دولت اور زندگی 

دولت اور زندگی 

  

     ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ کسی ملک میں ایک بادشاہ نے اپنی رعایا پر ظلم کرکے بہت سارا خزانہ جمع کرطرف سے ہوا۔وزیر نے جب خزانے کا دروازہ کھلا دیکھا تو حیران رہ گیا۔وہ سمجھا کہ غلطی سے دروازہ کھلا رہ گیا ہے۔اِسی خیال کے تحت اْس نے دروازہ باہر سے بند کر دیا اور محل پہنچ کر یہ بات بھول گیا۔

    جب بادشاہ ہیرے اور جواہرات کا معائنہ کرنے سے فارغ ہوا تو واپسی کا سوچا،لیکن جب وہ دروازے کی طرف پہنچا تو دیکھا کہ وہ بند تھا۔

    بادشاہ نے دروازے کو خوب زور زور سے پیٹنا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ چلا تا بھی رہا،لیکن اْس ویران جنگل میں اْس کی آواز سننے والا کوئی نہ تھا۔

    وہ واپس اپنے خزانے کی طرف گیا اور اْن سے دل بہلانے کی کوشش کرنے لگا،لیکن بھوک اور پیاس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ پھر دروازے کی طرف گیا،اْس نے چیخنا چلاًنا شروع کر دیا اور پھر تھک ہار کروہ واپس آگیا۔

    بھوک اور پیاس کی شدت اتنی بڑھ گئی تھی کہ آخر وہ ہیروں سے بھیک مانگنے لگا:”اے قیمتی پتھر! مجھے ایک وقت کا کھانا دے دو۔“اْسے یوں لگا جیسے وہ ہیرے اْس کی سادگی پر زور زور سے ہنس رہے ہوں۔اْس نے ایک ہیرا اْٹھا یا اور زور سے دیوار پر مارا پھر موتیوں سے اپنی فریاد کرنے لگا:”اے قیمتی موتیو! مجھے ایک گلاس پانی دے دو۔“اْسے لگا کہ موتی اور جواہرات اْس پر ہنس رہے ہیں،بادشاہ کو بہت غصہ آیا،لیکن بھوک غصے پر غالب آگئی۔

    آخر بھوک کی شدت اتنی بڑھ گئی کہ وہ نڈھال ہونے لگا۔اْس نے دنیا کو پیغام دینے کے لئے زمین پر کچھ لکھا اور مرگیا۔

    ادھر ملک میں بادشاہ کے غائب ہونے کی وجہ سے کہرام مچا ہوا تھا۔ہر شخص ہی بادشاہ کے بارے میں فکر مند تھا اور اْسے تلاش کرنے کی تگ ودو کررہا تھا۔

    بادشاہ کو تلاش کرتے ہوئے اتفاق سے وزیر کا گزر اْس غار کی طرف سے ہوا تو اْس نے سوچا کہ بادشاہ کے خزانے کا کچھ اَتا پتا کریں۔جب وہ غار کے اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ بادشاہ مرا پڑا ہے اور زمین پر لکھا ہے:”دولت کسی کو زندگی نہیں دے سکتی۔“

    وزیر بادشاہ کی لکھی ہوئی تحریر پڑھ کر سکتے میں آگیا۔وہ بادشاہ کا تجربہ محسوس کر چکا تھا۔ اْس نے تہیہ کیا کہ آئندہ زندگی میں وہ دولت کی بجائے انسانوں سے پیار کرے گا اورکسی کو تکلیف نہیں دے گا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -