غیر ملکی سفارت کاروں کا دورہ کنٹرول لائن

غیر ملکی سفارت کاروں کا دورہ کنٹرول لائن

  

پاکستان میں تعینات متعدد ممالک کے سفارت کاروں، دفاعی اتاشیوں اور بین الاقوامی اداروں سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے کشمیر کی کنٹرول لائن کا دورہ کیا،جورا  سیکٹر کے دورے پر اُنہیں شہری آبادی کے جانی و مالی نقصان سے آگاہ کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے ڈی جی،میجر جنرل بابر افتخار نے اُنہیں کنٹرول لائن کی تازہ ترین صورتِ حال اور سیز فائر کی بھارتی خلاف ورزیوں کے بارے میں آگاہ کیا،سفارت کاروں کو بتایا گیا کہ بھارتی فوجی جان بوجھ کر شہری آبادی کو ہدف بناتے ہیں،جس میں کلسٹر بموں کا استعمال کیا جاتا ہے،اِس سال اب تک18 افراد کی جانیں ضائع ہو چکی ہیں،سفارتی نمائندوں کو بھارت کی جانب سے استعمال کئے گئے کلسٹر بموں کے ٹکڑے دکھائے گئے اور بھارتی گولہ باری کا نشانہ بننے والی عمارتیں بھی دکھائی گئیں اور متاثرہ لوگوں سے ملاقات کرائی گئی،سفارتی نمائندوں نے جورا بازار کا دورہ کر کے دکانداروں سے بھی ملاقات کی، اُنہیں شہری آبادیوں کے لئے بنائے گئے حفاظتی بنکر بھی دکھائے گئے۔میجر جنرل بابر افتخار نے سفارتی نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور اِس ظلم و ستم سے عالمی توجہ ہٹانے کے لئے کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزیاں کر رہا ہے۔رواں برس بھارت نے2333 مرتبہ کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی۔اُن کا کہنا تھا کہ پاک فوج پیشہ ورانہ فورس ہونے کا مکمل ثبوت دیتے ہوئے صرف بھارتی فوج کی چوکیوں کو نشانہ بناتی ہے۔ بھارت کی اشتعال انگیزیاں درحقیقت، بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و ستم سے عالمی توجہ ہٹانے کے لئے ہیں،عالمی ادارے بالخصوص یو این ایچ سی آر بھارتی مظالم کو بے نقاب کر چکے ہیں،اُن کا کہنا تھا کہ کشمیر کی صورتِ حال کے باعث پورا خطہ خطرات سے دوچار ہے، مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نکالا جائے۔

ایسے وقت میں جب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس جاری ہے اور روزانہ اِس اجلاس میں عالمی رہنماؤں کے خطاب ہو رہے ہیں،ترک صدر رجب طیب اردوان نے دو  روز قبل اپنے خطاب میں کشمیر کی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا کا امن مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط ہے اگر یہ مسئلہ جوں کا توں رہا اور فوری طور پر اس کے حل کی طرف توجہ نہ دی گئی تو خطے  کا امن نہ صرف خطرے میں پڑا رہے گا،بلکہ ایٹمی فلیش پوائنٹ ہونے کی وجہ سے دُنیا کا امن بھی داؤ پر لگا رہے گا۔اس موقع پر دُنیا کے سفارت کاروں اور عالمی اداروں کے نمائندوں کو کنٹرول لائن کی صورتِ حال کا بچشم ِ خود مشاہدہ کرنے کا موقع ملا ہے اور انہوں نے ملاحظہ کر لیا ہے کہ کنٹرول لائن پر بھارتی اشتعال انگیزیوں کی کیا کیفیت ہے، کنٹرول لائن سے ملحقہ آبادیاں مستقل پریشان کن حالات کا شکار ہیں،کھیتوں میں کام کرتے کسانوں پر اچانک گولیاں برسا دی جاتی ہیں اور انہیں خوفزدہ کرنے کے لئے لاؤڈ سپیکر پر اشتعال انگیز اعلانات بھی کئے جاتے ہیں،پاکستان اس صورتِ حال کا صبر و تحمل سے مقابلہ کر رہا ہے اور جوابی گولہ باری کو صرف فوجی چوکیوں تک محدود رکھتا ہے، جوابی فائرنگ بھی صرف ناگزیر صورتوں میں کی جاتی ہے،آج تک پاکستان کی فوج نے شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا،بھارتی اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ کنٹرول لائن تک محدود نہیں ہے اس کی فضائیہ پاکستان پر ناکام حملے کی جسارت بھی کر چکی ہے تاہم اسے جو دندان شکن جواب ملا اس کے بعد بھارتی فضائیہ کو ایسی مزید کسی حرکت کی جرأت نہیں ہوئی،پاکستان نے گرفتار ہوا باز کو بھی چند ہی دن میں جذبہ ئ  خیر سگالی کے تحت رہا کر دیا تھا۔اس حملے کے بعد اپنی خفت مٹانے کے لئے بھارت نے دعوؤں کا جو سلسلہ شروع کیا تھا اس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں تھا اور یہ دعوے الف لیلوی داستانیں زیادہ معلوم ہوتے ہیں، پہلے بھارت نے دعویٰ کیا کہ بالا کوٹ پر حملہ کر کے دہشت گردی کے کیمپ تباہ کر دیئے گئے ہیں،جن میں 350 دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں،اُن دِنوں بھی پاکستان نے بین الاقوامی صحافیوں کو اس علاقے کا دورہ کرایا تھا، جس کے بارے میں بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ وہاں دہشت گردی کے کیمپ ہیں، زمین پر صحافیوں کو نہ تو کوئی تباہ شدہ کیمپ نظر آئے اور نہ ہی مرنے والوں کی کوئی باقیات نظر آئیں، ان صحافیوں کی رپورٹوں کے بعد جب عالمی میڈیا میں بھارتی دعوؤں کا کچا چٹھہ کھل گیا تو پھر بھارت کو یہ بات تسلیم کرتے ہی بنی کہ اس کے فضائی حملے کو پاکستان نے سرعت کے ساتھ ناکام بنا دیا تھا، گھبرائے ہوئے پائلٹ نے گرفتاری سے پہلے اِدھر اُدھر جو بم پھینکے اس سے بھی چند درختوں کی ٹہنیاں ٹوٹنے سے زیادہ کوئی نقصان نہیں ہوا۔

کنٹرول لائن پر بھارت جس طرح اشتعال انگیزیاں کر رہا ہے اگر پاکستان بھی جواب میں احتیاط کا دامن نہ تھامے رکھے تو یہ شعلے پھیل کر بھرپور جنگ کی شکل اختیار کر سکتے ہیں،جس سے پورے خطے کا امن برباد ہو جائے گا،پاکستان نے بہت اچھا اقدام کیا ہے کہ عالمی برادری کے سفارت کاروں اور نمائندوں کو کنٹرول لائن کی حقیقی تصویر دکھا دی ہے، بھارت نے آج تک کسی بھی عالمی تنظیم کو نہ مقبوضہ کشمیر کے اندر جانے دیا ہے اور نہ ہی کانگرس سمیت اپنی سیاسی جماعتوں کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ آزادانہ طور پر گھوم پھر کر ریاست کی صورتِ حال کا مشاہدہ کر سکیں،کبھی کسی  کو کنٹرول لائن پر بھی نہیں جانے دیا، جن صحافیوں کو ریاست کا دورہ کرایا گیا اُنہیں بھی محدود علاقوں میں جانے کی اجازت ملی، ان صحافیوں نے اپنی رپورٹوں میں خصوصی طور پر اس کا ذکر بھی کر دیا کہ مودی کی حکومت اور مقبوضہ کشمیر میں متعین فوج صحافیوں کو آزادانہ رپورٹنگ کی اجازت بھی نہیں رہی،جن چینلوں نے یہ کوشش کی انہیں بند کر دیا گیا، یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ جیسے لوگ جو ہمیشہ بھارت کی مرکزی حکومت کے ساتھ تعاون پر آمادہ رہے اب یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ کشمیری اِس بات کو زیادہ پسند کریں گے کہ اُن پر بھارت کی بجائے چین حکومت کرے، امید ہے کہ جن سفارت کاروں نے کنٹرول لائن کا دورہ کیا ہے وہ اپنی حکومتوں کو حقیقی تصویر دکھائیں گے اور اُن کو بتا دیں گے کہ بھارتی اشتعال انگیزیوں کی وجہ سے جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں ہے۔ یہ مُلک قیام امن کی خاطر اپنا کردار ادا کریں تو بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کے لئے آمادہ کیا جا سکتا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -