سال مکمل کرنے کو ہے اور آئندہ سال کسی وقت بھی انتخابات متوقع ہیں جوڑ توڑ کی سیاست جس کا آغاز تحریک انصاف نے شروع کیا تھا اب مسلم لیگ ن بھی شامل ہو گئی ہے سابق وفاقی وزیر دفاع ‘ وزیر تجارت ‘ اور موجودہ وفاقی وزیر پانی وبجلی چوہدری احمد مختار جو اپنے بھائی کی طرف سے سیاسی زندگی کے بعد سیاسی میدان میں آئے تھے، نے چوہدری برادران کا پانچ دفعہ مقابلہ کیا ۔دو مرتبہ انہوں نے چوہدری شجاعت حسین کو شکست دی، محترمہ بےنظیر بھٹو کی حکومت معزول ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین آصف علی زرداری کے ساتھ کچھ عرصہ جیل میں گزارا اس دوران جیل کی دوستی نے رنگ دکھایا تو انکا نام بطور وزیر اعظم بھی گونجتا رہا۔ دوسری مرتبہ چوہدری برادران کی مخالفت کے باعث وزارت عظمی کا ہما انکے سر پر نہ بیٹھ سکا اور اُن کاخواب اُدھورا رہ گیا جس پر سیخ پا ہو کر انہوں نے بیان دیا کہ چوہدری برادران کا ڈٹ کرمقابلہ کروں گا ۔ابھی اس بیان کی سیاہی خشک نہ ہوئی تھی کہ احمد مختار کو اپنا یہ بیان واپس لینا پڑا اور انہوں نے بیان دیا کہ چوہدری شجاعت حسین میرا بڑا بھائی ہے اور میرے بڑے بھائی چوہدری احمد سعید کے وہ کلاس فیلو ہیں ۔اب اُن کے وہی بھائی چوہدری احمد سعید جو مسلم لیگ ن میں شامل ہو کر گجرات سے چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری احمد مختار کے مقابلے پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے اس سے قبل چوہدری احمد سعید ایک ٹی وی انٹرویو میں اپنے بھائی کی کردار کشی کر چکے ہیں بعد ازاں اسے خاندانی تنازع قرار دیا گیا اور یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ہر گھر میں اختلافات پیدا ہوتے رہتے ہیں ہمارا آپس میں کوئی جھگڑا نہیں۔ چوہدری احمد سعید جو سابق چیئرمین زرعی ترقیاتی بنک اور پی آئی اے کے عہدے پر کام کرتے رہے ہیں، ایک طویل عرصہ سے گجراتی سیاست کے منظر سے غائب ہیں۔ اِس سے قبل وہ 1977میں گجرات سے پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر صوبائی سیٹ پر کامیاب ہو چکے ہیں اور یہ کامیابی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی اور قومی اتحاد کی چلنے والی تحریک کی نذر ہو گئی، بعد ازاں سیاست چھوڑ کر وہ لاہور چلے گئے اب دوبارہ وہ ن لیگ کے پلیٹ فارم سے گجرا تی سیاست میں وارد ہوئے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ ایک طویل عرصہ بعد ایک بھائی ن لیگ کے پلیٹ فارم سے اور دوسرا بھائی پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑ کر کیا سماں باندھتے ہیں اس صورتحال میں نائب وزیر اعظم چوہدری پرویز الہی متعدد بار چوہدری احمد مختار کی طرف سے داغے گئے بیانات کے بعد اس امر کا اعلان کر چکے ہیں کہ وہ حلقہ این اے 105سے ہی الیکشن لڑیںگے۔اِس صورتحال میں تحریک انصاف چوہدری برادران کے قریبی عزیز چوہدری مبشر حسین سابق ایم این اے کو سیاسی دنگل میں اُتارے گی۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ملک کا سب سے بڑا سیاسی معرکہ گجرات میں لڑا جائیگا دوسری طرف محترمہ بےنظیر بھٹو کے ساتھ شہادت کی تمنا رکھنے والے نوابزادہ غضنفر علی گل اس امر کا بارہا اعلان کر چکے ہیں کہ وہ پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے فارمولے کے سخت مخالف ہیں انہیں ٹکٹ ملے یا نہ ملے وہ چوہدریوں کا مقابلہ ضرور کرینگے جبکہ ان کے دو بھائیوں نوابزادہ مظفر علی خان ‘ نوابزادہ مظہر علی خان سابق ایم این اے و ایم پی اے نوابزادہ غضنفر علی گل کے بھانجے نوابزادہ طاہر الملک اور ان کے بیٹے حیدر مہندی وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے ہمراہ تصویر بنوا کر ن لیگ میں شامل ہو چکے ہیں انکا مقابلہ موجودہ وفاقی وزیر چوہدری وجاہت حسین کے ساتھ متوقع ہے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پیپلز پارٹی کے باغی اراکین جو اس فارمولے کے مخالف ہیں چوہدری برادران کے لیے میدان کھلا نہیں چھوڑیں گے دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد کیا اتحادی آصف علی زرداری کا ساتھ دیتے رہیں گے یا پھر ہوا کا رخ دیکھ کر اپنے سفر کا تعین کرینگے ویسے بھی وفاقی وزیر پانی و بجلی چوہدری احمد مختار کو اپنے بھائی کی طرف سے ن لیگ میں شمولیت اور الیکشن لڑنے کا اعلان مہنگا پڑے گا۔ ماضی کے انتخابات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ گجرات جیسے اہم سیاسی ضلع میں پر امن انتخابات کسی دیوانے کا خواب ہی بن کر رہ جائیں گے چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے چوہدری شافع حسین ‘ چوہدری پرویز الہی کے صاحبزادے چوہدری مونس الہی بھی گجرات سے قسمت آزمائی کرنا چاہتے ہیں۔پیپلز پارٹی کے کارکن جنہیں نظریاتی کارکن تصور کیا جاتا ہے کسی بھی صورت دوسری جماعت کو ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی ق لیگ والے کسی پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیں گے۔ ایسا لگتا ہے یہ حکومت کی مدت پوری کرنے کے ساتھ ہی اتحادی فارمولہ بھی متروک ہو جائے گا اور نئے سیاسی اتحاد وجود میں آئیں گے اس تمام تر صورتحال میں بااثر اور خوشحال صنعتکار ‘ سیاسی گھرانوں کے سربراہان بھی لنگوٹ کسنے کی تیاریاں کر رہے ہیں جن میں پگانوالہ خاندان میں سے بیگم ثمینہ فخر پگانوالہ ‘ جوڑا خاندان سے سلیم سرور جوڑا ‘ سماں خاندان سے افتخار احمد سماں ‘ گوندل برادران میں سے افضل گوندل ‘ الحاج امجد فاروق ‘ کے علاوہ بھی سیاسی و سماجی خاندان الیکشن لڑنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں چوہدری احمد مختار کے بڑے بھائی چوہدری احمد سعید کا مسلم لیگ ن میں شامل ہونے کی وجہ سے اور گجرات میں اسی سیٹ سے ن لیگ کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے کے اعلان کے بعد گجرا ت کی سیاسی صورتحال واضح ہونا شروع ہو گئی ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان چوہدری احمد مختار کو ہی ہو گا کیونکہ گجرات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن اور چوہدری احمد مختار کے قریبی ساتھی انہیں چھوڑ کر جا چکے ہیں اور جو بقایا ہیں ، احمد سعید کے اعلان کے بعد انہوں نے چوہدری احمد سعید سے رابطے شروع کر دیے ہیں ۔جونہی احمد سعید گجرات تشریف لائیں گے۔ احمد مختار سے ناراض سیاسی کارکن اُن کا دریائے چناب پر استقبال کرنے کے لیے جمع نظر آئیں گے۔ گجرات میں پیپلز پارٹی کا بانی خاندان پگانوالہ فیملی احمد مختار سے ناراض ہے پیپلز پارٹی گجرات کے راہنما شفاقت حفیظ گڈو اور ان کے ساتھی سلیم سرور جوڑا ‘ چوہدری افتخار سماں ‘ چوہدری احمد مختار کو چھوڑ کر جا چکے ہیں اب کوئی بڑا نام چوہدری احمد مختار کے پاس نہیں ہے ویسے بھی گجرات کے عوام تبدیلی کے خواہشمند ہیںکیونکہ موجودہ مہنگائی ‘ لوڈ شیڈنگ ‘ بے روزگاری نے عوام کا بھرکس نکال کر رکھ دیا ہے اور وہ پہلے دبے دبے اور اب کھلم کھلا الفاظ میں سیاسی قائدین کو کوستے ہوئے نظر آتے ہیں ۔    ٭

مزید :

کالم -