طب نبوی سے خطرناک بیماریوں کا خاتمہ ہوتا ہے،پروفیسر آفتاب

طب نبوی سے خطرناک بیماریوں کا خاتمہ ہوتا ہے،پروفیسر آفتاب

  

لاہور (لیڈی رپورٹر)طب نبویؐ کے استعمال سے دنیا خطرناک بیماریوں سے چھٹکارا پا سکتی ہے۔ اگر ہم اپنے کھانے اور سونے کی  ترتیب سنت کے مطابق بنا لیں تو بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ گاجر، مولی، کھیرا، شلجم، کینو، بند گوبھی اور دیگر کچی سبزیوں کے بعد چائے پینا فائدہ مند ہے جبکہ چائے کیساتھ بیکری آئٹم کا استعمال نقصان دہ ہے۔ کولڈ ڈرنکس کا متواتر استعمال بڑی بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔ رات دیر تک جاگتے رہنے سے آپ کے خون میں موجود سرخ خلیے جلنا شروع ہو جاتے ہیں جو صحت کیلئے نقصان دہ ہے۔ ان خیالات کااظہار ڈائریکٹر طب نبوی ریسرچ سنٹر لاہور آفتاب احمد خان نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان، لاہور میں منعقدہ خصوصی لیکچر بعنوان ”بیماریوں سے کیسے بچا جائے“ کے دوران کیا۔ اس لیکچر کا اہتمام نظریہئ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔

  پروگرام کے باقاعدہ آغاز پر قاری خالد محمود نے تلاوت جبکہ بلال ساحل نے بارگاہ رسالت مآبؐ میں ہدیہئ عقیدت پیش کیا۔ نظامت کے فرائض سیکرٹری نظریہئ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید نے انجام دیے۔   آفتاب احمد خان نے کہا کہ طب نبوی بہت وسیع موضوع ہے جس کا پوری طرح احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ اگر ہم اپنے کھانے اور سونے کی ایک نبوی ترتیب بنا لیں تو بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ صبح بھاری غذائیں جیسے سری پائے، حلوہ پوڑی یا نان چنے کے بجائے ہلکا ناشتہ کریں، کیونکہ ساری رات کے بعد معدہ کا سائز کم ہوا ہوتا ہے اور بھاری اشیاء کا ناشتہ معدہ پر مزید بوجھ کا باعث بنتا ہے۔ رات کو ایک گلاس پانی میں پانچ یا سات کھجوریں بھگو کر رکھ دیں اور صبح اٹھ کر پہلے اس کا پانی پئیں اور بعدازاں کھجوریں کھالیں۔ناشتہ صبح سات اور آٹھ بجے کے درمیان کر لینا چاہئے۔ناشتہ بنیادی طور پر افطارِ معدہ ہوتا ہے جو بھاری غذاؤں پر مشتمل نہیں ہونا چاہئے۔ انگریز قوم اسی لئے صبح ناشتہ میں انڈا سلائس کھانا پسند کرتی ہے۔ گیارہ بجے کے قریب جب آپ کا توانائی لیول کم ہونے لگے تو کوئی ہلکی چیز کھالیں۔اس وقت چائے پینا اس صورت میں انتہائی فائدہ مند ہے اگر آپ چائے سے قبل کوئی کچی سبزی گاجر، مولی، کھیرا وغیرہ کھالیں۔ چائے کے ساتھ بیکری آئٹم جیسے بسکٹ، کیک وغیرہ بالکل استعمال نہ کریں بلکہ کوئی روٹی کا ٹکڑا وغیرہ لیں۔اس وقت آپ کو ئی پھل بھی کھا سکتے ہیں۔ دوپہر کا کھانا ایک اور دو بجے کے درمیان کھالیں اور اس کے بعد قیلولہ ضرور کریں یہ سنت رسولؐ بھی ہے۔پانچ بجے کے قریب آپ ایک بار پھر کوئی پھل وغیرہ کھائیں اور چائے بھی پی سکتے ہیں۔رات کا کھانا مغرب اور عشاء کے درمیان ضرور کھا لینا چاہئے۔ رات کا کھانا ہر حال میں کھانا چاہئے اور احادیث میں اس کی پابندی بھی آئی ہے کہ رات کا کھانا ضرور کھاؤ۔ رات سونے سے کم ازکم دو گھنٹے قبل رات کا کھانا کھا لیں۔ اس کے بعد پانچ یا دس منٹ چہل قدمی بھی ضرور کریں، زیادہ دیر تک واک کرنا بھی نقصان دہ ہے۔ عشاء کی نماز کے بعد سو جانا صحت کیلئے انتہائی فائدہ مند ہے، اگر آپ رات دیر تک جاگتے رہتے ہیں تو آپ کے خون میں موجود سرخ خلیے جلنا شروع ہو جاتے ہیں جو صحت کیلئے نقصان دہ ہے۔ اس سے دماغ کی کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ رات دیر تک جاگنے والے افراد میں پٹھوں اور جوڑوں کے درد کی شکایت عام ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صبح نماز کیلئے اٹھنا عبادت کے ساتھ ساتھ صحت کیلئے بھی بڑا فائدہ مند ہے۔ بعض افراد خالی معدہ چائے پیتے ہیں جسے ایلیٹ طبقہ میں ”بیڈ ٹی“ کا نام بھی دیا جاتا ہے، یاد رکھیں ایسا کرنا بہت سنگین بیماریوں کو جنم دیتا ہے اسی طرح مغرب کے بعد چائے پینا بھی نقصان دہ ہے۔ چائے کے ساتھ گاجر، مولی، کھیرا، شلجم، کینو، بند گوبھی کھانا حد درجہ فائدہ مند ہے۔چائے کی پتی کو پانی میں بہت زیادہ پکانا بڑی بیماریوں کا باعث ہے علاوہ ازیں دودھ پتی صحت کیلئے بڑی نقصان دہ ہے۔ چائے کی لسی گردے اور مثانہ کی بہت سی بیماریوں کا علاج ہے، اس کا بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک کپ سٹرانگ چائے بنائیں اور اسے کسی جگ میں انڈیل لیں اور اس کے بعد دو گلاس پانی اس میں ڈال کر اس کو اچھی طرح پھینٹ لیں۔ چائے کے ساتھ گرم اشیاء بالکل نہ لیں۔حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ وہ ہم مزاج اشیاء کھانے میں اکھٹی نہ کرو۔اسی لئے کھجور کے ساتھ تربوز، تر یا کھیرا استعمال کرنا چاہئے۔کھانا کھانے کے بعد پھل کبھی نہ کھائیں بلکہ الگ سے کھائیں۔دوپہر اور شام کے کھانے کے بعد چائے بالکل نہ پئیں۔کھانے کے بعد پانی پینا بھی منع ہے چہ جائیکہ ہم چائے یا کولڈ ڈرنک کا استعمال کریں، ایسا کرنا صحت کیلئے نقصان دہ ہے۔انہوں نے کہا کہ گاجر اور اور ٹماٹر کینسر جیسے موذی مرض کا علاج ہے۔ اسی طرح کچی سبزیاں بڑی فائدہ مند ہیں۔کولڈ ڈرنک کا استعمال ہمارے یہاں بہت عام ہو چکا ہے اس سے حتی الامکان بچیں۔ کالے مشروبات تو زہر جیسے ہیں۔ قدرت نے نظام بنایا ہے کہ جسم سے کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے اور آکسیجن اندر جاتی ہے۔ کولڈ ڈرنکس کے ذریعے ہم کاربن ڈائی آکسائیڈ اپنے جسم کے اندر لیکر جاتے ہیں تو اندازہ کریں یہ کس قدر نقصان کا باعث ہو گا۔ سفید کولڈ ڈرنک کو ایک گلاس میں آ دھا ڈال لیں اور باقی آدھا پانی سے بھر لیں اور کچھ دیر بعد اسے پی لیں۔ یہ فائدہ مند ہے اور اگر اس میں آدھا لیموں ڈال کر پیا جائے تو بلڈ پریشر کے مریضوں کیلئے اکسیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنت کی پیروی کی جائے تو دنیا خطرناک سے خطرناک بیماریوں سے چھٹکارا پا سکتی ہے۔ آج انسانیت شوگر، امراض قلب، گردوں کے عارضوں، کینسر، ایچ آئی وی / ایڈز اور دیگر بیماریوں کی وجہ سے کافی پریشان ہیں۔ دنیا یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ آخر موٹاپے کے مضر اثرات سے انسانیت کو کس طرح بچایا جائے، نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا انسانوں کو ان بیماریوں سے کیسے نجات دلائی جائے؟ جسمانی و روحانی صحت کو کس انداز میں برقرار رکھا جائے؟ انسانیت کو ان تمام عارضوں اور پریشانیوں سے بآسانی چھٹکارا دلایا جاسکتا ہے۔ جس کیلئے سارے انسانوں کو نبی پاک ؐ کے ہر عمل کو اپنانا ہوگا جنہیں اللہ تعالیٰ نے سارے عالمین کیلئے رحمت بناکر مبعوث فرمایا۔ شاہد رشید نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کا علاج رکھا ہے۔ نبی کریمؐ کے ارشاد مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اے اللہ کے بندو بیماریوں میں علاج کراؤ کیوں کہ اللہ تعالی نے کوئی ایسی بیماری نہیں بھیجی جس کا علاج نہ ہو۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں ہر بیماری کا علاج ہے۔ بیماروں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ آج اگر دنیا طب نبویؐ کو اپنائے تو کوئی بھی لا علاج مرض باقی نہیں رہے گا۔ انہوں نے آفتاب احمد خان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انکی تحقیق اور تجربے سے استفادہ کیا جائیگا اور عام لوگوں بالخصوص نئی نسلوں میں بیماریوں سے بچاؤ کیلئے شعور پیدا کیا جائیگا۔ 

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -