” کپاس کی بوری میں گاجر کا بیج،پیا ز کی بوری میں دیسی پالک اور....“ پنجاب کے ایک بڑے زرعی ادارے نے ایسی حماقت کردی کہ کسان سر تھام کر رہ گئے

” کپاس کی بوری میں گاجر کا بیج،پیا ز کی بوری میں دیسی پالک اور....“ پنجاب کے ...
” کپاس کی بوری میں گاجر کا بیج،پیا ز کی بوری میں دیسی پالک اور....“ پنجاب کے ایک بڑے زرعی ادارے نے ایسی حماقت کردی کہ کسان سر تھام کر رہ گئے

  

لاہور(زرعی رپورٹر) محکمہ زراعت کا ادارہ پنجاب سیڈ کارپوریشن ملک بھر میں کسانوں کو سبزیوں دالوں اور دیگر اجناس کا سرٹیفائیڈ فراہم کرتا ہے جس کے لئے اسکی پیکنگ کا خاص طور پر خیال رکھا جاتا ہے تاکہ کسانوں کو بیج سے متعلقہ تمام ہدایات پر عمل کرنے میں آسانی حاصل ہو لیکن پنجاب سیڈ کارپوریشن نے حال ہی میں سبزیوں اور دالوں کا جو بیج مارکیٹ کیا ہے اس سے ادارے کی بد انتظامی کھل کر سامنے آگئی ہے ۔ڈیلر و کسان ذرائع کا کہناہے کہ پنجاب سیڈ کارپوریشن کی جانب سے جو بیج فراہم کیا گیا ہے وہ اس جنس کے مخصوص پرنٹڈ بیگ میں ڈال کر نہیں دیا گیا بلکہ اس بیگ پر کسی اور سبزی کا نام ہاتھ سے لکھ کر فروخت کیا جارہا ہے۔اس شکایت کے بعد ڈیلروں نے بیگوں کو کھول کر ان کے اوپر مارکر سے بیگ میں بند بیجوں کے نام اور اوزان لکھ چھوڑے ہیں جو کہ اصولوں کے قطعی خلاف ہے ۔اس سے ادارے کی بدحواسی اور بدنظامی ظاہر ہوتی ہے ۔ذرائع کے مطابق نہ ان بیگز پر ٹیگ لگائے گئے ہیں نہ ہی بیج میں موجود بیج کو پرنٹ کرکے اسکا وزن و دیگر ہدایات لکھی گئی ہیں کہ جس سے معلوم ہوسکے کہ ان بیگز کے اندر وہی بیج ہے جوپنجاب سیڈ کارپوریشن کی نگرانی میں تیار کرایا گیا ہے ۔کسان اور ڈیلر تاحال اس مخمصے میں ہیں کہ نہ جانے کس بیگ سے کون سا بیج نکل آئے ۔مارکیٹ میں موجود بیجوں کے ان بیگوں پر صاف طور پر یہ لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ جو بیگ کپاس کے بیس کلو وزنی بیج کے لئے بنایا گیا ہے اس میں دس کلو گاجر کا بیج پیک ہے جبکہ پیاز کے دس کلو بیج والے پرنٹڈبیگ میں مارکر سے لکھا ہوا پانچ کلو دیسی پالک کا بیج نظر آئے گا ۔

ذرائع کے مطابق تاریخ میں پہلی بار محکمہ نے ڈیلروں کو ایسے بیگ فراہم کئے گئے ہیں جس سے کسان شک و شبہ میں پڑ گئے ہیں ،کہ کہیں یہ بیگوں میں نقل شدہ غیر معیاری بیج نہ فروخت کیا جارہا ہو جسے استعمال کرنے سے انکی فصل تباہ ہوسکتی ہے ۔ڈیلر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلٰی پنجاب عثمان بزدار ،وزیر زراعت اور سیکرٹری زراعت کو اس بد انتظامی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کرنی چاہئے کہ کہیں اسکے پیچھے کوئی بڑا گھپلا تو نہیں کیا گیا۔

مزید : کسان پاکستان