سیرت النبیﷺ کی تحقیق و اشاعت کا مسئلہ

سیرت النبیﷺ کی تحقیق و اشاعت کا مسئلہ
سیرت النبیﷺ کی تحقیق و اشاعت کا مسئلہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو بے انتہا مادی اسباب و وسائل سے خوب نوازا ہے، قیام پاکستان سے قبل مسلمانوں کی معاشی اور معاشرتی صورت حال ناگفتہ بہ تھی ادھر دنیا کے نقشے پر پاکستان کا وجود نمودار ہونا تھا، اُدھر دیکھتے ہی اللہ نے مسلمانوں کیلئے معاشی ترقی کے دروازے چوپٹ کھول دیئے۔ چنانچہ آج جھونپڑیوں اور کچے کوٹھوں میں رہنے والے جدید ترین سہولتوں اور آرائشوں سے مزین کئی ایکڑ رقبے میں ایستادہ محلات اور فلک بوس پلازوں کے مالک ہیں ان کی اولاد سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پرورش پا رہی ہے، ان کی جنت نظیر کوٹھیوں میں شاید اتنے افراد کنبہ نہ ہوں، جتنی تعداد میں ان کے وسیع و عریض صحنوں میں کروڑوں مالیت کی جدید ترین کاریں کھڑی ہیں۔ عید کے موقع پر چالیس پچاس لاکھ روپے قیمت کی موٹی تازی گائے ذبح کرکے ریاکاری کا مظاہرہ کرنا ان کی نظر میں مرغی ذبح کرنے کے برابر ہے۔آج کے نودولتیے اپنی فیملی کے ساتھ یورپ کی سیر سپاٹے میں کروڑوں روپے ضائع کرنے پر فخر و غرور کا اظہار کرتے رہتے ہیں، لیکن عصر حاضر کے انہی قارونوں، نودولتیوں، مذہبی جماعتوں اور دینی مدارس کے درمیان اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سرزمین پر کوئی ایسا تحقیقی اور اشاعی ادارہ موجود نہیں ہے، جو علامہ شبلی ؒ اور علامہ سید سلیمان ندویؒ کے منفرد طرز پر سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں اور شعبوں میں دور حاضر کے تقاضے کے مطابق اردو، انگریزی، چینی، ترکی، ہندی اور گورمکھی وغیرہ زبانوں میں معلوماتی کتابیں شائع کرکے لوگوں کے ظلمت کدۂ فکر و نظر کو روشنی عطا کر سکے۔

قیام پاکستان سے بہت پہلے نواب حمید اللہ خان بھوپال نے سیرت النبی ﷺ کی تحقیق و اشاعت کے لئے اپنی حکومت کی تجوریوں کے منہ کھول کر علامہ شبلیؒ کی خدمات حاصل کیں تو سیرت النبی ﷺ کی دو جلدیں زیور طباعت سے آراستہ ہو گئیں۔ علامہ شبلیؒ اور نواب بھوپال کی وفات کے بعد ان کی رفیقہء حیات شاہجہاں بیگم نے علامہ سید سلیمان ندوی کی خدمات سے استفادہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیدالمرسلین، خاتم النبینﷺ کی سیرت طیبہ سے متعلق جو مقدس واقعات تشنہ ء تحقیق و اشاعت رہ گئے ہیں ان کی تکمیل کیلئے نواب صاحب نے جس طرح سرمایہ فراہم کیا تھا وہ سلسلہ میں بھی جاری رکھوں گی (ان شاء اللہ)۔ چنانچہ علامہ سید سلیمان ندویؒ نے چھ جلدوں میں سیرت النبی ﷺ شائع کرکے سعادت دارین کا اعزاز حاصل کیا جو باعث تقلید ہے۔ تحدیث نعمت کے طور پر عرض ہے کہ مجھے 1997ء میں یمن جانے کا موقع ملا تو وہاں کے جلیل القدر محقق عالم دین الشیخ محمد بن علی الاکوعؒ سے شرف ملاقات ہوا ان کی عمر 97برس تھی (تین سال بعد ان کا انتقال ہوگیا تھا) میں نے ان کی خدمت میں اپنی کتاب سیرت و سفارت رسول اکرم ﷺ پیش کی تو انہوں نے سیدنا رسول اللہ ﷺ کے مطبوعہ مکتوبات اقدس اور آپ کے سفارتی نمائندوں کے مفصل حالات پڑھ کر تحسین کی اور اپنے دستخطوں کے ساتھ اپنی کتاب عطا کرتے ہوئے فرمایا کہ ڈاکٹر حمید اللہ (فرانس) نے بھی اس موضوع پر اپنی کتاب میں ان مکتوبات نبویؐ کا تذکرہ نہیں کیا میں نے کہا شاید یہ معلومات انہیں نہ ملی ہوں۔ اسی طرح گزشتہ اپریل 2016ء میں مجھے عمرہ کی سعادت کے دوران مدینہ منورہ سے بھی مکتوبات رسول اللہﷺ پر مشتمل عربی کتاب کی عکسی کاپی لانے کی سعادت ملی ہے۔ مقصود یہ کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جہاں لوگوں کیلئے دنیاوی سفر کی سہولتیں فراہم کرنے پر اربوں کھربوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں کیا سفر آخرت آسان کرنے اور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے مقدس واقعات کی اعلیٰ پیمانے پر اشاعت کے لئے بھارت میں واقع ندوۃ المصنفین کے طرز کا کوئی موثر ادارہ قائم نہیں ہو سکتا؟ موجودہ حکمرانوں اور دولتمندوں کو دنیا اور آخرت میں نجات اور کامیابی کے لئے تحقیق و اشاعت سیرت النبی ﷺ کیلئے سرمایہ فراہم کرنے اور ادارے کے قیام میں فراخ دلی اور رسول اللہﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ اپنی گہری عقیدت و محبت اور ہر طرح کی قربانی و وارفتگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ یہ دولت و سرمایہ اور یہ مملکت پاکستان حضور ﷺ کے طفیل نصیب ہوئی ہے علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے:

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

عیدوں کے موقع پر میڈیا کا رخ کردار

سیدنا رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ دنیا کی ہر قوم عید اور خوشی کا دن مناتی ہے، ہمارے لئے دو دن عید اور خوشی کے اظہار کیلئے مقرر کئے گئے ہیں۔ عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ۔ چنانچہ امت مسلمہ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ یہ دن مناتی چلی آ رہی ہے اور عید منانے کا طریق کار بھی متعین کر دیا گیا ہے۔ ساری دنیائے اسلام کے باشندے سنت نبوی ﷺ کے مطابق عیدین (دونوں عیدوں) کے دن سورج طلوع ہونے کے بعد کھلے میدان میں دو دو رکعت نماز عید الفطر اور نماز عیدالاضحی ادا کرتے ہیں۔ عیدالفطر رمضان المبارک کے بعد ہر سال یکم شوال کو اور عید الاضحی 10 ذوالحجہ کو منائی جاتی ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ کے حضور دو رکعت نماز مع چھ زائد تکبیروں کے سجدہ ریز ہو کر اللہ کا شکر ادا کیا جاتا ہے اپنے لئے اور امت مسلمہ کیلئے دنیا اور آخرت میں کامیابی کی دعا کی جاتی ہے۔ خطیب حضرات دونوں عیدوں کی فضیلت اور اہمیت کی بابت اپنے خطاب میں اظہار خیال کیا کرتے ہیں اور امت مسلمہ کی عیدوں اور غیر مسلموں کی خوشی کے تہواروں کے مابین فرق واضح کیا جاتا ہے۔ عیدالفطر میں غریبوں اور ناداروں کو فطرانے کی رقم یا جنس دے کر اور عیدالاضحی کے موقع پر اللہ کے حکم پر جانور ذبح کرکے اس کا گوشت غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کرکے انہیں بھی عیدین کی خوشیوں میں شریک کیا جاتا ہے۔

امت مسلمہ کی عیدوں میں باہمی الفت و محبت، رواداری، وحدت و یگانگت اور استحکام و ترقی کی دعائیں کی جاتی ہیں۔ مسلمان عقیدت اور احترام کے جذبات کا اظہار ’’اللہ اکبر اللہ اکبر‘‘ بلند آواز سے اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اپنے گھروں کو واپس ہو جاتے ہیں، راستے میں نہ کوئی ہنگامہ ہوتا اور نہ ہلڑ بازی کا مظاہرہ ہوتا ہے، نہ کوئی شراب پیتا اور نہ ہی کسی مسلمان بھائی کو کسی نوعیت کی تکلیف دی جاتی اور نہ ہی گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑا ہوتا ہے۔ امت مسلمہ کی عیدوں کے یہ دو دن امن و سلامتی کے مظہر اور امت کی وحدت و یگانگت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔اس کے بالمقابل غیر مسلموں کے ہاں جو خوشی اور عید منانے کے دن متعین ہیں ان اقوام کے مختلف طریق کار ہیں، کچھ لوگ شراب پی کر گلی کوچوں، عام سڑکوں اور میدانوں میں ہنگامہ آراء ہوتے۔ غل غپاڑہ کرتے، ناچتے گاتے اور مرد عورتیں بغل گیر ہوتے اور جپھیاں ڈال کر ڈانس کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ہولی مناتے ایک دوسرے پر رنگ پھینک کر شور مچاتے ہیں، کچھ لوگ دریائے گنگا میں اشنان کرتے اٹھکیلیاں کرتے ہیں۔ غرضیکہ غیر مسلموں کی عیدوں اور ان کے پرمسرت دنوں میں سکون و طمانیت کے بجائے ہنگامہ خیزی اور تشدد دہشت گردی کے مظاہرے ہوتے ہیں، حتیٰ کہ بعض اوقات جانی اور مالی خاصا نقصان ہو جاتا ہے۔

جہاں تک دور حاضر میں امت مسلمہ کا تعلق ہے دیگر مسلمان ملکوں میں ایام عید منانے کے جو طریقے رائج ہیں ان میں سے بے ہودہ اور لہو و لعب پر مشتمل شور مناتے مرد عورتیں اور زرق برق لباس پہنے ننگے سر لڑکیوں کے مظاہرے ٹی وی چینلوں پر نظر نہیں آتے، جس طرح اس مرتبہ عیدالاضحی کے موقع پر پاکستانی لڑکے لڑکیوں، حتیٰ کہ بعض معروف میڈیا کے نمائندوں وغیرہ کے مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔ افسوسناک بات یہ کہ ہر ٹی وی چینل پر اعلان کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان میں عیدالاضحی نہایت عقیدت و احترام کے اسلامی جذبات کے ساتھ منائی گئی، جبکہ (بااستثنائے چند) کسی چینل پر حضرت ابراہیم ؑ و اسماعیل ؑ کی شخصیات اور تعمیر بیت اللہ سے لے کر بلدالامین مکہ معظمہ کی آبادی پر مشتمل تابناک تاریخی واقعات اور سرزمین مقدس سے متعلق تابندہ نقوش کا تعارف نامہ پیش نہیں کیا گیا۔ اسلامی تاریخی واقعات پر مشتمل تو پرنٹ اور برقی میڈیاپر مذاکرے ہونے چاہئیں تاکہ لوگوں کے دل و دماغ پر ان کے پاکیزہ نقوش ثبت ہو سکیں۔

قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کا مسئلہ

اللہ کے فضل سے ہمارے دولت مند حضرات کئی کئی جانوروں کی قربانی کر رہے ہیں جو لائق تحسین عمل ہے لیکن عید قربانی کے بعد ہمارے شہروں میں قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کے جو ڈھیر میڈیا پر دکھائے جاتے ہیں حد درجہ افسوسناک اور امت مسلمہ کی بدنامی اور بدنظمی کے آئینہ دار ہیں۔جو مخیر حضرات چالیس پچاس لاکھ روپے کے اور ان کے علاوہ عام مسلمان ایک ایک دو دو جانوروں کی قربانی کر رہے ہیں اگر ان کی آسائش کے لئے حکومت شہر سے باہر قربانی کے جانور خریدنے کے لئے بقر منڈیوں کی جگہ مخصوص اور مقرر کر رہی ہے تو جانور ذبح کرنے کے لئے بھی منڈیوں کے ساتھ ’’ذبح خانے‘‘ بھی متعین کر دینے چاہئیں، تاکہ آلائشوں کے سڑکوں، محلوں میں ڈھیر لگنے سے اور لوگ بدبو اور تعفن کے باعث پھیلنے والی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔اگر چالیس پچاس لاکھ حاجی فرزندانِ اسلام مکہ معظمہ سے باہر منیٰ کے مقام پر قربان گاہ میں جا کر جانور ذبح کرنے کی سعادت پاتے ہیں تو اس کی تقلید میں حکومت پاکستانی منیٰ کی طرز پر قربان گاہ کیوں قائم نہیں کر سکتی؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بھی سعودی عرب کی طرح بے شمار دولت و سرمائے سے خوب خوب نوازا ہے، اس سلسلے میں جتنی جلدی انتظامات کر لئے جائیں امت مسلمہ کا اتنا ہی فائدہ ہے۔

مزید : کالم