بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خاں(مرحوم)درویش منش سیاستدان

بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خاں(مرحوم)درویش منش سیاستدان
بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خاں(مرحوم)درویش منش سیاستدان

  



نوابزادہ نصر اللہ خان(مرحوم) خاندانی طور پر یونینسٹ تھے، مگر زمانہ طالب علمی میں سید عطاءاللہ شاہ بخاری کی قربت اور ان کی تقاریر کے زیر اثر برصغیر میں فرنگی راج کے خلاف تھے۔نوابزادہ نصر اللہ خان نوجوان تھے اور خوش قسمتی کی بات یہ تھی کہ ان دنوں تحریک خلافت کے نتیجے میں برصغیر میں سیاسی بیداری کی لہر پیدا ہو چکی تھی اور قوم آزادی کے لئے ذہنی طور پر تیار ہو رہی تھی، اُس دور میں مجلس احرار اسلام کو انگریز کی باغی جماعت سمجھا جاتا تھا۔ نوابزادہ نصر اللہ خان نے مجلس احرار اسلام کو اپنے مقاصد کے لئے موزوں سمجھا اور مکمل آزادی کا مطالبہ کرنے والی اس مجاہدانہ دینی اور سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ وہ قیام پاکستان سے قبل23/24سال کی عمر میں اپنی خداداد سیاسی صلاحیتوں کی بدولت اس جماعت کے جنرل سیکرٹری تھے اور انہوں نے اپنی جماعت کے نظریات کے بالکل برعکس اپنی سیاسی بصیرت کے مطابق23مارچ 1940ءکو قرارداد لاہور (جو بعد میں قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی) کی منظوری کے وقت (منٹو پارک) میں مسلم لیگ کے تاریخی جلسہ عام میں شریک ہوئے اور سٹیج پر تشریف فرما ہوئے، حالانکہ ان دِنوں نوابزادہ نصر اللہ خان کی پہچان ایک سرگرم احراری طالب علم رہنما کی حیثیت سے ہوتی تھی اس تاریخی جلسہ میں ان کی شرکت، ان کی اعلیٰ مثبت سیاسی سوچ کی مظہر ہے۔

بابائے جمہوریت نصف صدی سے زیادہ عرصہ ملک کے سیاسی آسمان پر ایک باوقار سیاسی رہنما کی حیثیت سے چمکے آپ نے اپنی سیاسی بصیرت سے کٹھن اور مشکل حالات میں بھی نفع و نقصان کی پروا کئے بغیر ہر آمر اور ڈکٹیٹر کا راستہ روکا اور ملک کے عوام اور سیاسی رہنماﺅں کو ان کی اصل منزل جمہوریت کی پہچان کروائی اور عوام کو بحالی جمہوریت کے لئے ہر آمریت کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ بخشا۔ انہوں نے ہر بارآمریت گزیدہ قوم کو نئے جذبے اور حوصلے کے ساتھ ملک میں جمہوری فلاحی اسلامی سیاسی نظام پارلیمانی جمہوریت کا راستہ دکھایا اور ساری عمر ملک میں جمہورت کی بحالی، آئین و قانون کی بالادستی کے لئے متحرک رہے اور اپنے مشن کی تکمیل کے لئے11/12سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مگر ان کے پائے استقامت میں لغزش تک نہ آئی۔انہوں نے ملک میں بحالی جمہوریت اور طالع آزماﺅں سے چھٹکارے کے لئے18کے قریب چھوٹے بڑے سیاسی اتحاد بنائے، بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان(مرحوم) نے نہ کبھی اسٹیبلشمنٹ کے دروازوں اور کھڑکیوں کی جانب جھانکا اور نہ کبھی آمر حکمرانوں کے حاشیہ بردار بنے۔ ملک میں جموریت کے قیام کے لئے ان کی بے لوث خدمات اور جدوجہد ملکی تاریخ کا ایک سنہری بات ہے۔ ضعیف العمری کے باوجود وہ آخری سانس تک خوش اخلاق اور رجائیت پسند رہے، وہ قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی طرح پارلیمانی جمہوری نظام کے داعی تھے، جس طرح یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ قائداعظم ؒ حصول پاکستان کو زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھتے تھے اسی طرح بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان پاکستان کی بقاءاور استحکام کو ناگزیر سمجھتے تھے، وہ پُرعزم اور وسیع المطالعہ رہنماﺅں اور دانشوروں کی قدر کرتے تھے۔

 علامہ مشرقی، شورش کاشمیری اور سید حسین شہید سہروردی ان کی پسندیدہ شخصیات تھیں۔ نوابزادہ نصر اللہ خان، امیر شریعت عطاءاللہ شاہ بخاری کے خاص عقیدت مندوں میں سے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد سید عطاءاللہ شاہ بخاری ایک عرصہ تک نوابزادہ نصر اللہ خان کے گھر مقیم رہے۔ امیر شریعت کو اپنی تقاریر کو بامقصد اور دلچسپ بنانے کے لئے شعروں کی تلاش رہتی تھی، جس کے لئے وہ اردو اور فارسی میں شعر کہتے تھے اور ان اشعار کی اصلاح وہ نوابزادہ نصراللہ خان سے لیا کرتے تھے۔ سید عطاءاللہ شاہ بخاری آپ کے کردار، سیاسی و مذہی بصیرت سے اس قدر متاثر تھے کہ ان کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ ”میری بخشش کے لئے ناصر ہی کافی ہے“(ناصر، نوابزادہ نصر اللہ خان کا تخلص تھا) قومی اسمبلی کے سابق قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن کے والد گرامی مولانا مفتی محمود، نوابزادہ نصر اللہ خان کے عقیدت مندوں میں سے تھے، مرتے دم تک ان کا آپس میں ساتھ رہا۔ مولانا مفتی محمود، نوابزادہ نصر اللہ خان صاحب سے سیاسی رہنمائی اور مشورے لیا کرتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد آپ نے مجلس احرار اسلام کی فکر کو خدا حافظ کہہ دیا اور پاکستان مسلم لیگ کے ٹکٹ پر1951ءمیں خان گڑھ کے دو حلقوں سے انتخاب لڑا اور دونوں میں کامیابی حاصل کی، لیکن مسلم لیگ سے بھی زیادہ عرصہ تک ان کا نبھا نہ ہو سکا اور اصولی اختلافات کے باعث اس سے علیحدگی اختیار کر کے سید حسین شہید سہروردی کے ساتھ سیاسی رشتہ جوڑ لیا۔

فروری 1959ءکے الیکشن کے اعلان کے بعد نوابزادہ نصر اللہ خان پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ خان عبدالقیوم خان اور عوامی لیگ کے قائد حسین شہید سہروردی کو قریب لانے اور ان کی آپس میں ملاقات کروانے کی جدوجہد میں مصروف تھے کہ علی نواز گردیزی وزیر مملکت کی دعوت میں صدرِ مملکت سکندر مرزا سے ملاقات ہو گئی۔ سکندر مرزا نے نوابزادہ نصر اللہ خان سے مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا: ” نوابزادہ صاحب! آج کل کیا بنا رہے ہیں؟ جواب دیا کہ انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں۔ سکندر مرزا کے لہجے میں اچانک تلخی آ گئی اور کہا کہ”مَیں دیکھوں گا کیسے الیکشن ہوتے ہیں“نوابزادہ نصر اللہ خان نے اسی کے لہجے میں جواب دیا کہ ”دیکھیں جناب! آپ نے اگر کوئی ماورائے آئین اقدام کیا تو اس اقدام کا پہلا شکار بھی آپ خود ہی ہوں گے اور واقعی ایسا ہی ہوا۔ سکندر مرزا نے جنرل ایوب خان کے ساتھ مل کر7اکتوبر1958ءکو56ءکا آئین توڑ دیا۔ ایوب خان کو چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔ قومی اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دیں، ابھی بیس دن گزرے تھے کہ 27اکتوبر کو نیم شب جنرل اعظم خان، جنرل کے ایم شیخ اور جنرل واجد علی برکی کراچی میں ایوان صدر میں گھس گئے، خواب گاہ کا دروازہ توڑ کر سکندر مرزا کو شب خوابی کے لباس میں زدوکوب کرتے ہوئے گھسیٹ کر باہر لائے اور ان کی کنپٹی پر پستول رکھ کر صدر کے عہدے سے استعفیٰ پر زبردستی دستخط کروائے۔ ناہید مرزا سمیت سکندر مرزا کو راتوں رات جبراًملک بدر کر دیا گیا۔

 بابائے جمہوریت اور درویش صفت سیاست دان نوابزادہ نصر اللہ خان کی وہ پیشن گوئی جو انہوں نے کراچی میں وزیر مملکت کی دعوت میں کی تھی۔ پوری ہو گئی۔ جنرل ایوب خان قیام پاکستان کے دس سال بعد آئین منسوخ کر کے اقتدار پر قابض ہو گئے۔ جنرل ایوب خان نے مارشل لاءاور فوجی حکومت کی مخالفت کرنے والے سیاست دانوں، دانشوروں اور علماءکو دبانے کے لئے کڑی سزاﺅں کا اعلان کیا، اس کڑے وقت میں بابائے جمہوریت نے اپنی زندگی کا پہلا سیاسی اتحاد نیشنل ڈیمو کریٹک فرنٹ بنا کر آمر و جابر حکمران کو اس وقت للکارا جب ایوب خان کے سامنے کھڑے ہو کر بات کرنا مشکل سمجھا جاتا تھا۔ نوابزادہ نصر اللہ خان تو ملک کو قائداعظم ؒ کے افکار اور ڈاکٹر علامہ اقبال ؒ کے خوابوں کی تعبیر پاکستان بنانے کے داعی تھے اور ملک میں جمہوری عمل اور اقدار کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے تھے ان کی اس حوالے سے مضبوط رائے تھی کہ جمہوریت ہماری قومی ضرورت ہے، سیاسی حکمرانوں سے جو غلطیاں اور کوتاہیاں سرزد ہوئیں اور وہ مثالی جمہوریت قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ سیاست دانوں کی یہ بات ملک میں کسی غیر جمہوری، غیر آئینی یا پھر فوجی جنرل کی چھتری تلے متبادل غیر جماعتی اور جماعتی نظام حکومت اور اقتدار پر فوج کے قبضے کا ہر گز جواز نہیں بن سکتی، فوج کے لئے آئین نے حدود مقرر کی ہیں اور اس نے اپنے دائرہ کار کے اندر رہنا ہے۔

 ایوب خان اس معیار پر پورے نہ اُتر سکے۔ اس نے جون1962ءکو اپنی پسند کا آئین بنوا کر ملک و قوم پر ٹھونس دیا۔ 12اکتوبر 1999ءکو منتخب حکومت کو برطرف کر کے جنرل پرویز مشرف کے اقتدار پر قبضہ کر لینے پر نوابزادہ نصر اللہ خان نے ہمت نہیں ہاری، ضعیف العمری اور بیماری کے باوجود انہوں نے نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ آمریت کے خاتمے کے لئے اے آر ڈی کے نام سے اتحاد بنایا۔ انہوں نے اس سلسلے میں لندن کا سفر کیا اور وہاں پر پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو اور سعودی عرب (جدہ) میں مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف سے ملاقات کی اور انہیں بحالی جموریت کے لئے آمر جنرل پرویز مشرف کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے لئے اے آر ڈی میں دونوں سیاسی رہنماﺅں کو شامل کیا اور فوج کو اس کی آئینی ذمہ داریوں سے آگاہی اور واپس بیرکوں میں جانے کے لئے تحریک کا آغاز کیا۔ نوابزادہ نصر اللہ خان میثاق جمہوریت کی بنیاد رکھنے کے بعد وطن تشریف لائے اور آتے ہی انہوں نے سیاسی سرگرمیوں کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اے آر ڈی کا اجلاس25ستمبر کواسلام آباد میں بلایا اور اجلاس کے انتظامات دیکھنے اسلام آباد گئے تو دل کا دورہ پڑنے کے باعث اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔27ستمبر کو نوابزادہ نصر اللہ خان مالک حقیقی سے جا ملے۔ (اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اور جنت میں اعلیٰ مقام دے) ان کی برسی کے موقع پر حکومت سے مطالبہ ہے کہ نکلسن روڈ کا نام تبدیل کر کے نوابزادہ نصر اللہ خان کے نام سے منسوب کیا جائے۔

مزید : کالم


loading...