جمہوری مجلس عمل سے پاکستان جمہوری تحریک تک!

جمہوری مجلس عمل سے پاکستان جمہوری تحریک تک!
جمہوری مجلس عمل سے پاکستان جمہوری تحریک تک!

  

حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی کل جماعتی  کانفرنس سے قبل ہم نے انہی سطور میں گذارش کی تھی کہ یہ کانفرنس ناکام نہیں ہو گی اور اِس بار اتحاد بن جائے گا، یہ کوئی پیش گوئی نہیں، تجربے کی بدولت کہا تھا، اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ اپوزیشن میں کئی اختلاف ہیں، ان جماعتوں کے پروگرام اور مفادات الگ الگ  ہیں،لیکن حزبِ اقتدار کی طرف سے ان کو دیوار سے لگانے کا جو سلسلہ شروع ہے،اس کی بدولت دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے، کے فارمولے کے تحت یہ سب اکٹھے ہو جائیں گے،خود وزیراعظم عمران خان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ سب ”چور“ ہیں، اور اپنے مفادات کے لئے اکٹھے ہو جاتے ہیں، ان کو کہیں یہ احساس ضرور تھا، تاہم جمہوری تربیت کی کمی کے باعث یا پھر پارلیمانی سیاست میں پہلی انٹری کی وجہ سے وہ اپنے مزاج پر قائم ہیں اور نتیجہ وہی نکلا جو ہم نے عرض کیا تھا، ہمارا نصف صدی سے بھی چھ سال زیادہ کاصحافتی تجربہ بھی یہی بتا رہا تھا کہ کپتان اپنی مخالف ٹیموں کو ایک جگہ لانے میں ”کامیاب“ رہیں گے اور ان کی ”الیون“ ایک ”الیون“ بن کر مقابلہ کرے گی۔

ہمارے حزبِ اقتدار والے شاید اپنی طاقت یا ”حمایت“ کے بل پر کچھ ”مغرور“ بھی ہو گئے ہوئے ہیں، اور اسی لئے کسی کو درخور اعتنا نہیں جانتے، کپتان تو اپنی حلیف جماعتوں کو بھی ناراض کرتے رہے ہیں،حتیٰ کہ وسیع تجربے کے حامل سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی جماعت کو بھی شکایتوں کا موضع دیتے رہے، اور ایم کیو ایم جو  اب متحدہ کہلاتی اور بلدیہ فیکٹری کے مجرموں سے بھی ”لاتعلقی“ کا اعلان کرتی ہے، کو بھی جوش دلایا، حتیٰ کہ محترم اختر مینگل کو بھی ناراض کیا،چونکہ ان کو یہ زعم ہے کہ یہ سب حالات حاضرہ میں ”بکریاں“ ہیں، اسی لئے ان کو بھی حدودمیں ہی رکھنا چاہئے اور وہ رکھتے چلے آ رہے ہیں۔ دوسری طرف اپنی اکلوتی جماعت کے اکلوتے رکن اور اکلوتے وزیر ریلوے شیخ رشید نے بھی ”اپنے“ فرائض سنبھال لئے اور حزبِ اختلاف والوں کو رگڑا لگا لگا کر اشتعال دلانا شروع کر دیا اور یوں ان گیارہ جماعتوں نے اسی میں عافیت جانی کہ اکٹھے ہو کر  ہی ”مقابلہ“ کریں، چاہے دِل ناتواں والا ہی ہو،یہ بھی ہمارا تجربہ ہے کہ پاکستان میں صحافت باخبر ہونے کے باوجود بے خبر رہتی ہے۔

ہم ”جمہوری مجلس عمل“ (ڈیک) سے اب پی ڈی ایم (پاکستان جمہوری تحریک) تک بھی اسی غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ اتحاد نہیں بنے گا، ان کے درمیان بہت اختلافات ہیں اور خبریں بھی ایسی ہی چلاتے ہیں اور اب تو ماشاء اللہ محترم فرزند ِ راولپنڈی اور ترجمانوں کی بھاری بھر کم تعداد بھی بہت ہے(یہ سرکاری+ جماعتی ہیں) جو یہی کہتی رہی کہ یہ ”چور“ ہیں، ”ڈاکو“ ہیں، ”مفرور“ اور اشتہاری“ ہیں، یہ کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے اور جب یہ ہو گیا تو کیا خوب کہا ”سارے گندے انڈے“ ایک ٹوکری میں جمع ہو گئے ہیں،ہم یہاں یہ نہیں کہیں گے کہ یہ زبان کہاں سے آئی، اور سیاست میں عمل دخل کدھر سے شروع ہوا، لیکن یہ عرض ضرور کریں گے کہ سیاست میں یہ عمل کہ مخالفت یا اختلاف نہیں، دشمنی ہے، یہ اسی دور میں ہوا ہے، ہم نے ہمیشہ سیاسی استحکام اور جمہوری طرزِ عمل کی حمایت کی،لیکن شاید ہماری قوم کے نصیب میں ”گھبرانا نہیں“  ہی لکھا ہے کہ اب پھر وزیراعظم نے یہی فرمایا ہے کہ ان کو  تو مینڈیٹ کرپشن کے خلاف ملا ہے، چلیں قصہ ختم، یہ جو مہنگائی، بے روزگاری اور بیماریاں ہیں، یہ ان کی ذمہ داری نہیں،یہ قوم کے نصیب ہیں، جو وہ بھگت رہی اور اسے بھگتنا ہو گا۔

چاہے، ادویات کے نرخوں میں چوتھی مرتبہ اضافہ ہو، اور یہ 262فیصد تک کیا گیا، اور بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر پھر پونے دو روپے فی یونٹ مزید اضافہ کر دیا جائے، صارفین تو وزیراعظم کی اس ہدایت سے پیٹ بھر لیں جو انہوں نے کی ہے کہ بجلی سستی کی جائے، جی! یہ سننی ہی تو ہوئی، ہمارے وزیراعظم جب بھی ایسی بات اور ہدایت فرماتے ہیں تو ہم خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ اس کے بعد مہنگائی اور بڑھ جاتی ہے، اور اب بجلی کے علاوہ یوٹیلٹی سٹوروں پر بھی اشیاء ضرورت کی قیمتیں بڑھ گئیں، صرف اتنا ہی تو ہوا ہے کہ کھانے والے آئل کے نرخ صرف ”17“ روپے فی لیٹر زیادہ ہو گئے ہیں، آج بھی بے شمار حساب دان قلم دوات لے کر یہ حساب کرتے نظر آتے ہیں کہ اب اخراجات میں کہاں کمی کی جائے کہ یہ مزید اضافی بوجھ سنبھالا جا سکے۔

بہرحال بات حزبِ اختلاف کے اتحاد کی تھی، جسے پی ڈی ایم کا نام دیا گیا ہے، ہم نے عرض کیا کہ ہمارے صحافت شروع کرتے وقت واسطہ ڈیک (جمہوری مجلس عمل) سے پڑا تھا، اسی کے پلیٹ فارم سے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح نے ایوب خان کے مقابلے میں صدارتی الیکشن لڑا اور ان کو نہ صرف دھاندلی سے ہرایا گیا، بلکہ (اللہ معاف کرے) غدار تک کہہ دیا گیا، جو آج کے دور کا فیشن ہے کہ ہر دو(حزبِ اقتدار+ حزبِ اختلاف) مودی کے یار ہیں۔ اتحادوں کے سلسلے میں مرحوم نوابزادہ نصر اللہ خان کا اعزاز ہے ان کو باباء جمہوریت اور اتحاد بھی کہا جاتا ہے، کہ انہوں نے سخت حریف جماعتوں  کو بھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا تھا، ان کے حساب میں پی ڈی ایف کے بعد اتحاد ہی اتحاد ہیں۔

یہ پاکستان جمہوری محاذ، پی این اے (پاکستان قومی اتحاد) سے پہلے موجود اور اس کی قیادت پیر پگارو(علی مردان شاہ) کے پاس تھی، یہ بھی پی این اے میں ضم ہوا اور نیا اتحاد (مفتی محمود مرحوم) کی سربراہی میں بنا، اور وہ ہمارے مولانا فضل الرحمن کے والد ماجد تھے، اس کے بعد تو یہ اعزاز بھی نوابزادہ نصر اللہ کا ہے کہ ہر اتحاد کا نام انہی الفاظ ہی کو الٹا پلٹا کر  رکھ دیا جاتا، مثلاً پی ڈی اے، اور پی ڈی ایم، ایم آر ڈی، اور اے آر ڈی، اور جی ڈی اے یوں یہ اتحادوں کا سلسلہ پرانا ہے، جو  اب پی ڈی ایم تک آ گیا اور مولانا فضل الرحمن کو روح رواں کہا جا رہا ہے۔ ہم ایک بار پھر گذارش کرتے ہیں، کہ قومی مفاد،سیاسی استحکام کو پیش ِ نظر رکھیں اور عوام کے صبر کا امتحان نہ لیں، اور یہ جو سلسلہ نیا شروع کیا، اسے ختم کریں کہ جو حضرات ملاقاتوں میں کچھ تلاش کرتے اور الزام لگاتے ہیں وہ خود سارے عمل کو سیاسی بنا رہے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -