سفرِ امن

سفرِ امن

  

                                                                         ہمارے لیے یہ تعین کرنا مشکل ہو تا جا رہا ہے کہ ہم لوگ کس سمت میں سفر کر رہے ہیں؟ جو راستہ ہم اختیا ر کر چکے ہیں تاریک سے تاریک اور کٹھن سے کٹھن تر ہوتا جا رہا ہے۔ہمارے چراغ بھی روشنی کی کمی کے باعث گل ہونے کو ہیں۔منزل کا نشان بھی غیر واضح نظر آ رہا ہے۔ایک تماشا سا برپا ہے ۔ تماش بین نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ ہم پر خوف طاری ہے ۔ ہم دہشت زدہ ہو چکے ہیں۔لا محدود سوچوں کے گرداب نے ہمیں گھیر رکھاہے۔اس اندھیری فضامیں یخ بستہ ہوائیں بھی جمود طاری کر رہی ہیں۔ پھر ایک آواز اٹھتی ہے۔ ہر طرف گرد ہی گرد ہے ۔ چیخ و پکار ہے ۔چہروں کی شناخت ممکن نہیں رہی۔ہم ابر رحمت کے منتظر بیٹھے ہیں جو ان چہروں کو دھو سکے ، جن پر نشانِ جرم اب پختہ تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔کیا ہماری راہیں ہمیں منزل تک لے جائیں گی؟ کیا ہمارے چراغ ہمارا ساتھ دے سکیں گے؟ کیا وہ منزل امن کی جا ہوگی؟ اس ساری صورت حال کے پیش نظر گرتے سنبھلتے ہم پھر بھی منزل کی جانب رواں ہیں۔ کراچی میں آپریشن جاری ہے ۔ ہم امن کی جانب سفر کر رہے ہیں۔

اسی بات پر غالب یاد آ گئے :

©’ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے‘

اس دور میں اگر غالب یا میر تقی میر زندہ ہوتے تو شاید آج ان کی شاعری میں بہت سا تغیر دیکھنے کو مل جاتا۔ ان کے سخن کا محور گردو پیش کے حالات ہوتے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آج ہمارے معاشرے کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ وہ محبوب کے دل پذیر حسن اورجان لیوا جبر و ستم کے علاوہ ، دہشت گردی ، فرقہ واریت ، آمریت اور موجودہ سیاست و جمہوریت جیسے ©’وسیع و عریض‘ موضوعات پر بھی ضرور قلم کشائی کرتے ۔

کراچی میں آپریشن بڑی آب و تا ب سے جاری ہے ۔ اس آپریشن کے اثرات اور کارکردگی کے لحاظ سے اخباروں اور ٹی وی چینلوں کی شہ سرخیوں میں بہت سے رخ دکھائے جارہے ہیں۔طرح طر ح کے تبصرے بھی سامنے آ رہے ہیں ۔کچھ مبصرین اس آپریشن کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ متعدد اس کی ناکامی کا واویلا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ویسے تو اس آپریشن میں سینکڑوں کی تعداد میں دہشت گرد اور مشتبہ افراد حراست میں لیے جا رہے ہیں ،مگر کارروائی کے عمل میں ابھی بھی خاصی ڈھیل برتی جا رہی ہے۔ شاید کہ مجرموں کو سیاسی پشت پناہی میسر آ رہی ہو جس کے نتیجہ میں مجرم بری ہوتے بھی نظر آ رہے ہیں۔کچھ واقعات میں تو حکومت بے بس بھی نظر آئی کہ شاید کچھ بااثر لوگ حکومت سے بھی زیادہ طاقت ور ہیں جو اس میں حائل ہیںاور اس غیر جانبدار آپریشن میں رکاوٹ نظر آ رہے ہیں، مگر یہ آپریشن ملکی سلامتی اور کراچی امن و امان کے لیے بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ اس آپریشن کے ذریعے بے دریغ و بلا امتیا ز کارروائیاں عمل میں لانا ضروری ہے ۔

ویسے تو ہمیں صوبائی و وفاقی حکومت پر پورا بھروسہ ہے ،مگر ایک اور بات لمحہ فکریہ بھی ہے جو پریشان کن بھی ثابت ہو سکتی ہے ۔ دیکھا جائے تو ایک طرف دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن جاری ہے تو دوسری طرف متعدد مشتبہ افراد نے راہ فرار بھی اختیا ر کر رکھی ہے۔ بہت سے مطلوب مجرم کراچی شہر کو چھوڑ کر یا تو اپنی پناہ گاہوں کا رخ کر چکے ہیں یا پھر مصروف عمل ہیں۔ان میں سے کچھ تو اندون ملک رو پوش ہو گئے ہیں، جبکہ کچھ بیرون ملک کوچ کر چکے ہیں۔ان کی اس مجرمانہ حرکت سے اور حکومت کی اس غفلت سے کراچی میں جرائم کی شرح میں کمی تو ضرور آئے گی، مگر کیا یہ تبدیلی مستقل طور پر برقرار بھی رہ سکے گی؟اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو کیا اس طرح یہ آپریشن کامیاب سمجھا جائے گا؟

کراچی میں امن مشکل نہیں ، چیف جسٹس صاحب درست فرماتے ہیں کہ اگر یہ نیت درست کر لیں تو فورا مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔

 کراچی میں امن آپریشن اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک کہ تمام سیاسی جماعتیں عملاً ایک دوسرے کا دست و بازونہ بن جائیں۔شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر بائیو میٹرک سسٹم نصب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی مجرم بھی فرار نہ ہو سکے۔دیکھا جائے تو ملک کو اور بھی بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ میرا خیا ل ہے کہ ہمیں اس آپریشن پر سیاست سے گریز کرنا چاہیے ۔ عوام کو حکومت کا ساتھ دینا چاہیے اور جرائم پیشہ افراد کی نشاندہی ہونی چاہیے۔ جن مجرموں پر جرم ثابت ہو جائے انہیں سخت سے سخت سزا دینی چاہیے تا کہ یہ لوگ آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان بن سکےں ۔ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر سب کو مل کر اس آپریشن کو کامیاب بنانا چاہئے ۔ تما م مشکلات اور راہ میں حائل ان تمام رکاوٹوں کو ہٹانا ہوگا جو اس سفر امن میں رکاوٹ کا باعث بن رہی ہیں ،تاکہ یہ شہر بلکہ یہ ملک پاکستان صحیح معنوں میں امن کا علم بردار ہو سکے۔آمین۔       ٭

مزید :

کالم -