کشمیر کہانی، فاروق حیدر کی زبانی

کشمیر کہانی، فاروق حیدر کی زبانی
کشمیر کہانی، فاروق حیدر کی زبانی

  



آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کھرے اور بہادر ہونے کے ساتھ معاملات کی گہری سوجھ بوجھ رکھنے والی شخصیت ہیں۔انہوں نے ایک بیدار مغز اور چابکدست سیاست دان کے طور پر اپنا لوہا منوایا۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے بھارت میں ضم کرنے کے اقدام کے بعد راجہ فاروق حیدر دُنیا بھر میں کشمیر کا مقدمہ لڑتے پھررہے ہیں۔ تاریخی حقائق، مدلل گفتگو، اپنے موقف کے حق میں مضبوط حوالوں کے باعث کوئی بھی سننے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر لاہور تشریف لائے تو محترم مجیب الرحمن شامی نے پیر کی شب ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔اس دوران تازہ ترین صورتِ حال پر کھل کر گفتگو ہوئی۔ پُراعتماد فاروق حیدر نے کہا کہ مودی، ٹرمپ ملاقات سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اس وقت پھر حالات ایسے بن گئے ہیں کہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے سمت درست کر لی جائے تو مطلو بہ نتائج مل سکتے ہیں۔ ان کی اپنی رائے تو یہ ہے کہ اگر آزاد کشمیر کو فلسطین کے ماڈل پر سامنے لایا جائے اور پاکستان ویسے ہی سپورٹ کرے جیسے مسلم اور کئی غیر مسلم ممالک نے پی ایل او کے حوالے سے کیاتھا تو منزل قریب آ سکتی ہے۔

اس کے ساتھ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ،لیکن ہم پر زیادہ اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ کشمیر کے دونوں اطراف خودمختار ریاست کی بات کرنے والے آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ کشمیریوں کے پاس اور کوئی آپشن ہی نہیں۔ انہیں بھارت سے جان چھڑانے کے لئے خواہ کچھ بھی کرنا پڑے بالآخر پاکستان میں ہی ضم ہونا ہے۔ دونوں طرف کے کشمیریوں کا ایک ہی عزم ہے کہ ہم سری نگر سے سفر شروع کر کے راولپنڈی پہنچا کریں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ حکومت پاکستان کشمیر کے معاملے پر عالمی سطح پر جو کاوشیں کر رہی ہے اس کے بارے میں آپ سے پیشگی مشورہ کیا گیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ کچھ خاص نہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو ہی دیکھ لیں، انہوں نے 27ستمبر کو جنرل اسمبلی میں جو تقریر کرنی ہے اس کے بارے میں ہمیں (کشمیری قیادت کو) قطعاً کچھ علم نہیں۔

اس کے برعکس سابق وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ جا کر خطاب کرنے سے پہلے ہم سب کو بلایا اور کہا کہ میری تقریر کے سلسلے میں بھرپور معاونت کریں۔ آپ جو نکات بتائیں گے وہی اس کا حصہ ہوں گے۔ پھر ایسے ہی ہوا۔ فاروق حیدر نے کہا کہ ہمیں بھارت سے مقابلے کے لئے ملک میں قومی یکجہتی پیدا کرنے کی ضرورت ہے، مگر افسوس!سب اس کے الٹ ہورہا ہے۔

تمام عالمی فورموں پر بھارت کی حکومت اور اپوزیشن ایک ہیں۔یہ سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے۔ شملہ معاہدہ کے موقع پر اندرا گاندھی نے اپنے شدید سیاسی مخالف راج نارائن کو نہ صرف اپنا ہم نوا بنایا،بلکہ بھارتی حکومت کا موقف اجاگر کرنے کے لئے کئی بیرونی ممالک کے دورے پر بھی بھیجا۔ فاروق حیدر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیر کو زمین کے ٹکڑے کا تنازع بنا کر پیش کررہا ہے اور ہم بھی کسی حد تک اصل مقاصد سے پیچھے ہٹے ہوئے ہیں۔ یہ سیدھا سیدھا رائے شماری کا معاملہ ہے۔ اس پر اقوام متحدہ کی چھ قراردادیں آ چکی ہیں۔اس وقت ہمارا سارا فوکس اس بات پر ہونا چاہئے کہ بھارتی حکمران اپنے مکروہ عزائم پورے کرنے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش نہ کریں۔ ایسا کرنا عالمی معاہدوں اور قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہو گی۔ افسوس ناک صورتِ حال تو یہ ہے کہ ہمارے سفارت کار اس قابل ہی نہیں کہ معاملے کو درست طور پر ہینڈل کر سکیں۔

ان میں سے اکثر دیکھنے میں بھی بھارتی ہم منصبوں کے نیچے لگے نظر آتے ہیں۔ واضح اور کھل کر بات کرنے کی اہلیت تک نہیں۔ فاروق حیدر نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیاہے کہ یہ تاریخی موقع ہے تمام وسائل جھونک دیں۔ اخلاقی مدد تو کرنی ہی ہے، مگر سفارتی محاذ پر بھی اس مسئلے کی تمام پیچیدگیوں سے بخوبی واقف ریاض محمد خان، ریاض کھوکھر اور منیر اکرم جیسے تجربہ کار اور منجھے ہوئے سفارت کاروں کی خدمات پھر سے حاصل کی جائیں۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کا یہ مشورہ بہت بروقت اور صائب ہے۔ ہمارے ہاں تو ایسے عہدیداروں کو بھی توسیع مل جاتی ہے، جنہوں نے اپنی سروس کے دوران کوئی تیر نہیں مارا ہوتا تو پھر حقیقی ضرورت پڑنے پر محب وطن اور قابل سفارت کاروں کو پھر سے میدان میں کیوں لایا نہیں جا سکتا۔ وزیراعظم عمران خان سے اپنے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے فاروق حیدر نے دلچسپ پیرائے میں بتایا کہ مَیں نے پہلی ہی ملاقات میں ان پر واضح کر دیا ہے کہ میری طبیعت آپ جیسی ہی ہے، اس لئے احتیاط سے ہی چلنا ہو گا۔

مودی کو شاطر قرار دیتے ہوئے فاروق حیدر نے کہا کہ پلوامہ واقعہ کو بھارت نے منصوبہ بندی کے تحت پوری دُنیا کے سامنے پاکستان کے خلاف کیس بنا کر استعمال کیا۔ بی جے پی کا منشور تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دے گی اور مودی نے اب اس پر عملدرآمد کر دکھایا۔ مقبوضہ کشمیر میں بدترین مظالم کا شکار مسلمان پاکستانی فوج کی راہ تک رہے ہیں۔ ہمیں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہو گا۔ بھارت معاشی اور فوجی لحاظ سے بڑی طاقت ضرور ہے، لیکن اگر اسے بروقت اور ٹھوس جواب دیا جائے تو نمٹا بھی جا سکتا ہے۔ انڈیا ایک ہاتھی ہے اگر ایک بار اسے کسی طریقے سے بٹھا دیا جائے تو پھر اس کا اٹھنا مشکل ہو جائے گا۔ اس نشست میں وزیراعظم آزاد کشمیر تمام تر واقعات اور پیشگی خطرات کے باوجود بہت پرامید نظر آئے، لیکن انہوں نے یہ انتباہ بھی کیا کہ کشمیر پاکستان کے دفاع کی سب سے بڑی دیوار ہے۔

اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے کر اقدامات نہ کیے گئے تو پھر بھارت کی بری نظر پورے پاکستان پر ہو گی۔ خدانخواستہ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ دب گیا تو پھر پاکستان کو ممکنہ بھارتی جارحیت کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہو جانا چاہئے۔ ہو سکتا ہے ایسا فوری طور پر نہ ہو بھارت مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کے لئے بھی کئی سال سے منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ پاکستان کے خلاف کسی ممکنہ اگلے پلان پر عملدرآمد میں بھی دس سے پندرہ سال لگ سکتے ہیں۔یہ تو تھی مسئلہ کشمیر اور اس کے باعزت حل کی جانب بڑھنے کے لئے فاروق حیدر کی سیر حاصل گفتگو،لیکن دیکھنا تو یہ ہے کہ ہم کیا کررہے ہیں۔ عام یوتھیا توکیا حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے کئی پڑھے لکھے جاہل بھی یہ کہتے نظر آرہے ہیں کہ اچھا ہوا مقبوضہ کشمیر بھارت کے قبضے میں چلا گیا، ہم نے وہاں سے کیا لے لینا تھا۔ان احمقوں کو اتنا بھی علم نہیں کہ قائداعظم ؒنے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ اس لئے کہا تھا کہ پاکستان کا پانی وہیں سے آتا ہے۔

اب مودی پانی روکنے کے حوالے سے بھی نت نئے منصوبے تیارکر رہا ہے۔ممتاز دانشور ڈاکٹر منظور اعجاز کا کہنا ہے کہ حکمران طبقات کو ملک کے جغرافیے سے بھی زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی۔ اگر کوئی حصہ قبضے سے نکل جائے تو وہ یہ سوچ کر راضی ہو جاتے ہیں کہ اتنا علاقہ ہی کافی ہے، جس پر آسانی سے حکومت کی جا سکے، لیکن ہم یہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ پاکستان میں ایسی کوئی سوچ پائی جاتی ہے۔ ہمیں سچ بولنا ہو گا اور حقائق کا سامنا کرنا ہو گا۔آج ہمارا حال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں قرارداد پیش کرنے کے لئے 16ممالک کی حمایت بھی نہ مل سکی۔ صادق و امین وزیراعظم عمران خان اور ان کے چرب زبان وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پوری دُنیا کے سامنے جھوٹ بولا کہ ہمیں 58ممالک کی حمایت حاصل تھی۔

امریکہ جاتے ہی عمران خان کی باڈی لینگوئج کسی تھکے ہوئے شخص جیسی ہو گئی۔ وہ اور ان کے دیگر حکومتی رفقاء دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ اس بات پر زیادہ زور دے رہے ہیں کہ ہم جنگ نہیں چاہتے۔ سارا زور یہی صفائی دینے پر ہے کہ امن چاہئے۔ بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے آخر کب دینا ہے؟وہ مقبوضہ کشمیر ہڑپ کر چکا۔ اب آزاد کشمیر کے حوالے سے کھلی دھمکیاں دے رہا ہے۔ بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے لئے اینٹ کیا بنی گالہ آ کر مارنے کا انتظار کیا جارہا ہے۔ کشمیر پر یکجہتی تو دور کی بات قومی اتحاد ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزور ہوتا جارہا ہے۔

مسلم لیگ(ن)، جے یو آئی اوردیگر جماعتیں تو ایک طرف سندھ کی حکمران لبرل جماعت پیپلز پارٹی بھی موجودہ حکمران ٹولے پر کشمیر کی فروخت کا الزام لگا رہی ہے۔جو ٹرمپ کی ثالثی کو ورلڈ کپ ٹرافی سمجھ رہے تھے ان کی ساری خوش فہمی اپنی موت آپ مر چکی۔ ہیوسٹن میں مودی اور ٹرمپ کے مشترکہ جلسے کے بعد پاکستان کے حوالے سے اقوام متحدہ کا اجلاس بے معنی ہو چکا۔عوام کی بھاری اکثریت کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہیں، وہ مسئلہ کشمیر کو مہنگائی اور بدترین گورننس پر پردہ ڈالنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ملک میں باہر سے ہی نہیں اندر سے بھی کشیدگی میں اضافے کے امکانات ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے جارہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم