دھان فصل کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کرنے کی ہدایت

دھان فصل کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کرنے کی ہدایت

  

لاہور (سٹی رپورٹر)ترجمان محکمہ زراعت کے مطابق دھان کے کاشتکار کٹائی کے بعد فصل کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں۔دھان کی کٹائی کے بعد باقیات مثلاً پرالی اور مڈھوں کو آگ لگانے کی صورت میں متعلقہ کاشتکار کے خلاف دفعہ - 144 کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے گی لہذٰا کاشتکار دھان کی کٹائی کے بعدفصل کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں کیونکہ اس عمل سے نہ صرف زمین کی بالائی سطح پر موجود نامیاتی مادہ کو نقصان پہنچتا ہے اور زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے۔دھان کی باقیات سے اٹھنے دھواں ٹریفک حادثات اور انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بھی بنتا ہے۔دھان کی باقیات کو تلف کرنے کیلئے کاشتکار فصل کی برداشت کے بعدباقیات کو رائس سٹرا چاپر/ روٹا ویٹر یا ڈسک ہیرو کی مدد سے زمین میں ملا دیں یا گہرا ہل چلا کر آدھی بوری یوریا فی ایکڑ چھٹہ کرکے پانی لگا دیں۔اس سے زمین کی زرخیزی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے مزید بتایا کہ دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے کے واقعات کو روکنے کیلئے محکمہ زراعت پنجاب ہر ممکن اقدام کررہا ہے کیونکہ سموگ کی وجہ سے انسانی زندگی  کے ساتھ فصلات، باغات اور سبزیوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ موجود ہوتا ہے۔ امسال سیکرٹری زراعت پنجاب واصف خورشید کی ہدایت پر فیلڈ اسسٹنٹس روزانہ کی بنیاد پر دھان کی فصل کی باقیات کو جلائے جانے والے واقعات کو مانیٹر کریں گے اور اس کی رپورٹ ڈائریکٹر(ایم اینڈ ای) اوراپنے متعلقہ ڈویڑنل ڈائریکٹر کو ارسال کی جا ئے گی۔ ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کاشتکاروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ محکمہ زراعت پنجاب سے اس سلسلے میں مکمل تعاون کریں کیونکہ سموگ کی وجہ سے انسانی زندگیوں پر براہ راست منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں لہذٰا دھان کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کیا جائے تاکہ ہمارا ماحول بہتر ہو سکے اور ہم فضائی آلودگی سے بچ سکیں۔

مزید :

کامرس -