تبدیلی کا طوفان اور اہل حرم کی بے نیازی 

تبدیلی کا طوفان اور اہل حرم کی بے نیازی 
تبدیلی کا طوفان اور اہل حرم کی بے نیازی 

  

تبدیلی لائی نہیں جا سکتی لیکن تبدیلی،نظر آنے والی تبدیلی آگئی ہے قدرت نے کورونا وائرس کے ذریعے ایک نظر نہ آنے والے حقیر وائرس کے ذریعے تبدیلی کا طبل بجا دیا ہے یہ تبدیلی ہمہ گیر ہے انسانی زندگی کے ہر پہلو پر چھائی ہوئی نظر آتی ہے آفاقی ہے کہ اس نے پہاڑوں،صحراؤں سے لے کر ماڈرن اور متمدن سوسائٹیوں تک کو بدل کر رکھدیا ہے۔تہذیب انسانی صدیوں سے نہیں ہزاریوں سے تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے تبدیلی کا یہ عمل آدم کے زمین پر بھجوائے جانے کے ساتھ ہی شروع ہو گیاتھا یہ اپنی فطری اور طبعی رفتار سے چلتا رہا ہے شہرہ آفاق مصنف ایلون ٹافلر کی معروف کتب تھرڈ ویوو،فیوچر شاک نے تاریخ انسانی میں ہونے والی تبدیلیوں کا احاطہ کیا ہے ہم اگر جاری تبدیلی کا پس منظر اور پیش منظر جاننا چاہیں تو ہمیں ایلون ٹافلر کی کتب کا مطالعہ کرنا چاہئے اس سے ہم تبدیلی کے فطری عمل کو بھی جان سکیں گے اور انسانوں کی ان کاوشوں کو بھی جان سکیں گے جو تبدیلی کے عمل کو مہمیز دیتی ہیں انسان جو کچھ بھی کر لے لیکن اس کی کاوشوں کی ایک حد ہے یہی وجہ ہے کہ ا س کی ذہنی و جسمانی عرق ریزی ایک خاص حد تک ہی مطلوبہ نتائج پیدا کر سکتی ہے اس سے آگے جانا،انسان کے بس میں نہیں ہے انسانی صلاحیتوں کی ایک حد ہے جسے پار کرنے کی اسمیں صلاحیت نہیں ہے۔

ہم اگر تاریخ انسانی کی روشنی میں تہذیبی و تمدنی ترقی کا مطالعہ کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ انسان دورِ وحشت سے نکل کر جب آگے بڑھا تو اس نے کھیتی باڑی کو اپنایا۔بودو باش اور سکونت پذیری کا چلن اختیار کیا یہ دور دس ہزار سال تک جاری و ساری رہا انسان نے پہیہ بنایا۔بھاپ کا جن قید کیا جن کی قید سے پہلے چرخہ و تکلا سامنے آیا۔ کھڈی بنائی،کپڑا بننا شروع کیا ہنر کو فروغ ملا۔انسانی محنت کی عظمت کا سفر شروع ہوا۔بیل گاڑی،چھکڑے سے ہوتے ہوئے انسان چھک چھک کرتے انجن تک پہنچا۔گاڑی و ریل کا سفر شروع ہوا۔صنعتی و مشینی دور نمودار ہوا۔تیزی،سرعت،گردش نے وسیع پیمانے پر پیداواری عمل کو فروغ دیا۔پھر انٹر نیٹ اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے معاملات میں حیران کن تیزی دیکھنے میں آئی۔پیدواری عمل کے حجم اور کوالٹی میں بہت بہتری آئی۔مصنوئی ذہانت نے اس عمل کو بام عروج تک پہنچا دیا ہے ایسے لگنے لگا کہ انسان تعمیر و ترقی کی انتہاؤں تک پہنچ چکا ہے مغربی شہ دماغوں نے تو اسے”تاریخ کے خاتمے“کانام بھی دے دیا تھا،لیکن قدرت اور فطرت بھی تو سارے کھیل کا حصہ ہے حتمی کھلاڑی ہے۔ 

کورونا وائرس نے پوری دنیا،بلکہ جدید و ترقی یافتہ دنیا کی ترقی اور برتری کے دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے اس وائرس نے سب سے پہلے انسان کی طبی شعبے میں عظیم الشان ایجادات و دریافتوں کا بھانڈہ پھوڑ کر ثابت کر دیا ہے کہ ہم ترقی یافتہ انسان ایک نادیدہ وائرس کی ہلاکت خیزیوں کے سامنے قطعاً بے بس ہیں صدیوں کی تحقیق کا نچوڑ کیا نکلا؟ابھی تک وائرس کی دوائی نہیں بنائی جا سکی ہے ویکسین تیاری کے مراحل میں ہے پھر ایک اور انکشاف ہوا کہ وائرس اپنی ہیئت بھی تبدیل کر رہا ہے دوبارہ حملہ آور بھی ہو سکتا ہے اور اس کا یہ حملہ پہلے حملے سے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے دوسری بات جو وائرس نے بتائی کہ ہمارا معاشی نظام ریت کی دیوار ہے عالمی اقتصادی و معاشی نظام کا دھڑن تختہ ہو گیا ہے۔یہ کیا نظام ہے، جس کی عظمت و بڑائی کے گن گائے جاتے رہے ہیں سرمایہ دارانہ نظام معیشت و معاشرت کا بھی دھڑن تختہ ہو چکا ہے۔ پوری مشرقی و مغربی دنیا جو اس نظام کے ساتھ جڑی ہوئی ہے تباہ حالی کا شکار ہو چکی ہے، جبکہ چین اور اس سے وابستہ کچھ اقوام وائرس کا مردانہ وار مقابلہ کرنے میں فی الوقت کامیاب نظر آ رہے ہیں۔

تبدیلی کا جاری عمل ہمہ گیر ہے۔عالمگیر ہے، عالمی توازن طاقت بڑی سرعت کے ساتھ تبدیل ہوتا نظر آنے لگا ہے ویسے چین گزری دو دہائیوں سے تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے اور عالمی طاقت کا توازن بتدریج اس کے حق میں جا رہا ہے کورونا نے اقوام مغرب کی کمزوریاں اور نظام کی بوسیدگی کو عیاں کر کے رکھ دیا ہے جو تبدیلی بتدریج آ رہی تھی کورونا نے اس کی رفتار اتنی تیز کر دی کہ وہ ایک زقند لگا کر بلندی تک پہنچی ہوئی نظر آنے لگی ہے۔

کورونا نے ابھی اپنی گرفت چھوڑی نہیں ہے صرف ڈھیلی کی ہے برطانیہ کے کئی علاقوں میں دوبارہ لاک ڈاؤن ہونے جا رہا ہے کئی امریکی ریاستوں میں بھی ایسا ہی نظر آ رہا ہے بھارت ابھی تک کورونا کی شدید لپیٹ میں ہے وطن عزیز کی حالت بھی اس حوالے سے بہت خوشگوار نہیں ہے۔دنیا بدل چکی ہے دنیا بدل رہی ہے کاروبار کے نت نئے نظریات سامنے آ رہے ہیں تعلیم و تدریس کا روایتی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر آ رہا ہے ابلاغ کی صورتیں بھی بدلتی ہوئی نظر آ رہی ہیں سماجی و ثقافتی مناظر تبدیل ہو رہے ہیں۔

تہذیبی تبدیلی بھی سامنے ہے کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہوں گی عرب دنیا ہو یا مسلم ورلڈ وہ سب اسرائیل کو تسلیم کرنے اور کیوں نہ کرنے کی باتیں کرتے نظر آ رہے ہیں عالم اسلام بھی ہمہ گیر تبدیلی کے دوراہے پر کھڑا ہے یہ تبدیلی بڑی سرعت کے ساتھ آ گئی ہے تھرڈ ٹمپل کی تعمیر اور مسیح موعود کی آمد ثانی کی باتیں ہو رہی ہیں اہل حرم تو جیسے افیون کھا کر پڑے ہوئے ہیں انہیں تبدیلی کے چلتے ہوئے جھکڑ محسوس نہیں ہو رہے ہیں۔تباہی،بربادی کا عفریت منہ کھولے سامنے کھڑا ہے لیکن انہیں نظر نہیں آ رہا ہے عالم اسلام ہو یا عالم عرب،مسلمان تقسیم در تقسیم کے عمل بلکہ گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں ایسا لگتا ہے کہ تباہی، مکمل تباہی ان کا مقدر بن چکی ہے۔تبدیلی کا بے رحم رولر کوسٹر انہیں پیس کر رکھ دینے کو تیار نظر آ رہا ہے، لیکن وہ آنکھیں بند کئے مست پڑے ہیں۔اللہ خیر کرے۔

مزید :

رائے -کالم -