شو کاز نوٹس بنتا ہے 

 شو کاز نوٹس بنتا ہے 
  شو کاز نوٹس بنتا ہے 

  

اس کے باوجود کہ قوانین پارلیمان سے پاس کئے جا رہے ہیں مگر یہ سوال اس کے باوجود اہم ہیں کہ کیا پاکستان میں پارلیمان اپنی وقعت کھو چکی ہے؟ کیا پارلیمان محض ایک ربڑ سٹمپ بن چکی ہے؟ پارلیمان کے بے وقعت پن میں بڑا حصہ صرف وزیر اعظم عمران خان نے نہیں بلکہ ہر سابقہ وزیر اعظم نے کیا ہے۔ اس مرتبہ تو انتہا ہوگئی کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بھی اس لئے کم کم ہی پارلیمنٹ میں آتے ہیں کہ 2018کے انتخابات کے نتیجے میں وہ وزیر اعظم نہیں بن سکے تھے۔ اس سے بھی بڑا مذاق یہ ہوتا ہے کہ ووٹنگ کے وقت عددی اکثریت رکھنے والی اپوزیشن اور عددی اقلیت کی حامل حکومت اکثریت میں تبدیل ہو جاتی ہے، اس کے باوجود اپوزیشن کو اصرار ہے کہ وہ جینوئن اپوزیشن کا کردار ادا کررہی ہے اور حکومت کو اصرار ہے کہ وہ جمہوری اقدار کے عین مطابق پارلیمان کو چلا رہی ہے۔ 

جس طرح سابق گورنر کراچی محمد زبیر کی آرمی چیف سے ملاقات کا پول کھلا ہے اور انہوں نے اس ملاقات کو ان سے اپنی بپچنے کی رفاقت سے تعبیر کیاہے اس کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے کیونکہ نواز شریف کی تقریر کا جواب تو بہرحال بنتا تھا، خواہ اس کے لئے برسوں کے یارانے کو ہی کیوں نہ قربان کرنا پڑتا۔ لیکن نواز شریف کی تقریر کا جواب تو شیخ رشید صاحب نے یہ راز کھول کر دے دیا تھا کہ اپوزیشن کی پوری قیادت 20ستمبر کو اے پی سی میں شرکت سے قبل 16ستمبر کو عسکری قیادت سے گلگت بلتستان کے موضوع پر ملاقات کرچکی تھی۔ محمد زبیر کی ملاقات کو پول تو شائد مریم نواز کے اس دعوے کے جواب میں کھولا گیا تھا کہ نواز شریف کا کوئی بھی نمائندہ ملاقات کے لئے نہیں گیا ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ سیاست کے پہلو میں دل نہیں ہوتا ہے، یہ الگ بات کہ بعض اوقات کوئی چال ہاری ہوئی جنگ کی آخری بازی کے طور پر چلی جاتی ہے۔

نواز شریف کو دوسری مرتبہ REJECTEDکے تاثر کا سامنا کرنا پڑا ہے، پہلے ڈان لیکس کے معاملے میں کرنا پڑا تھا اور اب اے پی سی میں اپنائے گئے موقف پر کرنا پڑا ہے۔ تاہم قابل غور بات یہ ہے کہ نہ تو نواز شریف اپنے موقف سے ٹس سے مس ہوئے ہیں اور نہ ہی انہیں رد کرنے والے!....اس دھینگا مشتی میں عوام محض تماشائی بنے ہوئے ہیں، وہ اس کے ساتھ ہیں نہ اس کے ساتھ کیونکہ وہ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ پاکستان میں ہر سیاستدان نے اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے پارلیمان کو جوتے کی نوک پر رکھا ہے اور جب اپنا مطلب نکل جاتا ہے تو سارا قصور ان کا نکال دیا جاتا ہے جو کسی پبلک فورم پر آکر حقیقت حال سے آگاہ نہیں کر سکتے ہیں۔ 

سوال یہ ہے کہ کیا نون لیگ محمد زبیر کو شو کاز نوٹس جاری کرے گی کہ انہوں نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی اور اپنے دیرینہ دوست سے ملاقات سے قبل پارٹی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیااور پارٹی قیادت کی مرضی و منشا کے بغیر ان کے قانونی اور سیاسی معاملات پر گفتگو کی۔ اگر محمد زبیر کو پارٹی کوئی شو کارز نوٹس نہیں جاری کرتی تو اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ لیا جائے گا کہ وہ پارٹی قیادت کی رضامندی سے ملنے گئے ہوں گے۔طرفہ مذاق یہ ہے کہ محمد زبیر کی گوشمالی تو کیا ہوگی، شہباز شریف کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے، وہ پارٹی کے اندر تو غیر مقبول تھے ہی، پارٹی سے باہر بھی ان کی گرفتاری کا سامان کیا جا رہا ہے، شائد فوری طور پر بچت اس لئے ہوگئی کہ چاہنے والے نہیں چاہتے ہوں گے کہ اس سے وہ یا نواز شریف مظلوم نظر آئیں اور عوام میں ان کے لئے ہمدردی کا کوئی جذبہ بیدار ہو جائے۔ بھلے نون لیگ میں اس وقت یونٹی آف کمانڈ نظر آرہی ہے تاہم اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نواز شریف کی تقریر پر عدالتی پابندی اور نون لیگ کو کالعدم جماعتوں کی فہرست میں شامل کردیا جائے۔ یہی نہیں بلکہ ان کے خلاف بھی پارٹی کے اندر بھی ویسی ہی لاتعلقی کی لہر پیدا ہو سکتی ہے جیسی متحدہ پیدا ہو گئی تھی۔شطرنج کے کھیل کی زبان میں انہیں جلد یا بدیر چیک میٹ ہو سکتا ہے، ان کے پاس واپسی کے راستے محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ انہیں مولانا فضل الرحمٰن کی سپورٹ کی اشد ضرورت ہوگی۔ یہی نہیں ان کے غیر ملکی دوستوں کو بھی اپنا کردار ادا کرناہوگا، اور ہاتھیوں کی لڑائی کو منعقد ہونے سے قبل ہی ملتوی کرنا پڑے گا۔

اس میں شک نہیں کہ پارلیمان کو قومی سلامتی کے اداروں کی معاونت ازحد ضروری ہوتی ہے لیکن اس تاثر کی نفی ہونی چاہئے کہ سیاسی قیادت کو جی ایچ کیو میں فیصلوں سے آگاہ کیا جاتا ہے اور سیاسی قیادت پارلیمان جا کر ووٹ ڈلوادیتی ہے اور جواب میں نیب سے ریلیف کی متمنی ہوتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -