آئی جو اس کی یاد

آئی جو اس کی یاد
آئی جو اس کی یاد

  

عبدالواحد میرے لئے بالکل واحد تھا، بالکل واحد رہے گا۔ اوکاڑہ شہر سے دریائے راوی کی سمت کوئی سات آٹھ میل کے فاصلے پر چک نمبر 48 تھری آر کا گاؤں ہے جس سے جڑی نیامی کی معروف آبادی بھی ہے۔ یہ وہ گاؤں ہیں جہاں میرے والد مرحوم کی نمبرداری اور زمینداری تھی۔ وہ اوکاڑہ شہر میں رہ کر میڈیسن کا کاروبار کرتے تھے اس لئے انہوں نے گاؤں میں  اپنی نمائندگی کے لئے اپنے چھوٹے بھائی کو سربراہ نمبردار بنایا تھا اور اپنی زمینداری کا بھی انہیں چارج دے رکھا تھا۔ 

اس گاؤں سے مَیں بچپن سے جڑا ہوا ہوں، جب بھی کبھی سکول سے چھٹیاں ہوتیں تو ہم چک 48 میں یا پھر اس سے مزید چند میل آگے برج جیوے خان میں  اپنی پھوپھی کے گھر پہنچ جاتے۔ چک 48 میں میرے چچا اور دیگر برادری کے گھر بھی ہیں، لیکن میرا قیام ہمیشہ اپنے ماموں نور دین کے پاس ہوتا تھا۔ ان کی گلی کو مَیں نے ان کے نام پر ”نور گلی“ قرار دیا ہے۔ اس گلی میں میرے ماموں کی اولاد کے پانچ گھر ہیں۔ میرے بچپن میں صرف ان کا ہی ایک بڑا حویلی نما گھر تھا، جن کی اولاد اب الگ الگ گھروں میں آباد ہو گئی ہے۔اسی ماموں کے ایک بیٹے عبدالواحد سے میری اتنی دوستی تھی کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے بڑھ کر مثالی بن گئی۔یہ عبدالواحد چند روز قبل اچانک اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔

اپنے ماں باپ، کچھ بزرگوں اور تین بھائیوں کی جدائی کے بعد زندگی جو اجڑی اجڑی سی لگتی تھی وہ مزید بے رنگ ہو گئی اور مجھے اپنا ایک پرانا شعر  یاد آیا اور لگا اب پھر وہی کیفیت ہو گئی ہے،

ایسا تو گیا سارے رنگ لے گیا

زندگی کی روح اپنے سنگ لے گیا

عبدالواحد دنیا سے کوچ کر گیا تو میرا فوری طور پر پہلا ردعمل یہ تھا کہ ”چک 48 سے میرا ذاتی جھنڈا اتر گیا۔“ اپنے ماموں کے گھرانے میں یہی وہ پرچم تھا جس کے سائے تلے مجھے سکون اور ٹھنڈک محسوس ہوتی تھی۔ کرونا کی وبا کے باعث رکاوٹ ہو گئی ہے ورنہ شاید ان دنوں مَیں  اوکاڑہ ہوتا۔ سردیاں شروع ہوتے ہی پاکستان جانا ہے۔ لاہور کے بعد اوکاڑہ بھی جانا ہے۔ چک 48 میں نور گلی بھی جاؤں گا۔ اس گلی میں عبدالواحد کے گھر سمیت سبھی پانچ گھروں میں بھی جاؤں گا، لیکن مجھے پہلے سے ہی احساس ہو رہا ہے کہ شاید اب وہاں میرا پرچم اترنے کے بعد ہر طرف دھوپ ہی دھوپ ہو گی۔ ایک اجاڑ اجاڑ ویرانی، دل ابھی سے سوچ سوچ کر بیٹھ رہا ہے کہ اب وہاں سب کچھ ہوگا، کھلے بازوؤں سے خیر مقدم کرنے والا میرا یار نہیں ہوگا۔

مجھے نہیں یاد کہ بچپن یا لڑکپن کے ابتدائی دنوں میں مَیں کبھی چھٹیوں میں اس گاؤں میں آیا ہوں اور عبدالواحد کے بغیر وقت گزارا ہو۔ سارا دن گلیوں میں بھاگنا، ماموں کی زمینوں پر مٹر گشت کرنا اوٹ پٹانگ چیزیں کھاتیرہنا اور رات کو دیر تک عبدالواحد کی اپنے رشتہ دار اور گاؤں کے دوسرے لڑکوں کے ساتھ مجلس ہوتی جس میں میں بھی شریک ہوتا۔ جب تک گہری نیند نہ آ جاتی یہ مجلس جاری رہتی جس میں عموماً جنوں، پریوں کے قصے اور کہانیاں سننے کو ملتیں جو اتنی دلچسپ ہوتیں کہ اٹھنے کو دل نہ کرتا۔

عبدالواحد کے ساتھ کھیتوں میں بیٹھ کر گنے چوسنا، مچھلیاں بھون کر کھانا، تب گڑ بھی زمینوں پر بنتا تھا، اسے گرما گرم موقع پر کھانا، گنے کے رس کے کڑاہے میں جہاں گڑ بنتا تھا اس مَیں شکر قندی ڈال کر تیار ہونے کے بعد کھانا۔ عملی زندگی میں آنے کے بعد اور خاص طور پر امریکہ آنے کے بعد جب کھانے پینے کے بارے میں شعور بڑھا تو پھر اس کے بعد اب جب گاؤں جاتا ہوں معدنی پانی کی بوتلوں کا سٹاک ساتھ رکھتا ہوں۔ چائے اور کھانے کے لئے پانی کو چیک کئے بغیر کھاتا پیتا نہیں، گھی پر بھی نظر رکھتا ہوں کہ کون سا استعمال ہوا ہے۔ یہ تفصیل اس لئے بتائی ہے کہ اس گاؤں کی زمینوں پر بچپن میں کھالے کے ساتھ الٹے لیٹ کر اس کا پانی پیتا رہا ہوں جو نہر یا ٹیوب ویل سے آ رہا ہوتا تھا۔ یہ کام مجھے عبدالواحد نے سکھایا جو میرے ساتھ پانی پیتا۔ میں یہ شرط لگاتا کہ بہاؤ کے اوپر کی طرف سے پانی پیؤں گا تاکہ مجھے  عبدالواحد کا جوٹھا پانی نہ پینا پڑے۔ ایک دن مَیں  نے دیکھا اوپر کی طرف ایک بھینس کا بچہ یعنی کٹا پانی پی رہا تھا۔ مَیں  نے کہا کیا ہم جانوروں کے ساتھ مل کر پانی پی رہے ہیں۔  عبدالواحد کہنے لگا، فکر نہ کرو یہ بہتا پانی ہے اس میں سب آلائشیں نیچے بیٹھ جاتی ہیں۔ شاید وہ صحیح کہہ رہا تھا۔ ایسے سب کام کرتے ہوئے گاؤں میں کبھی بیمار نہیں پڑے تھے۔

عبدالواحد بڑے ماموں کے گھر کا دوسرے نمبر کا بیٹا تھا۔ بڑے بھائی ڈاکٹر عبدالخالق کے کلینک کے باہر تھڑے پر نور گلی میں آج بھی پچھلے پہر گاؤں کی روایت کے مطابق مجلس جمتی ہے۔ اس کے سامنے عبدالواحد کے چھوٹے بھائی اور انتہائی شریف النفس انسان خالد کا گھر ہے۔ عبدالواحد کے گھر کے سامنے اس کی بیوہ بہن آپی تلقین کا گھر ہے جو اپنے چھوٹے بیٹے ناصر کے ساتھ رہتی ہے۔ ساتھ میں آپی کے بڑے بیٹے عامر کا گھر ہے۔ میرے ماموں کے گھرانے کے یہ سب افراد آپس میں کبھی ناراض ہوتے، کبھی اُلجھ بھی پڑتے ہیں، لیکن ایک دوسرے سے جڑے ہوئے بھی بہت ہیں کہ ان کا ایک دوسرے کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا۔ عبدالواحد کی ایک بہن نصرت اوکاڑہ شہر میں رہتی ہے جو میرے ایک بھائی سے بیاہی ہوئی ہے۔ اس قبیلے کا ایک رکن ہونے کے ناطے عبدالواحد بھی اتار چڑھاؤ کا شکار رہتا تھا، لیکن ایک بات طے شدہ ہے کہ اپنے بزرگوں کی روایت کے مطابق اس قبیلے کی دیانت داری پر شبہ نہیں کیا جا سکتا۔

میرے بڑے ماموں میاں فضل دین مرحوم بے اولاد ہی رہے۔میری والدہ نواب بیگم ان دونوں بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔مَیں نے بھائیوں کے بہنوں سے پیار کے بہت قصے سن رکھے ہیں لیکن ان دو بھائیوں نے اپنی بہن سے جتنا پیار کیا جتنا خیال رکھا مجھے ایسی کوئی مثال کبھی نہیں ملی۔ مَیں ان کی بہن کا سب سے بڑا بیٹا تھا مجھے ذاتی طور پر خصوصاً ماموں نور دین سے جو پیار ملا وہ میرے باقی بہن بھائیوں کے حصے میں نہیں آیا۔

مَیں نور گلی میں اپنے ماموں کے اس قبیلے کے معاملات میں دوسرے بہن بھائیوں کی نسبت زیادہ شریک رہتا ہوں۔ شاید میری ماں کو ان سے جو پیار ملا اور اس کے بعد ان کی جو ڈھیروں شفقت ذاتی طور پر میرے حصے میں آئی میں شاید لاشعوری طور پر اسے لوٹانے کی کوشش کرتا ہوں۔ اسی طرح میرے ماموں کے گھرانے کے حوالے سے ایک اور خوش نصیبی صرف میرے حصے میں آئی جس کا میرے بھائی بہن تصور بھی نہیں کر سکتے۔ میری کوئی خالہ نہیں تھی۔ بہت سی پھوپھیوں اور چچیوں کی موجودگی میں مجھے اپنی ماں کے بعد جتنا بے تحاشا پیار ملا وہ اپنی ممانیوں سے ملا۔ بڑی ممانی زینب شہر میں رہتی تھیں۔ ایک ممانی حسینی اس ماموں روشن کی اہلیہ، جو دراصل میرے ماموں کے کزن تھے اور اس وقت چک 42 تھری آر میں رہتے تھے۔ بچپن میں کبھی کبھار ان کے گھر بھی گیا ہوں۔ ان دو ممانیوں کے پیار کی تفصیل سنانے کا وقت نہیں۔ صرف چک 48  والی ممانی سردار بیگم کا مختصر سا قصہ بتا سکتا ہوں جو عبدالواحد کی والدہ تھیں۔میں اور عبدالواحد عام طور پر صبح سویرے خالی پیٹ باہر سیر کے لئے نکل جاتے اور بھوک لگتی تو واپس گھر آ جاتے۔ پتہ چلتا کھلے صحن کے ایک طرف فرشی کچن میں ناشتے کی تیاری ہو چکی ہے لیکن شروع نہیں ہو سکتا کہ ماموں اور ممانی کا لاڈلا مہمان لڑکا سیر سے واپس نہیں آیا۔ ممانی پراٹھے بناتیں اور سب سے پہلا پراٹھا مجھے ملتا۔ چولہے کے قریب نصف دائرے میں چوکیوں پر بیٹھ کر ناشتہ شروع ہو جاتا اور ماموں چولہے کے بالکل ساتھ بیٹھتے۔ صبح لسی بلونے کے بعد تازہ مکھن کا بڑا پیالہ تیار ہوتا جو ممانی کے قبضے میں ہوتا۔ سب سے پہلے وہ پیالہ مجھے پکڑاتیں۔ میں اپنی مرضی سے مکھن نکالتا تو پھر دوسروں کو ہاتھ لگانے کی اجازت ملتی۔ عبدالواحد ہمیشہ مذاق سے کہتا کہ میرے ماں باپ کے سب سے سگے تو تم ہی ہو باقی شاید ہم سب سوتیلے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -