حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ 

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ 

  

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے۔ان کا دور خلافت اسلامی فتوحات کا سنہری دور تھا۔ان کے دور میں شام، مصر،عراق اور ایران کے کئی علاقے فتح ہوئے۔ انھوں نے اپنے عہد خلافت میں اسلامی حکومت کی حدود کو وسیع کیا۔

    حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسا نظام ترتیب دیا جو آج تک پوری دنیا میں رائج ہے۔انھوں نے سن ہجری کا آغاز کیا،جیل کا تصور دیا،مؤذنوں کی تنخوا ہیں مقرر کیں،مسجدوں میں روشنی کا بندوبست کیا،پولیس کا محکمہ بنایا۔

    دنیا میں پہلی بار دودھ پیتے بچوں، معذوروں،بیواؤں اور بے آسراؤں کے وظیفے مقرر کیے۔فوجی چھاؤنیاں بنوائیں اور فوج کا باقاعدہ محکمہ قائم کیا اور بے انصافی کرنے والے ججوں کو سزا دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا اور دنیا میں پہلی بار با اختیار لوگوں کا احتساب بھی شروع کیا۔

    حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے:”جو حکمران عدل کرتے ہیں،وہ راتوں کو بے خوف سوتے ہیں۔“

    ان کا فرمان تھا کہ قوم کا سردار قوم کا سچا خادم ہوتاہے۔ ان کے دستر خوان پر کبھی دو سالن نہیں رکھے گئے۔ وہ زمین پر سر کے نیچے اینٹ رکھ کر سوجاتے تھے۔ ان کے کْرتے پر14پیوند تھے اور ان پیوندوں میں ایک سرخ چمڑے کا پیوند بھی تھا۔وہ موٹا اور کھردرا کپڑا پہنتے تھے۔انھیں نرم اور باریک کپڑے پسند نہیں تھے۔

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب کسی کو گورنر بناتے تھے تو اسے نصیحت فرماتے:”کبھی ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہونا،باریک لباس نہ پہننا،چھنا ہوا آٹا نہ کھانا،دربان نہ رکھنا اور کسی فریادی کے آنے پر دروازہ بند نہ کرنا۔“

    حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ فقرہ آج بھی انسانی حقوق کے چارٹر کی حیثیت رکھتاہے:”مائیں بچوں کو آزاد پیدا کرتی ہیں،تم نے کب سے انھیں غلام بنالیا۔“

    وہ اسلامی دنیا کے پہلے خلیفہ تھے،جنھیں امیر المومنین کا خطاب دیا گیا اور دنیا کے واحد حکمران تھے جو فرمایا کرتے تھے:”میرے دور میں اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مر گیا تو اس کی سزا مجھ کو بھگتنا ہو گی۔“

    حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور میں جس جس خطے میں اسلام کا جھنڈا لہرایا،وہاں سے آج بھی ”اللہ اکبر“کی صدائیں آتی ہیں،وہاں آج بھی لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ کرتے ہیں۔

    ان کا بنایا ہوا نظام دنیا کے 245ممالک میں آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔

    آج بھی جب کسی ڈاک خانے سے کوئی خط نکلتاہے، پولیس کا کوئی سپاہی وردی پہنتاہے۔کوئی فوجی جوان 4ماہ بعد چھٹی پر جاتاہے یا پھر حکومت کسی بچے،معذور،بیوہ یا بے آسرا شخص کو وظیفہ دیتی ہے تو وہ غیر ارادی طور پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عظیم ترین حکمران تسلیم کرتی ہے۔

    حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں مشرکین بھی اعتراف کرتے ہیں کہ اسلام میں اگر ایک عمر اور ہوتا تو آج دنیا بھر میں صرف دین اسلام ہی نافذ ہوتا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -