بھنگ اپنائیے،سرکار کی اجازت ہے 

بھنگ اپنائیے،سرکار کی اجازت ہے 

  

میری عادت ہے کہ مجھے سونے کے لئے مصنوعی سہارا لینا پڑتا ہے۔میں ان خوش نصیبوں سے نہیں،جنہیں نیند سولی پر بھی آجاتی ہے مجھے تو نیند مولٹی فوم کے میٹرس پر بھی نہیں آتی۔اوپر سے میں ٹھہری خواب دیکھنے کی بے انتہا شوقین، جاگتی آنکھوں نہیں، کہ جاگتی آنکھوں سے تو بہت کچھ دیکھ لیتی ہوں۔ ویسے بھی جاگتی آنکھوں خواب دیکھنا خواب کی توہین سمجھتی ہوں۔خواب دیکھنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ خواب بھلے حقیقت میں کبھی پورے نہ ہوں، لیکن خواب میں موجود کیفیت کو انسان پوری طرح محسوس کرتا ہے۔سو میں اپنی ان تمام ناکام حسرتوں جن کو حقیقت میں جنازہ اٹھا کر انہیں دفنا چکی ہوں،خوابوں میں پورا ہونے پر صبح اُٹھ کر جشن منا لیتی ہوں۔

اپنے رتبے سے بھرپور فائدہ اٹھا کر سرے محل خریدوں یا سوئس بینکوں میں موجود اپنے اکاونٹ میں غیر تسلی بخش اضافہ کرتی جاؤں، کسی کی مجال نہیں ہوتی کہ میمو گیٹ کا سیاپا ڈال دے۔میں اکثر اقتدار کے خواب پورے اختیار سے دیکھتی ہوں اور مزے کی بات یہ کہ کئی بار تو  حکمرانی کے نشے کا بھرپور مزہ بھی چکھ چکی ہوں۔ تو جناب یوں سمجھئے نیند میں جانا میری اشد ضرورت ہے کہ نیند میں جا کر ہی حکمرانی کر سکوں گی۔ویسے بھی ہمارے ہاں جاگ کر حکمرانی کرنے کا رواج نہیں ہے،خوابوں کے محل میں جانے کے لئے نیند کی وادی میں قدم رکھنا ہی ہوتا ہے اور اس وادی میں قدم رکھنا آسان نہیں، نیند میں جانا میری مجبوری سہی، لیکن نیند ہے کہ محبوب کی طرح مجھ سے روٹھی ہی رہتی ہے۔آخر کار منانے کے جتن میں مجھے اس کو گولی کرانا پڑتی ہے۔کم بخت خواب دیکھنے کا نشہ ایسا ہے کہ خواب آور ادویات کا سہارا لینا پڑتا ہے جو سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔آہ دیکھئے تو قسمت کی ستم ظرفی کہ مجھے  خواب بھی (دواء کی صورت) بازار سے خریدنا پڑتے ہیں۔قارئین سے التماس ہے کہ بات کو  اس طرح نہ پکڑیں،جس طرح مخالفین ایک دوسرے کے گریبان پکڑتے ہیں۔

آپ اپنی توجہ مضمون پر ہی مبذول رکھیئے، آپ کو اِدھر اُدھر بھٹکنے کی ضرورت ہر گز نہیں اس کام کے لئے میں بذاتِ خود موجود ہوں۔ہاں تو میں بات کر رہی تھی خواب اور نیند کی، قسم ہے نیند میں جا کر خوابوں کے مزے  تو آتے ہیں، پر اس پہ لاگت بھی آتی ہے۔ سچ پوچھیں  تو اس مزے میں عذاب یہ ہے کہ میٹھی نیند میں جانے کو کڑوی گولی نگلنا پڑتی ہے وہ بھی پیسوں سے۔اوراس پر مزید یہ کہ کوئی وعدہ نبھانا ہو یا کہیں جانا ہو منیر نیازی تو صرف دیر کرتے تھے میں تو صاحب اچھی خاصی دیر کر دیتی ہوں کہ خواب آور دواء کی بدولت خواب غفلت میں پڑے رہتی ہوں۔  جب اس موئی سر چڑھی گولی کانشہ اترے تو ہی  اٹھ کے کہیں آنے جانے کے قابل ہو پاتی ہوں، اور تب تک اچھی خاصی دیر کے ساتھ سوا سویر ہو چکی ہوتی ہے۔تب اس لمحے مومنانہ سا خیال آتا ہے کہ کسی حلال کھانے والے کو اب تک اس دوا کے حرام ہونے کا پتہ کیوں نہیں لگا۔میرے پاس اس کو چھوڑنے کی کیایہی امید رہ گئی ہے کہ کوئی اس پر حرام ہونے کا فتوی لگائے اور میں پکے مومن کی طرح اس سے منہ موڑھ کر  باغ بہشت کی ایک کالونی اپنے نام الاٹ کروالوں۔یقین کریں خواب آور ادویات تو سراسر گھاٹے کا سودا ہے،یہ قاضی کو ملی شراب کی طرح تو ہے نہیں، جس کے مفت ملنے پر جشن منایا جائے

۔اسے تو ذاتی پیسوں سے خریدنا پڑتا ہے جو بہرحال تکلیف دیتا ہے کہ جب غفلت میں جانا ہے تو اپنے پیسے لگا کر ہی کیوں۔ ایک تو اس کو خرید کے کھانا پڑتا ہے  دوسرا اس کے متواتر استعمال سے اعصابی کمزوری بھی ہونے لگتی ہے۔ میں تو اس سے جان چھڑانے کے طریقے سوچ رہی ہوں۔ کسی روحانی قوت نے خواب میں آکر بتایا کہ اگر خواب غفلت میں ہی پڑی رہنا چاہتی ہو اور اس  خواب آور ادویات سے جان بھی  چھڑانی ہے تو بھنگ استعمال کرو۔یہ خودرو پودا  مسکین کے بچوں کی طرح خود ہی پل کرجوان ہو جاتا ہے، اس پہ محنت لگتی ہے نہ پیسہ، اور نتیجہ بھی اچھا ہوتا ہے۔ میں شروع سے بھنگ کے حوالے  سے کوئی اچھی رائے نہیں رکھتی، تبھی اس کو کبھی گھر کے اندر لانے کی اجازت نہیں دی، لیکن بھلا ہو صاحب سرکار کا جس نے سرکاری اعلان کے ذریعے بتادیاکہ یہ کوئی ایسی بری چیز بھی نہیں۔ صاحبان قدردان بھنگ کی بوٹی ہے مہربان، اب رہے گا نہ کوئی پریشان۔جب سے سرکار نے بتایا ہے کہ بھنگ اچھی چیز ہے ہم خوشی سے پھولے نہیں سما رہے، اور اس سے بھی زیادہ  خوشی کی خبر یہ ہے کہ کسی ڈاکٹر نے اس کے مضر اثرات بھی نہیں بتائے۔بس جناب تب سے ہم خود کو بھنگ کے حوالے کرچکے۔ کیا بتاؤں بھنگ کا فائدہ نہیں فائدے ہی فائدے ہیں،بلکہ یہ فوائد کی ماں ہے۔پریشانی تو یہ ہے کہ اس کے کون کون سے فائدے گنوائیں جائیں۔

اس کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ اسے گھر کی کیاری میں اگا لیں تو روز روز کے میڈیکل سٹور کے چکروں سے نجات مل جائے گی۔روز نیند کی گولی خرید کر کھانے سے بہتر ہے گھر میں اگی خالص بھنگ اتار کر مفتوں مفت چبا لی جائے۔ بھنگ گھر گھر ہوگی تو ساس بہو کی لڑائی بھی کم کم  ہو گی۔ذرا ساس نے تنگ کیا اس کو گھوٹ کر پلا دی،یا بھنگ اچار کھلا دیا۔ ساس ٹن رہے گی۔بہو کی جان چھوٹ بھی سکتی ہے۔بچوں کے فیڈر میں ڈال دیں تو میاں بیوی آپس میں پیار کی پینگیں بڑھا کر اناج گھٹانے کی تحزیب کاری میں آرام سے مصروف رہ سکتے ہیں۔البتہ بیوی میاں کو خود بھنگ پلانے سے ذرا پرہیز کرے کہ اس سارے میں میاں کا تو بھلا ہی بھلا، لیکن بیوی کی خیریت نہ رہنے کا اندیشہ زیادہ ہے۔اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مہمانوں کو بھنگی پکوڑے کھلا کر مہمان داری کے دیگر لوازمات سے جان چھڑائی جا سکتی ہے۔ نشہ کرنے والوں کے لئے بھی یہ کسی نعمت سے کم نہیں،چرس ہو یا افیون چھپ کر دو نمبر طریقے سے خریدنی پڑتی ہے،بھنگ گھر میں ہوگی تو کھلے دِل  پی کے کوٹہ پورا ہوجایا کرے گا۔نشہ ٹوٹنے پر بوٹی اتاری اور پی کے پھر مست،اس طرح چوری کی وارداتوں میں نمایاں کمی آئے گی،جو لوگ بھنگ اگانے کے خلاف ہیں انہیں اندازہ ہی نہیں کہ وہ کس قدر احمق ہیں نہیں جانتے کہ اسے کاشت کرنے سے زندگیوں میں کس قدر سکون آنے والا ہے۔سرکار سے بھنگ اگانے کی اجازت تو مل گئی ہے اب  وہ دن دور نہیں جب اللہ کے فضل سے پوست اگانے کا لائسنس بھی مل جائے گا۔اور ہم چرس اور افیون میں بھی خود کفیل ہو جائیں گے۔ سوچئے یہ سب مل کر کتنی بڑی انڈسٹری بنائیں گے اور ہم اس کو ایکسپورٹ کر کے کس قدر کثیر زر مبادلہ کما ئیں گے۔اس کی بدولت ہم جلد ہی امریکہ جیسے ممالک کو تھلے لگانے کے قابل ہو سکیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -