مہنگائی کا ایک نیا دور شروع!

مہنگائی کا ایک نیا دور شروع!

  

حکومت کی طرف سے جان بچانے والی ادویات کے نرخوں میں 262فیصد تک اضافہ کے بعد  یوٹیلٹی سٹوروں پر اشیاء ضرورت اور خوردنی کے نرخوں میں بھی کئی گنا اضافہ کر دیا گیا اور نیپرا نے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر بجلی کے نرخوں میں فی یونٹ1.62روپے بڑھا دیئے۔ یہ ایک سال تک وصول کئے جائیں گے اور صارفین کی جیب سے166ارب روپے نکلوائے جائیں گے، اشیاء ضرورت و خوردنی اور بجلی کی قیمت میں یہ اضافہ مہنگائی کا ایک اور طوفان لے کر آئے گا۔ ادویات کے ساتھ ساتھ استعمال کی دیگر اشیا میں جب  سرکاری سطح پر اضافہ ہو گا تو بازار بھی متاثر ہو گا جو پہلے ہی عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے،ملک میں بے روزگاری اور بیماریوں میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، جبکہ آمدنی میں بھی واضح کمی ہوئی ہے، تنخواہ دار اور روزانہ اجرت والا طبقہ اور بھی پس کر رہ جائے گا،اور ان کے پہلے سے خسارہ میں گئے بجٹ اور بھی نقصان میں چلے جائیں گے، اس طرح عام آدمی کی روزمرہ زندگی اور بچوں کا مستقبل بھی متاثر ہو گا، جن ادویات کے نرخوں میں اضافے کی منظوری دی گئی،ان میں سر درد، بخار،امراضِ قلب، ذیا بیطس، پیٹ درد اور آنکھ، کان، ناک میں انفیکشن کی ادویات بھی ہیں، اور جملہ امراض یہاں عام ہیں۔ یوں ان ادویات کی قیمتیں بڑھنے سے بھی یہی لوگ متاثر ہوں گے، حکومت کو غور کرنا ہو گا کہ اتنی مہنگائی کے اثرات کیا ہوں گے اور اس سے معاشی اثرات کے علاوہ معاشرتی طور پر کیا نقصان ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -