سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

  

سارے جہاں میں اُردو کی دھوم کا نعرہ داغ دہلوی نے لگایا تھا۔ یہ کوئی ایسی بے بنیاد بات بھی نہیں تھی، اُردو دنیا کے کئی ممالک میں سمجھی اور بولی جاتی ہے،البتہ یہ کسی خاص علاقے یا قوم کی کی زبان نہیں۔ ایک سروے کے مطابق دنیا میں اُردو بولنے اور سمجھنے والے لوگوں کی تعداد 170 ملین ہے۔ بھارت جیسے بڑے ملک میں اکثریت اُردو سمجھتی ہے۔ پانچ ریاستوں تلنگانہ، مغربی بنگال، جھاڑ کھنڈ بہار اور دارالخلافہ دلی میں اُردو سرکاری زبان ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں 130 سال سے اُردو نافذ ہے، اب البتہ بھارتی حکومت نے کشمیر اور بہار میں اسے سیکنڈری حیثیت دے دی ہے۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ بہت سے پاکستانی اِسے ہندوستان کی زبان سمجھتے ہیں۔ ہمارے سندھی، بلوچ اور پختون اور شاید سرائیکی بھائی بھی اپنی مادری زبانوں سے جڑے ہوئے ہیں اور اُردو کے بارے میں بڑے تحفظات رکھتے ہیں۔ بنگالیوں نے تو قائداعظمؒ کی طرف سے اُردو کو قومی زبان قرار دینے کے فیصلے پر بڑا ہنگامہ کیا تھا، جس میں کئی لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

اِن لوگوں کا خیال ہے کہ اُردو کا پاکستان کی سرزمین سے کوئی تعلق نہیں،یہ تو ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے لوگ لے کر آئے ہیں، لیکن یہ پوری حقیقت نہیں۔ پروفیسر فتح محمد ملک نے اپنی کتاب ”اُردو زبان ہماری پہچان“ میں دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان سٹڈی سنٹر کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرزاق صابر بلوچستان کو اُردو کااصل ماخذ بتاتے ہیں۔ پروفیسر خاطر غزنوی ہندکو کو اُردو کا ماخذ بتاتے ہیں۔ سید سلیمان ندوی اور پیر حسام الدین راشدی سندھ کو اُردو کاموجد اور مسکن ٹھہراتے ہیں۔ حافظ محمود شیرانی اُردو کو پنجابی کی ترقی یافتہ صورت قرار دیتے ہیں۔ 70ء کی دہائی میں جب سرحد اور بلوچستان میں عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت العلمائے اسلام کی مخلوط حکومتیں تشکیل پائیں تو سردار غوث بخش برنجو نے پہلے دن سے اُردو کو سرکاری اور دفتری زبان بنایا۔ آج بھی بلوچستان اور سرحد میں سرکاری اور دفتری زبان اُردو ہے۔ پاکستان کی تخلیق کا تو حوالہ ہی اسلام اور اُردو تھا، لیکن کچھ لوگ تو اب اُردو کے ساتھ ساتھ اسلام سے بھی جان چھڑانا چاہتے ہیں۔

 پاکستان میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ہندوستان کی زبان ہے، لیکن ہندوستان میں اِسے بہت سے لوگ مسلمانوں کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ 1936ء میں گاندھی نے ہندی ساہتیہ سمیلن کے صدر کی حیثیت سے اعلان کیا تھا کہ ہندوستان کی زبان ہندی ہو گی اور اس کے لئے دیونا گری رسم الخط اختیار کیا جائے گا، کیونکہ اُردو مسلمانوں کی زبان ہے اور قرآنی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے،پھر اِسے مسلمان بادشاہوں نے رائج کیا تھا۔ گاندھی کے اعلان اور ٹھوس دلائل کے باوجود بھارت میں آج بھی اُردو کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ بھارت میں ممتاز اہل قلم اظہار کے لئے اُردو ہی کو ذریعہ بنائے ہوئے ہیں۔ بھارت کی فلمی دنیا میں اُردو کا راج ہے۔اگرچہ اب بھارت میں اقلیتوں،خصوصاً مسلمانوں کے خلاف نفرت کی جو مہم چل رہی ہے،اِس میں بھارتی ہر اُس چیز سے گریزاں ہیں، جس کا تعلق مسلمانوں سے ہے، اِس کے باوجود اُردو کی اہمیت ختم نہیں ہوسکی۔ ہندوستان کے ایک بزنس مین سنجیو صراف نے تو اُردو کی ترویج کے لئے باقاعدہ ایک ریختہ فاؤنڈیشن بنائی ہوئی ہے، جس کے تحت قومی اور بین الاقوامی سطح کے مشاعرے اور دوسری تقریبات منعقد کی جاتی ہیں اور اُردو کتابوں کی اشاعت کے لئے پبلشنگ ہاؤس قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے ایک ویب سائٹ بھی بنائی ہے جو اُردو کا خزانہ ہے۔

پاکستان میں اور مسائل کی طرح زبان کا مسئلہ بھی بہت الجھا ہوا ہے۔ اُرد وہماری قومی زبان ہے، انگریزی سرکاری زبان ہے،پھر ہماری مادری  زبانیں ہیں۔ بابائے قوم نے اُردو کو قومی زبان  قرار دیا تھا پھر 1973ء کے دستور میں کہا گیا ہے کہ 15 سال کے اندر اُردو کو  سرکار دربار میں نافذ کیا جائے گا، اِس مقصد کے لئے ضروری ادارے، مثلاً  مقتدرہ قومی زبان بھی قائم کر لئے گئے اور مقتدرہ قومی زبان نے اُردو کے نفاذ کے لئے تمام ضروری اقدامات اُٹھائے تھے۔ایسٹا کوڈ اور دوسری سرکاری دستاویز کا اُردو ترجمہ کر لیا گیا تھا۔ سابق وزیراعظم شوکت عزیز نے ایک وزارتی کمیٹی بھی اس مقصد کے لئے قائم کر دی تھی، لیکن حکومت بدل گئی تو یہ معاملہ سرد خانے کی نذر ہو گیا اور اُردو  کا نفاذ نہ ہو سکا۔ اُردو باہمی رابطے کی زبان ہے، صرف سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے لئے نہیں،بلکہ بھارت بنگلہ دیش اور نیپال جیسے ممالک کے ساتھ رابطے کے لئے بھی کارآمد ہے۔ کچھ سال پہلے لندن میں ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔  وہاں ایک بھارتی نژاد خاتون سے ملاقات ہو گئی، اس نے ایک کینیڈین سے شادی کی ہوئی تھی، باتوں باتوں میں وہ کہنے لگی کہ پتہ نہیں کیوں آپ لوگوں نے 6 فیصد کی زبان کو پورے ملک پر مسلط کیا ہوا ہے۔ 6 فیصد سے اُن کا اشارہ اُردو بولنے والے لوگوں کی طرف تھا،کسی تفصیلی بحث کی گنجائش نہیں تھی، لہٰذا مَیں نے کہا اُردو ہمارے ملک میں رابطے کی مؤثر زبان ہے تو کسی کو اس سے کیا مسئلہ ہے۔ 

2009ء میں اُردو کے نفاذ کے لئے پاکستان قومی زبان تحریک کے نام سے ایک تنظیم وجود میں آئی۔ عزیز ظفر آزاد اس کے صدر تھے، اُن کی وفات کے بعد ہمارے دوست جمیل بھٹی صدر بن گئے۔ جمیل بھٹی یوں تو آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس سے ریٹائر ہوئے ہیں، لیکن علم و ادب کا ذوق انہیں اپنے عظیم والد پنجاب یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر اسماعیل بھٹی سے ورثے میں ملا ہے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ اِس تحریک کے زیر اہتمام 8 ستمبر کو تیس شہروں میں اُردو زبان کے حق میں جلسے ہوئے ہیں۔ جماعت اسلامی بھی اِس مقصد کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ پاکستان قومی زبان تحریک نے سپریم کورٹ میں بھی یہ مسئلہ اُٹھایا، کیونکہ یہ آئینی تقاضا ہے۔ عدالت نے بھی حکومت کو ہدایات دی ہیں، لیکن عملدرآمد کی رفتار بہت سست ہے۔ بلوچستان اور آزادکشمیر کے علاوہ کسی حکومت نے یہ فیصلہ نوٹیفائی نہیں کیا۔

اُردو کے ساتھ ساتھ پنجابی زبان کی تحریک بھی چل رہی ہے، اِس میں نجم حسین سید، مشتاق صوفی اور فخر زمان جیسے دانشور سرگرم ہیں۔ وہ لاہور میں سالانہ عالمی پنجابی کانفرنس کا بھی انعقاد کرتے رہتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں تو انگریزی کا غلبہ ہے، جسے انگریزی نہیں آتی، اُس کا کوئی مستقبل نہیں۔ انگریزی کے حامیوں کا خیال ہے کہ یہ دنیا سے رابطے کی زبان ہے اور اس کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ اِس بات میں بھی وزن ہے، لیکن کیا چین، جاپان اور کوریا جیسے ملکوں نے اپنی مادری زبانیں اپنا کر حیرت انگیز ترقی نہیں کی؟ اصل بات یہ ہے کہ ہماری اشرافیہ کو انگریزی کی بنیاد پر عام آدمی پر فوقیت حاصل ہے، وہ اپنی اس برتری سے کیوں دستبردار ہوں گے؟ اشرافیہ کو اِس بات سے کوئی غرض نہیں کہ انگریزی کے غلبے سے ہماری آئندہ نسل اپنے تہذیبی اور علمی و ادبی ورثے سے محروم ہوتی جا رہی ہے اور یہ کوئی معمولی نقصان نہیں۔ کیا ہمارے بچوں کے لئے غالب، اقبال اور فیض اجنبی نہیں بن جائیں گے؟

مزید :

رائے -کالم -