عمدہ بیٹنگ وکٹ پر پاکستان کا خوبصورت کھیل

عمدہ بیٹنگ وکٹ پر پاکستان کا خوبصورت کھیل
عمدہ بیٹنگ وکٹ پر پاکستان کا خوبصورت کھیل

  

بنگلہ دیش کے خلاف اور اس سے پہلے نیوزی لینڈ پاکستان نے ایک سو ستر رنز سے زیادہ سکور دیا۔ ان رنز کی تعداد یہ تاثردیتی ہے کہ ہماری باﺅلنگ ٹی ٹونٹی کرکٹ میں درمیانے درجے کی بیٹنگ لائن اپ کے خلاف بھی بڑا سکور کروا سکتی ہے۔بنگلہ دیش کے ایک سو چھتر رنز ایسی وکٹ پر ہوئے جن پر بے پناہ روو ل کیا گیا تھا۔ بلآخر پاکستان کی قوت بیٹنگ میں ابھر کر سامنے آئی اور بنگلہ دیش کو ایک زبردست شکست ہوئی ۔اس میچ میں پاکستان کی عمدہ بیٹنگ نے بنگلہ دیش کے ایک بڑے سکور کو آسانی سے سرکرلےا۔اور یوں بظاہر ایک مشکل نظر آنے والی جیت آسان ہوئی۔ بنگلہ دیش کی قوت کا اندازہ پاکستان کو بخوبی تھا۔ اب اس کے خلاف جیت کو ریکارڈ کا حصہ سمجھ کر بھول جانا چاہیے۔ اور نیوزی لینڈ کے خلاف جیت بھی اب تاریخ کا حصہ ہے دیکھنا یہ ہے کہ اس ورلڈ کپ میں سپر ایٹ کے مرحلے میں جنوبی افریقہ بھارت اور آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کا کھیل کیسا ہوگا بنیادی بات یہ ہے کہ ٹی ٹونٹی نوجوان ذہن اور جسم کا کھیل ہے ۔ پاکستان کو اب چیمئین ٹیموں سے کھیلنا ہے۔ جہاں زیادہ عمر کے کھلاڑیوں کی ٹیم میں موجودگی بھی ایک بڑا مسئلہ ہوسکتی ہے۔پاکستان کے نو، ممکنہ کھلاڑیوں کی عمریں تیس برس سے تجاوز کر چکی ہیں جبکہ سہیل تنویر اور عمر گل بھی تیس کے قریب ہیں۔ کرکٹ میں تیس بر س عمرزیادہ نہیں ہوتی مگر ان میں سے بیشتر کھلاڑی ان فٹ ہوتے رہے ہیں ۔ورلڈ کپ کی تمام ٹیموں میں عمر کے اس حصے کو پہنچنے والے کھلاڑیوں میں پاکستان سر فہرست ہے ۔پاکستان کے گروپ میں شامل بنگلہ دیش میں تیس برس کا ایک اورنیوزی لینڈ کی ٹیم میں چھ کھلاڑی عمر کے تیس برس گزار چکے ہیں ۔ یہ ایک دلچسپ صورتحال ہے۔ ان تفصیلات سے ظاہری طور پر پاکستان کو ایک زیادہ تجربہ کار ٹیم سمجھا جانا چاہیے۔ لیکن مجھے یہ ٹیم ایک پاپولر ٹیم دکھائی دے رہی ہے خدا کرے میرا خدشہ غلط ثابت ہو ۔ لیکن تجربات ہمیں بتاتے ہیں کہ ٹیم میں زیادہ دیر قیام کے بعد ہمارے کھلاڑی قدرے سہل پسند ہوجاتے ہیں۔ ہمارے شاہد آفریدی اور نیوزی لینڈ کے بریڈن مکالم کے ریکارڈ کا جائزہ لیں تومکالم انچاس میچ کھیل کر وہ پندرہ سو چھپن رنز بنا چکے ہیں ۔ ٹی ٹونٹی کرکٹ میں ان کی اوسط اڑتیس رنز فی میچ جبکہ سٹراٹیک ریٹ ایک سو چھتیس کاہے۔ وہ ابتک ٹی ٹونٹی میں چونسٹھ چھکے لگا چکے ہیں اور ایک سو پچاس چوکے بھی ٹی ٹونٹی میں بریڈن مکالم نے دو سنچریاں بھی بنائی ہیں۔ ہمارے آفریدی بھی پچاس میچ کھیل چکے ہیں انکا ابتک زیادہ سے زیادہ سکور چون ہے جبکہ مجموعی طور پر انہوں نے آٹھ سو ایک رنز بنائے ہیں ۔ٹی ٹونٹی میں آفریدی نے اکتیس چھکے اور چونسٹھ چوکے لگائے ہیں۔ آفریدی کا سٹراٹیک ریٹ ایک سو بیالیس کا ہے۔ سب جاجانتے اور خوب سمجھتے ہیں کہ ٹی ٹونٹی دراصل بیٹنگ کی جارحانہ مہارت کا کھیل ہے۔ مگرہماری ٹیم کا نیوکلس ایسے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جو دس برس سے زیادہ عرصے سے ٹیم کا حصہ ہیں۔ ان کھلاڑیوں میں سے اکثر متعدد بار خراب فارم یا دوسری وجوہات کی بنا پر ٹیم سے باہر ہوتے ہیں۔ان میں کپتان حفیظ، رزاق، عمران نذیر ،محمد سمیع ،کامران اکمل، شاہد آفریدی، سہیل تنویر، یاسرعرفات اور عمر اکمل شامل ہیں۔ ٹیم مینجمنٹ اور کھلاڑی جانتے تھے کہ نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کے خلاف میچ ان کے کیریئر کو بچانے کے لئے کتنے اہم تھے۔نیوزی لینڈ کے خلاف جیت کو عوامی سطح پر سراہنا تو قدرتی بات ہے لیکن اس ابتدائی فتح پر صدر اور وزیر اعظم کا خصوصیت کے ساتھ مبارکباد کا پیغام بے موقع اور قبل از وقت لگا۔ ناجانے کیوں نیوزی لینڈ کے خلاف جیت کو کپ جیتنے کے برابر سمجھ لیا گیا۔ اب ٹیم مینجمنٹ اور کھلاڑیوں کی سخت آزمائش کا وقت ہے ۔سپر ایٹ میں ہمارا مقابلہ آ سٹریلیا ساﺅتھ افریقہ اور بھارت جیسی ٹیموں کے ساتھ ہوگا۔ بھارت اپنی مرضی کی ٹرننگ وکٹ بنا کر انگلینڈ کو شرمناک شکست سے دوچار کرچکا ہے۔ اس کو اندازہ ہوجانا چاہیے کہ اگلے مرحلے میں جنوبی افریقہ اور پاکستان قدرتی طور پر سپنرز کو اچھے کھیل لیتے ہیں۔ سری لنکا میں جاری ٹی ٹونٹی انتظامات اور معیار کے اعتبار سے گزشتہ ورلڈ کپ سے بہتر دکھائی دے رہا ہے۔ سپر ایٹ مرحلے میں پہنچنے کے ساتھ ہی پاکستانی عوام کو کرکٹ کے تین اور انتہائی یادگار اور شاندار مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔ پاکستان ان میچوں میں عمدہ پرفارمنس دے کر سیمی فائنل اور فائنل بھی جیت سکتا ہے۔

مزید :

کالم -